ابن محمد اسلم

از۔۔۔۔۔ ابن محمد اسلم الہ آبادی

’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ کہنے والوں کے فکری غرور کا جواب

ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا ہے جسے مذہب پر گفتگو کرتے ہوئے کسی سند، مطالعے یا علمی تربیت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسلام کے احکام پر تبصرے، علماء پر اعتراضات اور فقہا کے فیصلوں پر فتوے چند ادھوری معلومات کی بنیاد پر صادر کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ جب سائنس، خصوصاً طب کے کسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں تو فوراً یاد دلاتے ہیں کہ اس میدان میں برسوں کی تعلیم، تحقیق اور تجربہ درکار ہوتا ہے۔
یہ کیسا Double Standard (دوہرا معیار) ہے؟ ڈاکٹر کی محنت ہمیں نظر آتی ہے، مگر فقیہ کی علمی جدوجہد دکھائی نہیں دیتی؟ سائنس دان کی مہارت ہمارے نزدیک قابلِ احترام ہے، مگر درسِ نظامی کے ایک سنجیدہ طالب علم کی برسوں کی تعلیم ہماری نگاہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتی؟ اور جب دلیل کا جواب نہ بن پڑے تو ایک جملہ اچھال دیا جاتا ہے: ’’ملا کی دوڑ مسجد تک!‘‘یہ جملہ کہنے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ مسجد کے منبر تک پہنچنے سے پہلے ایک عالم نے کتنی کتابیں پڑھی ہیں، کتنے اسباق سمجھے ہیں، کتنی عبارتیں حل کی ہیں، کتنے اختلافات کا مطالعہ کیا ہے اور کتنی راتیں علمی مسائل میں صرف کی ہیں۔ ہر عالم ہر فن کا ماہر نہیں ہوتا، لیکن کسی پورے علمی طبقے کو ایک تحقیر آمیز فقرے میں سمیٹ دینا کس عقل، کس انصاف اور کس علمی اخلاق کا تقاضا ہے؟Science اور scientismفرق سمجھنا ضروری ہےScience (سائنس)مشاہدے، تجربے اور تحقیق کے ذریعے قدرتی دنیا کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ طب، طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات میں اس نے انسان کو بے شمار فوائد پہنچائے ہیں۔ اس کی کامیابیوں کا انکار نہ معقول ہے، نہ ضروری۔
لیکن Scientism (سائنٹزم) ایک الگ چیز ہے۔ اس سے مراد وہ نظریاتی رجحان ہے جس میں سائنسی طریقے کو علم کا واحد یا ہر دوسرے طریقے سے برتر راستہ سمجھ لیا جاتا ہے، اور مذہب، فلسفے، اخلاقیات اور دوسرے علوم کو اسی ایک پیمانے پر پرکھ کر ان کی علمی حیثیت کم کر دی جاتی ہے۔
سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ کسی دوا کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؛ لیکن یہ سوال کہ کسی دوا کو استعمال کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں، یا انسان کو اپنی زندگی کن اخلاقی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہیے، صرف تجربہ گاہ کے نتائج سے طے نہیں ہوتا۔ یہاں اخلاقی استدلال اور دوسرے علمی ذرائع بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اسی طرح سائنسی تحقیق یہ بتا سکتی ہے کہ کوئی واقعہ طبیعی طور پر کیسے پیش آیا، لیکن ہر مابعد الطبیعیاتی سوال کو محض تجربے کی کسوٹی پر حل کر دینا ممکن نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مذہبی دعویٰ درست ہے یا مذہب سے متعلق ہر سوال سائنسی تحقیق سے بالاتر ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ہر سوال کا جواب اس کے مناسب علمی طریقے اور متعلقہ دلائل کی روشنی میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ سائنس ایک عظیم ذریعۂ علم ہے، مگر اسے تمام علم کی واحد عدالت بنا دینا خود ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے، سائنسی تجربے کا لازمی نتیجہ نہیں۔اور یاد رکھیے، ہر سائنس دان سائنٹزم کا قائل نہیں ہوتا۔ بہت سے سائنس دان اپنے میدان کی حدود سے واقف ہوتے ہیں۔ ہمارا اعتراض سائنس یا سائنس دانوں پر نہیں، بلکہ اس ذہنی غرور پر ہے جو سائنس کا نام لے کر دوسرے علوم کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
فقہا کی محنت کیا واقعی معمولی ہے؟ درسِ نظامی کے سنجیدہ طالب علم کا سفر عربی زبان و ادب، نحو و صرف، منطق، اصولِ فقہ، فقہ، حدیث، تفسیر اور دوسرے علوم سے گزرتا ہے۔ ان علوم میں مہارت محض کتابوں کے نام یاد کر لینے سے حاصل نہیں ہوتی؛ اس کے لیے مسلسل مطالعہ، اساتذہ کی رہنمائی، عبارت فہمی، استدلال اور علمی مشق درکار ہوتی ہے۔
ایک فقیہ جب کسی مسئلے کا حکم بیان کرتا ہے تو اس کے سامنے صرف ایک عبارت نہیں ہوتی۔ اسے قرآن و حدیث سے متعلق دلائل، زبان کے تقاضوں، اصولِ استنباط، سابقہ فقہی آرا، ان کے دلائل اور بظاہر مختلف نصوص کے باہمی تعلق کو دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ کبھی ایک مسئلے کی تحقیق کے لیے متعدد کتابوں کا مطالعہ، مختلف اقوال کا تقابل اور دلیل کی قوت و کمزوری کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔
محدثین نے روایتوں اور راویوں کے حالات کی تحقیق کے لیے اصول مرتب کیے۔ مفسرین نے قرآن فہمی میں زبان، سیاق و سباق، حدیث اور دیگر متعلقہ علوم سے مدد لی۔ فقہا نے مسائل کے استنباط اور ان کے حل کے لیے علمی طریقے وضع کیے۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے نسلوں کی محنت، علمی اختلاف، تحقیق اور تصنیف کی طویل تاریخ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم کسی ڈاکٹر سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ طبی مسئلے پر بات کرتے ہوئے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر گفتگو کرے، تو کیا ہمیں کسی فقیہ کے علمی استدلال کو سمجھنے کے لیے بھی سنجیدہ مطالعے کی ضرورت نہیں؟ کیا چند وڈیوز دیکھ لینے یا چند مضامین پڑھ لینے سے ہم صدیوں کی فقہی تحقیق کے منصف بن جاتے ہیں؟Access to Information is not the Same as Expertise. معلومات تک رسائی، کسی فن میں مہارت حاصل کر لینے کے برابر نہیں۔ انٹرنیٹ نے معلومات تک پہنچنا آسان بنایا ہے، ماہر بن جانا نہیں۔ چند طبی مضامین پڑھ کر کوئی شخص ڈاکٹر نہیں بن جاتا، اور چند مذہبی تحریریں پڑھ کر کوئی شخص فقہ کی پوری روایت پر فیصلہ صادر کرنے کا اہل نہیں ہو جاتا۔
’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ یا ہماری اپنی محدود نگاہ؟ہم میں سے بعض لوگ ایک عالم کو دیکھ کر فوراً کہہ دیتے ہیں کہ اس کی دنیا مسجد اور مدرسے تک محدود ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کن علوم سے گزرا ہے؟ کن علمی مسائل پر اس نے مطالعہ کیا ہے؟ کن کتابوں سے استفادہ کیا ہے؟ کن دلائل کو سمجھنے اور ان میں تطبیق دینے کی مشق کی ہے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مذہبی تعلیم یافتہ شخص ہر جدید علم کا ماہر نہیں، جیسے ہر ڈاکٹر فلسفے، معاشیات یا قانون کا ماہر نہیں ہوتا۔ لیکن کسی شخص کی ایک میدان میں محدود مہارت سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ اس کی تمام علمی تربیت بے کار ہے، ایک غیر معقول چھلانگ ہے۔
اگر ایک عالم طب کے مسئلے میں طبی ماہر کی طرف رجوع کرے تو یہ اس کے علم کی کمزوری نہیں، بلکہ علمی دیانت ہے۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر اگر پیچیدہ فقہی مسئلے میں مستند فقیہ سے رجوع کرے تو یہ بھی عقل مندی ہے۔ معاشرے کو اسی تقسیمِ کار کی ضرورت ہے: ہر شخص اپنے میدان کی مہارت حاصل کرے اور دوسرے کے علم کی قدر کرنا سیکھے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ علماء کی علمی روایت نے صرف عبادات کے مسائل پر گفتگو نہیں کی؛ اس میں زبان، منطق، استدلال، اصول، تاریخ اور انسانی فکر کے مختلف پہلوؤں پر وسیع علمی کام ہوا ہے۔ اس روایت کے ہر نتیجے سے اتفاق لازم نہیں، لیکن اس کا مطالعہ کیے بغیر اسے فرسودہ کہہ دینا تحقیق نہیں، تعصب ہے۔
ہم کسی عالم کو معصوم نہیں سمجھتے، نہ کسی فقیہ کی ہر رائے کو تنقید سے بالاتر قرار دیتے ہیں۔ علماء سے سوال کیجیے، ان کے دلائل کا جائزہ لیجیے، ان کی آرا سے اختلاف کیجیے۔ لیکن یہ سب علم، دلیل اور انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اسی اصول کا اطلاق سائنس پر بھی ہوتا ہے۔ کسی سائنسی دعوے کو سوال سے بالاتر سمجھنا درست نہیں، لیکن بغیر علم کے ہر تحقیق کو رد کر دینا بھی درست نہیں۔ Respect for Expertise does not mean Blind Acceptance؛ ماہر کا احترام اندھی تقلید نہیں، بلکہ اس کی اہلیت اور دلیل کو سنجیدگی سے لینا ہے۔
لہٰذا سائنسی بت کو پاش پاش کرنے کا مطلب سائنس کی مخالفت نہیں۔ اس کا مطلب اس ذہنی بت کو توڑنا ہے جس کے سامنے ایک سائنس دان کی محنت تو قابلِ احترام ہے، مگر ایک فقیہ کی عمر بھر کی تحقیق بے معنی؛ ایک ڈاکٹر کی مہارت تو تسلیم کی جاتی ہے، مگر عالم کی علمی تربیت کو مذاق بنا دیا جاتا ہے۔
ہمیں سائنس سے نہیں، Scientism کے اس غلو سے اختلاف ہے جو ایک مخصوص طریقۂ تحقیق کو علم کی واحد کسوٹی بنا کر باقی علوم کی قدر گھٹاتا ہے۔ ہمیں علماء کی اندھی تقدیس نہیں چاہیے، لیکن ان کی علمی محنت کی اندھی تحقیر بھی قبول نہیں۔
جو شخص علم کا احترام کرتا ہے، اسے اپنے علم کی حدود کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ ’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ کہنے سے پہلے یہ بھی سوچیے کہ شاید آپ کی اپنی دوڑ چند مضامین، چند وڈیوز اور چند طنزیہ جملوں تک محدود ہو۔ علماء سے اختلاف کرنا آسان ہے؛ ان کے علمی کام کو سمجھنا محنت مانگتا ہے۔ اور یہی وہ فرق ہے جسے سمجھنا ہمارے عہد کے فکری غرور کے لیے سب سے ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے