مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
نائب صدر، تنظیم أبناء ندوہ بہار

مشرق وسطی کےدو معا ہدوں کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی ہے۔ایک تو معاہدہ ابراہیمی ہے جو پچھلے پانچ سالوں سے موضوع سخن ہے، دوسرا مکہ معاہدہ ہے جو حالیہ کچھ دنوں سے موضوع بحث بنا ہے۔معاہدہ ابراہیمی بظاہر اپنے نام سے ایک خوبصورت معاہدہ کا تصور دیتا ہےمگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔امریکہ نے اسےخوبصورت بناکر عرب ممالک کے سامنے ۲۰۲۰ ء پیش کیا اور یہ باور کرایا تھا کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات سے معاہدہ عرب ممالک میں بے پناہ ترقی ہوگی،اور خطہ میں امن و امان قائم ہوجائے گا، نیز دبے لہجے میں ایران کے بڑھتے ہوئے علاقی رسوخ کو بھی خطرہ بتاکر معاہدہ ابراہیمی کو اس کا حل بناکر پیش کیا گیا تھا، جبکہ درحقیقت یہ ایک بڑی سازش تھی جس کو معاہدہ کا نام دیکر اسرائیل نے مسئلہ فلسطین سے عرب ممالک کو ہمیشہ کے لئے دستبردار کرنے کی سعی منحوس کی تھی،وقتی طور پر اس میں جزوی کامیابی بھی اس کے ہاتھ آئی وہ اس طور پر کہ متحدہ عرب امارات نے اس معاہدے پر دستخط کردیا، وہاں اسرائیل کا سفارت خانہ کھل گیا، پھر بحرین اور مراکش نے بھی اس سےاس معاہدے سے اتفاق کرلیا، قریب تھا کہ یکے بعد دیگرے مزید عرب ممالک اس جال میں پھنستے مگر طوفان اقصیٰ نے اس کھیل کو بگاڑ دیا۔بہت سے لوگ اس بات سے اب بھی حیران ہیں کہ آخر مٹھی بھر لوگوں نے کیوں اسرائیل جیسی جارح حکومت سے پنگا لیا اور اپنے کو اور پوری قوم کو موت کے منھ میں دھکیل دیا اس کی وجہ بھی دراصل یہی معاہدہ ابراہیمی ہے۔چونکہ اس کے ذریعے ہمیشہ کے لئے قضیہ فلسطین کو دفن کرنا تھا، بروقت بیدار مغز فلسطینیوں نے اسے محسوس کرلیا اور موت کے پنجے میں ہاتھ ڈال کر پھر پوری دنیا کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرا لیا۔اگر چہ اس کی بھاری قیمت انہیں چکانی پڑی پورا غزہ تہس نہس کردیا گیا، اور ہزاروں معصوم انسانوں کی جانی قربانیاں انہیں برداشت کرنی پڑی مگر معاہدہ ابراہیمی کا لالی پاپ سے عرب ممالک ہوشیار ہوگئے اور اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جسے عرب ممالک کے لئے بڑا خطرہ بناکر پیش کیا گیا تھا وہ ایران تھا، اس پر اسرائیل وامريکہ نے مل کر حملہ کردیا، اس کے جواب میں ایران نے عرب ممالک میں واقع امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، بار بار امریکہ و اسرائیل نے یہ کوشش کی کہ اس جنگ میں ایران کے خلاف عرب ممالک کو بھی لایا جائے مگر اس میں بھی کامیابی نہیں ملی اور ایران یہ باور کرانے میں کامیاب رہا کہ اس کی پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے وہ صرف اور صرف امریکہ اور اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور اس کے خلاف یہ رد عمل ہے۔یہ دوسری ناکامی امریکہ کو ملی۔
ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے آپس میں ایک معاہدہ کیا اور اس کا نام :مکہ معاہدہ” رکھا۔اس معاہدے کو بھی یہ کہ کر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ دراصل ایران کے خلاف اتحاد ہے جو مکہ معاہدہ کی شکل میں عمل میں آیا ہے۔ بحمداللہ اس تعلق سے یہ جھوٹ بھی اب آشکارا ہوگیا ہے وہ اس لئے کہ اب ایران بھی اس میں شامل ہونے جارہا ہے۔گزشتہ ۲۶/اکتوبر کو سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بھائی ہیں ان کی قیادت میں وہاں کے اہم ترین حکومتی ذمہ داران پر مشتمل ایک وفد نے ایران کا دورہ کیا ہے۔ترکی اور پاکستان کے وفود نے بھی اس میں شرکت کی، ایرانی صدر کے ساتھ انکی بہت ہی اہم نشست ملک کی راجدھانی تہران میں ہوئی، اور مٹنگ کے بعد وہی بات جو ایران پہلے سے کہتا آرہا ہے، اور چینی صدر شی جنگ نے ابھی کچھ دنوں قاہرہ دورہ کے درمیان کہا ہے کہ مشرق وسطی کے ممالک اپنے دفاع اور سلامتی کے لئے خود مختار اور خود انحصار سیکورٹی نظام تشکیل دیں، اس پر مذکورہ ممالک کا اتفاق ہوگیا ہے،نیزدوٹوک انداز میں انہوں نےیہ اعلان کیا کہ ہم بیرونی مداخلت نہیں چاہتے ہیں، ہم اپنا فیصلہ اب خود کریں گے۔
اس مٹنگ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسرائیل پورے خطے میں بد امنی کا ذمہ دار ہے اس بات پر ان کا مکمل اتفاق ہوگیا ہے۔اور یہ مطالبہ بھی نشست کے بعد کیا گیا کہ غزہ پٹی سے اسے نکالا جائے، مغربی کنارے سے وہ نکل جائے، سیریا سے وہ نکل جائے، یہ بہت ہی اہم ہے۔ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ مکہ معاہدہ عرب ممالک کا ایک مضبوط بلاک بننے جارہا ہے اور ان ممالک کو اس کا بھی اعتراف ہے کہ بغیر ایران کی شمولیت کے میڈل ایسٹ کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل نےصرف فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کیا ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ عرب ممالک کی زمین دبائے بیٹھا ہے۔ مصر، اردن اور شام ولبنان کی زمین اسرائیل کےقبضے میں ہے۔عرب وإسرائيل کی چھ روزہ جنگ میں مصر کے کوہ سینا، اردن سے مغربی کنارہ مع بیت المقدس کے اور سیریا سے گولان کی پہاڑیاں اس نے چھین لی تھی اور آج تک اس پر قابض وغاصب ہے، گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کرکے ہرروز اپنے مشن کو آگے بڑھاتا جارہا ہے۔ایسے میں عرب ممالک کا یہ اتحاد اور ایران کی اسمیں شمولیت بہت ہی خوش آئند ہے۔انہوں نے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچان لیا ہے،کلمہ واحدہ کی بنیاد یہ یہ انکا اتحاد ہے،جزوی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان ممالک نے قرآن کریم کی اس آیت:”اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو "پر عمل کیا ہے،قبلہ اولی سے انہیں دستبردار کرنے کی جو چال چلی گئی تھی اس کا عملی جواب انہوں نے دیدیا ہے، گویا مکہ معاہدہ معاہدہ ابراہیمی کا عملی جواب ہے۔اس وقت جسے امریکی صدر نے ایک جنگجو وزیر اعظم کا خطاب دیکر الیکش میں اس کی مکمل حمایت کی تھی اس کی ہار کی خبر آرہی ہے تو دوسری طرف یہ معاہدہ اس کی سازش کو ناکام بنانے والا اور اس کے حق میں شکست فاش ہے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کےساحل سے لیکرتابخاک کاشغر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے