محمد صادق انور ندوی
ہفتہ کے روز اپنے عزیز دوست عبدالحی بھائی کے ہمراہ مادرِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز کے بعد استادِ محترم جناب مولانا فخرالدین طیب ندوی صاحب کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ سلام و خیریت دریافت کرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اپنی کتاب ’’بنیادی اسلامیات (گھر گھر دین)‘‘ پیش کی۔
استادِ محترم نے کتاب کا سرسری مطالعہ فرمایا، کتاب کی پذیرائی کی اور اس حوالے سے نہایت مفید مشوروں سے نوازا۔ حضرت نے فرمایا:
’’کوشش کیجیے کہ اگر یہ کتاب مسلم اسکولوں میں باقاعدہ نصاب کا حصہ بن جائے تو بہتر ہوگا، تاکہ بنیادی اسلامیات نسلِ نو تک پہنچ سکے۔ مزید کوشش کریں کہ اس کتاب کی بنیاد پر کوئز پروگرام بھی منعقد کیے جائیں۔‘‘
حضرت نے مزید فرمایا کہ اس کتاب میں اسلام کی بنیادی تعلیمات اور ضروری دینی معلومات پیش کی گئی ہیں، جو مسلم بچوں کے لیے نہایت کارآمد اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
استادِ محترم سے دعائیں لے کر ہم دونوں رواقِ ابوالحسن کی جانب روانہ ہوئے۔ دوسری منزل پر پہنچ کر حضرت مولانا شمیم ندوی صاحب کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ سلام و مصافحہ اور خیریت دریافت کرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں کتاب پیش کی گئی۔
مولانا صاحب نے کتاب دیکھتے ہی خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور اس علمی و دینی کام کے لیے کی جانے والی محنت و لگن کو سراہا۔ اس موقع پر ذاتی مصروفیات اور تعلیمی سلسلے کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، جس کے دوران حضرت نے استقامت کے ساتھ اپنے تعلیمی و علمی سفر کو جاری رکھنے کی تلقین فرمائی۔
دوسرے روز اساتذہ کی خدمت میں حاضری
اگلے روز، یعنی اتوار کو، ہم دونوں ساتھی ایک مرتبہ پھر مادرِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی جانب روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے شعبۂ تفسیر کی طرف قدم بڑھایا۔ زینے طے کرتے ہوئے ہم استادِ محترم، حضرت مولانا و مفسر سید صہیب حسینی ندوی صاحب کی خدمت میں پہنچے۔
سلام و مصافحہ کے بعد مختصر تعارف کروایا، کیونکہ فراغت کے بعد حضرت سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی۔ جب اپنا سنِ فراغت بتایا اور اپنی پہلی کتاب پر حضرت کے قیمتی مقدمے کا حوالہ دیا تو حضرت نے پہچان لیا۔ اس کے بعد بیٹھ کر اپنی کتاب ’’بنیادی اسلامیات (گھر گھر دین)‘‘ پیش کی۔
حضرت نے کتاب پر بڑی خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور بر وقت اس کا سرسری مطالعہ بھی کیا۔ کتاب کی ترتیب اور بچوں کی ذہنی سطح و فہم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کارِ خیر کو سراہا اور فرمایا:
’’یہ بڑی محنت کا کام ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب بچوں، نوآموز طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ دین سے ناواقف عوام کے لیے بھی بے حد مفید اور سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
استادِ محترم نے مزید مفید مشوروں سے نوازا اور فرمایا کہ اگر مسنون دعاؤں وغیرہ کے حوالہ جات بھی درج کر دیے جائیں تو یہ مزید بہتر ہوگا۔
آخر میں حضرت نے احقر کو دعاؤں سے نوازا اور دعا فرمائی:
’’باری تعالیٰ اس کتاب کو عوام کے لیے نفع بخش بنانے کے ساتھ ساتھ مؤلف کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔‘‘
آمین یا رب العالمین۔ 🤲
ہم دونوں ساتھی اپنے اساتذۂ کرام کی محبت، حوصلہ افزائی، قیمتی مشوروں اور دعاؤں کو اپنے لیے سرمایۂ سعادت سمجھتے ہوئے وہاں سے واپس ہوئے۔
اساتذۂ کرام کی شفقتیں اور دعائیں علمی و دینی سفر میں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی توقعات پر پورا اترنے، اخلاص و استقامت کے ساتھ دین کی خدمت کرنے اور اپنی اس معمولی کاوش کو امت کے لیے نفع بخش بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
