ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن ۔دہلی
قرآن مجید انسان کی صرف ظاہری زندگی کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ اس کے باطن کی اصلاح اور دل کی بیماریوں کا علاج بھی کرتا ہے۔ انسان بظاہر صحت مند ہو، لیکن اگر اس کے دل میں شک، نفاق، تکبر، حسد، بخل، مایوسی، غفلت، کینہ یا بے چینی جیسی بیماریاں گھر کر جائیں تو اس کی زندگی کا سکون اور کردار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے ان باطنی بیماریوں کی نشان دہی بھی کی ہے اور ان کے علاج کا راستہ بھی دکھایا ہے۔ اسی لیے اسے اللہ تعالیٰ نے شفاء اور رحمت قرار دیا ہے۔
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَائٌ وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِینَ۔ (الإسراء: 82)
’’اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَبِّکُمْ وَشِفَائٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ۔ (یونس: 57)
’’اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا آچکی ہے۔‘‘
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کا بنیادی دائرہ شفا انسان کا دل، فکر، اخلاق اور کردار ہے۔ جسمانی بیماریوں کے علاج کا اس نے دعویٰ نہیں کیا۔اس میں بخار ،نزلہ ،زکام ،اور سرطان کی کسی دواکا ذکر نہیں ہے ۔نہ اس میں جن بھوت بھگانے والے اوراد وظائف ہیں ۔اس کے برعکس قرآن انسان کی اس باطنی بیماری کو اصل اہمیت دیتا ہے جو اس کے عمل اور زندگی کو خراب کر دیتی ہے۔ قرآن انسان کی اصلاح کرکے اسے حقیقی صحت اور سکون عطا کرتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں بے شمار جسمانی بیماریوں کے ساتھ ایسی باطنی بیماریاں بھی عام ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں، مگر انسان کی پوری زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ قرآن مجید ان بیماریوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور ان کے علاج کی راہ بھی دکھاتا ہے۔
سب سے پہلی بیماری شک و تذبذب ہے۔ قرآن انسان کو یقین، ایمان اور اللہ پر اعتماد کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن غور و فکر اور سوالات کے درست جوابات کے ذریعے انسان کے ذہن سے شکوک دور کرتا اور اسے یقین کی دولت عطا کرتا ہے۔قرآن اس بیماری کا علاج تدبر اور عقلی بنیادوں پر فراہم کرتا ہے،انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ان سے سوالات کرتا ہے،پھر ان سولات کے جوابات سے ریب و تشکیک کا علاج کرتا ہے۔أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ أَمْ ہُمُ الْخَالِقُونَ (الطور:35)’’کیا وہ بغیر کسی خالق کے خود ہی پیدا ہو گئے ہیں یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟‘‘اسی طرح کائنات کی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنفُسِہِمْ (فصلت:53)’’ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اندر بھی۔‘‘
نفاق اور دوغلا پن بھی ایک خطرناک باطنی بیماری ہے۔ قرآن اسے دل کی بیماری قرار دیتا ہے:فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَہُمُ اللَّہُ مَرَضًا۔ (البقرۃ: 10)’’ان کے دلوں میں بیماری ہے، تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی۔‘‘
نفاق صرف زبان اور عمل کا تضاد نہیں بلکہ انسان کے اندر ایک ایسی خرابی پیدا کرتا ہے جس سے اخلاص، سچائی اور اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔نفاق کے علاج کے لیے قرآن سب سے پہلے اخلاص کی تعلیم دیتا ہے، یعنی انسان اپنے ایمان اور اعمال کو خالص اللہ کے لیے کرے:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ (البینۃ:5)’’اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘اسی کے ساتھ قرآن انسان کو اخلاص، تقویٰ اور اہلِ صدق کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ۔ (التوبۃ: 119)’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔‘‘
غرور و تکبر بھی انسان کی بڑی اخلاقی بیماری ہے۔ ابلیس نے تکبر ہی کی وجہ سے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ اس ضمن میںقرآن انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس کی پیدائش ایک معمولی مادے سے ہوئی اور اس کا جسم بھی اسی دنیا کے دوسرے انسانوں کی طرح ہے۔ اس لیے بڑائی کا دعویٰ اسے زیب نہیں دیتا۔وہ انسانوں سے سوالات کرتا ہے کہ یہ آسامن ،زمین ،دریا ،پہاڑ کس نے بنائے ہیں ،بارش کون برساتا ہے ؟پھل اور پھول کی عطا ہے ؟وہ کائنات کی جن چیزوں سے استفادہ کررہا ہے ،اس کے بنانے یا حاصل کرنے میں اس کا اپنا تو کوئی رول ہی نہیں ہے۔ان سوالوں کے ذریعہ اور کبر پر وار کرتا ہے ۔آخرانسان کس چیز پر اتراتاہے ؟
حسد اور جلن بھی دل کا سکون چھین لیتے ہیں۔ حسد کرنے والا دوسرے کی نعمت دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے خود اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے۔ قرآن انسان کو دوسروں کے بارے میں منفی جذبات کے بجائے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے اور اپنے لیے خیر طلب کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حسد کا علاج یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کو پہچانے، شکر ادا کرے اور دوسروں کے لیے بھی خیر چاہے۔قرآن انسان کے دل میں صحیح عقیدہ، قناعت اور اللہ پر کامل اعتماد پیدا کرکے کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ انسان کو یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم اللہ کے ہاتھ میں ہے: نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُم مَّعِیشَتَہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا (الزخرف:32) ’’ہم نے ہی ان کے درمیان ان کی روزی دنیا کی زندگی میں تقسیم کی ہے۔‘‘
حرص و بخل انسان کو مال کا غلام بنا دیتے ہیں۔ قرآن مجید مال کو زندگی کا مقصد بنانے کے بجائے اسے اللہ کی عطا سمجھنے اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انسان جب اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کے دل میں مال کی محبت کا غلبہ کم ہوتا ہے اور سخاوت، اطمینان اور حقیقی خوشی پیدا ہوتی ہے۔: وَأَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاکُم (البقرۃ:254) ’’جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ قرآن یہ ذہن نشین کراتا ہے کہ اصل کامیابی مال جمع کرنے میں نہیں بلکہ نفس کو بخل سے بچانے میں ہے: وَمَن یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر:9) ’’اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا، وہی کامیاب ہے۔‘‘
یاس اور قنوطیت بھی ایک خطرناک بیماری ہے۔ مشکلات اور ناکامیوں کے درمیان انسان کبھی کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے، حالاں کہ قرآن امید کا پیغام دیتا ہے:قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَیٰ أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ۔ (الزمر: 53)
’’کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔‘‘
قرآن انسان کو بتاتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے، اللہ کی رحمت وسیع ہے اور مومن کو ہر حال میں امید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ یہی امید انسان کو دوبارہ کھڑے ہونے اور جدوجہد کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ قرآن اہلِ ایمان کو اطمینان اور سکون کی بشارت دیتا ہے: لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ (البقرۃ:38) ’’نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ اس کے ساتھ توکل کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ انسان حالات کے بجائے اللہ پر بھروسہ کرے: وَعَلَی اللَّہِ فَتَوَکَّلُوا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ (المائدہ:23) ’’اگر تم مومن ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔‘‘ صبر وہمت جٹانے والوں کو اللہ خوش خبریہ سناتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے۔: إِنَّ اللَّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ (البقرۃ:153) ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
غفلت اور لاپروائی بھی انسان کو اس کے اصل مقصدِ زندگی سے دور کردیتی ہے۔ دنیا کی مصروفیات اسے آخرت سے غافل کردیتی ہیں اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اسے ایک دن اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ قرآن انسان کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ غفلت سے بچنے کی شعوری کوشش کرے: وَلَا تَکُن مِّنَ الْغَافِلِینَ (الأعراف:205) ’’اور غافلوں میں شامل نہ ہو۔‘‘ اس کے ساتھ آخرت کی یاد دہانی کے ذریعے انسان کو جھنجھوڑا جاتا ہے: وَاتَّقُوا یَوْمًا تُرْجَعُونَ فِیہِ إِلَی اللَّہِ (البقرۃ:281) ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ مزید برآں قرآن تدبر اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ انسان اپنی آنکھیں اور دل کھولے: أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (محمد:24) ’’کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟‘‘
بغض اور کینہ بھی انسان کے اندر بے سکونی پیدا کرتے ہیں۔ قرآن مجید اس بیماری کا علاج دل کی تطہیر، عفو و درگزر اور محبت و خیرخواہی کے جذبات کو فروغ دے کر کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ معافی اور درگزر کی تعلیم دیتا ہے: وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ (النور:22) ’’انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟‘‘
آج کے دور میں اضطراب، بے چینی اور ذہنی انتشار بھی ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ انسان دولت، آسائش اور سہولتیں حاصل کرنے کے باوجود سکون کی تلاش میں ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ حقیقی اطمینان محض دنیاوی وسائل سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے سے پیدا ہوتا ہے:الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُم بِذِکْرِ اللَّہِ۔ (الرعد: 28)
’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔‘‘
قرآن مجید کی تعلیمات کا اصل مقصد صرف چند مخصوص امراض کا ذکر کرنا نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کی اصلاح ہے۔ جب انسان قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ زندگی گزارنے کی کتاب سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے اندر یقین، اخلاص، تقویٰ، صبر، شکر، سخاوت، عفو و درگزر، حسنِ اخلاق اور اللہ پر توکل جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ یہی صفات اسے باطنی بیماریوں سے نجات دلا کر ایک متوازن اور پرسکون زندگی عطا کرتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کو محض ثواب کے لیے پڑھنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے پیغام کو سمجھا جائے، اس پر غور کیا جائے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ قرآن کے ساتھ تعلق جتنا مضبوط ہوگا، انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی زندگی اتنی ہی بہتر ہوگی۔ حقیقی شفا یہی ہے کہ انسان کا دل بدل جائے، اس کا کردار سنوار جائے اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی مل جائے۔
