تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی 

دو سگے بھائیوں کے درمیان بڑی محبت تھی لیکن چھوٹے بھائی کے دوست یار کچھ بگڑے اور رنگین مزاج تھے ایک دن چوراہے پر چھوٹا بھائی ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ نوشی کررہا تھا کہ بڑے بھائی نے اسے دیکھا اور ایک تھپڑ ماردیا اور کہا کہ تو بگڑتا چار ہا ہے آخر کام دھندا کب کرے گا اب چھوٹے بھائی کو غصہ آگیا مقابلے میں کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ تھپڑ میں بھی مارسکتا ہوں لیکن آپ بڑے بھائی ہیں اس لئے خاموش رہ گیا دوسری بات یہ ہے کہ بڑے بھائی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سرے عام آپ میری بے عزتی کریں بڑا بھائی واپس ہوگیا اور اپنے ایک دوست کے گھر جاکر اداس بیٹھا تھا تو اس کے دوست نے پوچھا کہ کیوں اداس اور خاموش ہو تو اس نے ساری بات بتائی تو دوست نے کہا گھر جاکر اسے سنجیدگی سے سمجھاؤ کہیں ہاتھ سے نکل نہ جائے،، ادھر چھوٹے بھائی کے دوست اسے بھڑکا رہے رہے تھے کہ تمہارے والد کا انتقال ہوچکا ہے اب تم اپنے بھائی سے ہر چیز دوحصوں میں تقسم کرا لو،،

بڑا بھائی گھر پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ سارا سامان بکھرا پڑا ہے اور ایک کرسی پر چھوٹا بھائی بیٹھا ہے بڑے بھائی نے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے تو غصے میں چور چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ بس اب میں بڑا ہوگیا ہوں آپ کی دخل اندازی برداشت نہیں کرسکتا ہمارے باپ نہیں ہیں زمین کے کاغذات لاؤ اور سب کچھ دو حصوں میں تقسیم کرو آپ کا راستہ الگ اور میرا راستہ الگ،، بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کا کاندھا پکڑ کر کہا کہ تو بہت چھوٹا تھا اور ہمارے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا میں نے اپنے پیروں پر تجھے کھڑا کرکے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے تیرا ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھایا ماں بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی میں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا پکا کر تجھے کھلایا، پڑھایا لکھایا ابھی ہم دونوں کے سروں پر سہرا بھی نہیں سجا ہے میں تو چاہتا ہوں کہ تو کسی غلط راستے پر نہ چلے، کسی مشکل میں نہ پھنسے ایک باپ کی طرح میں نے تیری پرورش کی ہے آنکھوں سے آنسوؤں کو پوچھتے ہوئے کہتا ہے کہ بہر حال تو بڑا ہو گیا ہے ٹھہر میں ابھی زمین کے کاغذات لاتا ہوں اور کاغذات لانے کے بعد درمیان سے ایک لکیر کھینچ دی اور کہا کہ جو تو چاہے لے لے اور سدا خوش رہنا، اپنا خیال رکھنا اور کسی غلط راستے پر نہ چلنا یہ کہہ کر بڑا بھائی ابھی مڑا ہی تھا کہ اس کی باتیں چھوٹے بھائی کے دل پر اثر انداز ہو گئیں اور روتے ہوئے اٹھتا ہے، دوڑ کر بڑے بھائی کا ہاتھ پکڑتا ہے اور کہتا ہے کہ بھائی مجھے معاف کر دو مجھے زمین نہیں چاہئے بلکہ آپ جیسا بھائی چاہئے اب ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے بڑے بھائی نے بھی پیشانی چوما اور گلے سے لگالیا –

 بھائی بھی ایک نعمت ہے، ایک دولت ہے،ایک مضبوط بازو ہے، ایک اعتماد ہے،، بھائی گر جائے تو اٹھا لو تھک جائے تو سہارا دو غلطی ہو جائے تو معاف کر دو کیونکہ بھائی آخر بھائی ہوتا ہے بوجھ نہیں،، جب بھائی ساتھ ہو تو پیٹھ سونی نہیں رہتی وہ ہر وار اپنے سینے پر جھیل لیتا ہے بھائی دوست ہے، بھائی ڈھال ہے، بھائی ہمت ہے، بھائی طاقت ہے اس لیے دنیا کی باتوں میں آکر کبھی اپنے بھائی کا ساتھ مت چھوڑنا ہمیشہ ایک اچھے سائے کی طرح اس کے ساتھ رہنا –

افسوس صد افسوس کہ آج سارے رشتے ناطے کی اہمیت تحریری و تقریری فلم نما شکل میں صرف سوشل میڈیا دکھائی اور بتائی جاتی ہیں زمینی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو بھائی بھائی کے درمیان لڑائی جھگڑا اور دشمنی حد سے زیادہ نظر آتی ہیں زمین کا جھگڑا، لین دین کا جھگڑا، کام کرنے نہ کرنے کا جھگڑا، بیوی بچوں کے نام پر جھگڑا اور اس دشمنی کی آگ میں امیری غریبی کا نشہ و گھمنڈ تیل اور گھی کا رول ادا کرتا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ سوشل میڈیا پر والدین، رشتہ دار، عزیز واقارب کے ساتھ جو محبت، عقیدت و احترام دکھایا جاتا ہے وہ سوشل میڈیا سے زیادہ عملی طور پر ہونا چاہئے تاکہ معاشرہ پوری طرح صاف شفاف اور صحت مند ہوسکے_

      +++++++++++++++++++++++++

جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے