مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
ہماری زندگی میں بہت کچھ اچھا ہوتا ہے اور بہت کچھ بُرا بھی، اچھائیوں سے خوشی ملتی ہے اور ناکامیوں سے غم کی کیفیت میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے، اسے لگتا ہے کہ اگر وہ اس کام کو اس طرح کر لیتا تو ناکامی مقدر نہیں ہوتی، مثل مشہور ہے "قہردرویش برجان درویش”، اس احساس کی وجہ سے اس پر جھنجھلاہٹ طاری ہوتی ہے، ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ سب مظاہر ہوتے ہیں خود سے ناراضگی کے، ہر وقت خود کوستے رہنا، اپنے کو نا کارہ سمجھ لینا اچھی بات نہیں ہے، اس کی وجہ سے کام کرنے ہی نہیں، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے، اپنی کمیوں، کوتاہیوں اور غلطیوں کی تلاش اچھا کام ہے، تاکہ اسے دہرانے سے بچا جائے، لیکن ہر دم اس میں الجھے رہنا، خود سے مایوس ہو جانا اچھی بات نہیں۔
خود سے ناراضگی دراصل ایک طرح کا اشارہ ہے، جو ہم سے چاہتا ہے کہ ہم آئندہ کچھ اچھا کریں اور یہ کہ ہمیں اپنی امیدوں پر کھرے اترنا چاہیے، یہ چند بات اچھے بھی ہیں اور قیمتی بھی، پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب ہم ان جذبات، احساسات اور خیالات سے دامن بچا کر گزر جانا چاہتے ہیں، غلطیاں ہم سے اس طرح چمٹ جاتی ہیں کہ وہ ہماری پہچان بن جاتی ہیں، غلطی کرنا اور غلطی کو اپنی پہچان بنا لینا الگ الگ باتیں ہیں، جب آپ کسی غلطی کو اپنی پہچان بنا لیتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ دوسروں سے کم تر ہیں، آپ کو اس کا خوف بھی ستانے لگتا ہے کہ ہماری کمیاں دوسروں کی نظر میں نہ آ جائیں، ایسے میں آپ اپنی خوشیوں کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے کو خوش کرنے میں لگ جاتے ہیں، اپنی ناراضگی کو مستقل اور مسلسل دبائے رکھنے کے لیے اپنے کو ضروری اور کبھی غیر ضروری کاموں میں مشغول کر لیتے ہیں، اس کی وجہ سے آپ کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور آپ اپنے ہدف سے دور ہو جاتے ہیں، کیوں کہ ذہنی تناؤ سے بچنے کے لیے آپ وقتی خوشی دینے والے کاموں مثلاً فلم بینی، گانے بجانے وغیرہ کا سہارا لینے لگتے ہیں، جس سے آپ کے کام کا بہت سارا وقت برباد ہو جاتا ہے، آپ اپنی پریشانی میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ دوسروں کی پریشانیوں کو سمجھنا اور ان کے تئیں حساس ہونا مشکل ہی نہیں، ناممکن سا ہو جاتا ہے، اس لیے دوسروں کے تبصرے اور رایوں پر زیادہ توجہ نہ دیں، کیوں کہ وہ آپ کے بارے میں زیادہ جانتے نہیں ہیں، ان کے لیے ایک حد مقرر کریں جو آپ کی توانائی اور وقت کا غلط استعمال کرتے رہتے ہیں، ہر تبصرہ پر اپنا ایکشن دنیا آپ کو غیر ضروری کاموں میں الجھا دیتا ہے اور الجھن آپ کی خود پر ناراضگی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
الجھن اور دماغی تناؤ کو دور کرنے کے لیے کئی لوگ نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجہ میں وقتی سکون محسوس ہوتا ہے، لیکن وہ دیرپا رنج و الم اور بربادی صحت کا ذریعہ بن جاتا ہے، جو کمزوریاں آپ کے اندر ہیں اس کا اقرار کرنا بھی آپ کے ذہنی تناؤ کو کم کرتا ہے، اپنی غلطیوں پر دوسرے سے الجھنے کے بجائے معافی مانگ لینا اور سوری کہہ دینا ایک شریفانہ عمل ہے، اس چھوٹے سے لفظ سے آپ کی بہت ساری پریشانیاں پلک جھپکتے دور ہو جاتی ہیں، معافی کا مطلب کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونا نہیں ہے، بلکہ اس عمل سے آپ اپنے بوجھ کو ہلکا کر پاتے ہیں، آپ کی غلطیوں کے سمجھنے کا مطلب دوسروں کی غلطیوں پر حساس ہونا ہے، جس سے ایک دوسرے کو معاف کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا، آپ بھی دماغی تناؤ سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی اس سے فائدہ ہوگا، اپنی ناراضگی دور کرنے میں اپنے لیے وقت فارغ کرنا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، ہر وقت کام اور صرف کام کی لگن اور پھر اس میں ناکامی ہاتھ آ جائے تو ہم خود کو مایوسی کے دلدل سے باہر نہیں نکال پاتے، اگر ہم تھوڑا آرام کر لیں، پھر دوبارہ کام شروع کریں تو کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے اور جوور کاٹیں پیدا ہو گئی تھیں، اس کا حل سامنے آ جاتا ہے، کبھی آپ ناکام بھی ہو سکتے ہیں، اس پہلو کو بھی سامنے رکھیں تو خود پر ناراضگی نہیں ہوگی، اس لیے کہ آپ نے کام سے پہلے اس رخ پر بھی بار بار سوچا تھا، ایسے میں ناکامی کا احساس کم ہوگا اور آپ نئی قوت و توانائی کے ساتھ کامیابی کے راستے پر چلنے کے لیے مزید جدوجہد شروع کر سکیں گے، یہ تجربہ کے ایک حصے کے طور پر بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔
کامیابی کے اونچے خواب دیکھنااچھی بات ہے، لیکن خواب تو پل میں ٹوٹ اور بکھر جاتے ہیں، ان خوابوں کو زمین پر اتارنے کے لیے جو کوشش آپ کریں گے وہی آپ کی اصل پونجی اور سرمایہ ہے، آپ اس سرمائے کی مدد سے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے، آپ نہ احساسِ کمتری کے شکار ہوں اور نہ احساسِ برتری کے، آپ کو ہر وقت اس بات کی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ہمیں خود کو ثابت کرنا ہے، یہ ہم کوئی غیر معمولی آدمی ہیں، بچوں کی طرح ہنسنے، کھیلنے، گھومنے، پھرنے کے لیے بھی اپنی مشغولیات میں وقت نکالیے، کیوں کہ زندگی صرف حصولیابیوں اور ناکامیوں کا نام نہیں ہے، زندگی اس سے بہت اوپر کی چیز ہے، اس لیے اپنے اوپر ناراض ہونا چھوڑیئے اور آگے کی طرف تیز گام ہونا سیکھیے، اچھائیاں ہمارے اندر ہی بستی ہیں، اس کو اپنے اندر ڈھونڈیے، باہر نہیں، کیوں کہ اس دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، کوئی خرابی صحت کی وجہ سے ہے، کوئی من سے، کوئی دولت کی حرس و ہوس سے، اس لیے خود کو اللہ کے حوالے کیجیے، اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلیے کہ وہی صراط مستقیم ہے۔
زندگی میں یہ بات اہم ہے کہ آپ کتنی بار گرے، اہم یہ ہے کہ گرنے کے بعد کتنی جلدی سنبھلنے اور اٹھنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔
اس کام کے لیے خود اعتمادی اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی روشنی میں ہم اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں، نفسیاتی طور پر اطمینان اور ناکامی سے سبق لینا بھی اس کام میں معاون اور مددگار رہتا ہے، زندگی میں ہر بار ہماری فتح ہو ایسا ممکن نہیں ہے، لیکن ہارنے کے بعد سنبھلنا، اس سے سبق حاصل کرنا، نئے سرے سے محنت اور کوشش کرنا یہ ہمارے ہاتھ میں ہے، اس کے ذریعہ ہم اپنی خود پر ناراضگی کو دور کر سکتے ہیں، پھر کامیابی ہمارا مقدر ہوگی۔
