محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا، ضلع پرولیا، مغربی بنگال)
زندگی کا اصل حسن اور معاشرتی امن رشتوں کے تقدس، باہمی احترام اور ایثار میں پوشیدہ ہے۔ والدین، بہن بھائی، چچا، تایا، ماموں اور خالہ جیسے خونی رشتوں کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی میں کچھ ایسے نازک مگر نہایت اہم ناطے بھی جڑتے ہیں جنہیں خاص حکمت، ظرف اور فہم و فراست کے ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے، اور وہ ہیں ’’سسرالی رشتے‘‘۔
ہمارے معاشرے میں ایک مرد عموماً ان رشتوں کو فراخ دلی اور توازن کے ساتھ نبھانے میں کامیاب رہتا ہے۔ وہ اپنی خوشدامن (ساس)، خسر (سسر)، سالے، سالیوں اور دیگر سسرالی متعلقین کے ساتھ بلند اخلاق اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرکے ایک باوقار کردار ادا کر لیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسی معاشرے میں عورت کے لیے سسرالی رشتوں میں خود کو ہم آہنگ کرنا اکثر ایک کٹھن آزمائش بن جاتا ہے۔ شادی کے بعد ایک لڑکی کا سب سے قریبی، مسلسل اور بسا اوقات تلخ واسطہ اپنے شوہر کی والدہ یعنی ساس سے پڑتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ذرا سی بے احتیاطی گھر کے امن کو تہ و بالا کر دیتی ہے۔
ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ ایک پورے خاندان کی تعمیر، تشکیل اور استحکام کے لیے اپنی ذات، خوشیوں اور خوابوں کی قربانی دینے والی ہستی کون ہوتی ہے؟ دنیا گواہ ہے کہ وہ عظیم المرتبت ہستی صرف اور صرف ’’ماں‘‘ ہے۔ وہ ماں جو اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر اپنوں کے سکھ کی خاطر جلتی دھوپ میں سایہ بنتی ہے، اپنی عمر کی تمام تر پونجی اولاد کی ضروریات پر نچھاور کر دیتی ہے، اور پھر معاشرے کی ہزاروں لڑکیوں میں سے اپنے لختِ جگر کے لیے ایک لڑکی کا انتخاب کرتی ہے۔ وہ دل میں لاکھوں ارمان بسائے، تمام تر وسائل اور نیتی رواج کو پورا کرتے ہوئے بہو کو بیٹی بنا کر اپنے گھر بیاہ کر لاتی ہے۔
لہٰذا، ایک بہو کا دینی اور مشرقی فریضہ بنتا ہے کہ وہ جدید مادیت پسندی اور بے جا انفرادیت کے اثرات سے نکل کر اپنی نئی زندگی کی شروعات اس وقار سے کرے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔ وہ اپنے عمدہ اخلاق، خلوص اور سلیقہ شعاری سے ثابت کرے کہ وہ نہ صرف ایک وفادار بیوی ہے، بلکہ ایک باوقار بہو، شفیق بھابھی، دیورانی یا جٹھانی بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ رشتوں میں جگہ زبردستی نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور خدمت سے بنائی جاتی ہے۔
شریعتِ مطہرہ نے ازدواجی اور خاندانی نظام میں حقوق و فرائض کا بے مثال توازن رکھا ہے۔ شرعی اعتبار سے اگرچہ بہو پر ساس اور سسر کی خدمت اس طرح واجب نہیں جس طرح خود بیٹے پر لازم ہے، لیکن حسنِ معاشرت اور اخلاقیات کے تحت یہ بہو کا اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ماں کو اپنی ماں کی مانند سمجھے اور ان کے آرام و راحت کا خیال رکھے۔
دوسری جانب، شوہر یا ساس کے لیے بھی یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ بہو کو خدمت پر مجبور کریں، اس پر جبر کریں یا اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالیں۔ خدمت اخلاق اور محبت سے حاصل کی جاتی ہے، زبردستی نہیں۔ شوہر پر اپنے والدین کی خدمت خود لازم ہے، وہ بیوی کو ڈھال بنا کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ دونوں طرف اعتدال ناگزیر ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ (حصہ چہارم، نکاح کا بیان) میں خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’جب تک ساس خسر زندہ رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابعداری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے، خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں… جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی۔‘‘
ساس اور بہو کی چپقلش دراصل اندرونی ’’احساسِ ملکیت‘‘ اور عدم تحفظ کا شاخسانہ ہوتی ہے۔ جس طرح ایک عورت اپنے شوہر میں کسی دوسری عورت کی شراکت گوارا نہیں کرتی، اسی طرح ایک ماں بھی اپنے بیٹے کے وقت، توجہ اور وسائل پر بہو کے اچانک حق کو آسانی سے ہضم نہیں کر پاتی۔ اگر بہو نرم خو اور صابر ہو تو ابتدائی اونچ نیچ کو برداشت کر کے معاملات سنبھال لیتی ہے، لیکن اگر دونوں طرف تنک مزاجی اور انا کا غلبہ ہو تو تلخیوں کی آگ پورے گھر کو جلا ڈالتی ہے۔ تکبر کے بعد حسد جنم لیتا ہے اور رشتہ برباد ہو جاتا ہے۔
ایک اور بڑی خرابی غیر فطری توقعات ہیں۔ ساس چاہتی ہے کہ بہو پہلی ہی نظر میں اس سے سگی ماں جیسی عقیدت رکھے، اور بہو امید رکھتی ہے کہ ساس اس کی غلطیوں کو سگی بیٹی کی طرح نظر انداز کرے۔ یہ بات سمجھنا ہوگی کہ خونی اور تعظیمی رشتوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اپنائیت جنم لیتی ہے۔ جب تک حقیقت پسندی، صبر اور باہمی احترام کو بنیاد نہ بنایا جائے، دوریاں کم نہیں ہو سکتیں۔
اسی مناسبت سے ایک سبق آموز حکایت آپ کی دلچسپی کے لیے یہاں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ایک بہو اپنی ساس کے سخت رویے سے اس قدر دلبرداشتہ ہوئی کہ اس نے ساس کو راستے سے ہٹانے کا ارادہ کر لیا۔ وہ ایک تجربہ کار حکیم صاحب کے پاس گئی اور روتے ہوئے بولی: ’’مجھے کوئی ایسا زہر دیں جس سے میری ساس کا خاتمہ ہو جائے اور مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے۔‘‘
حکیم صاحب نبض شناس تھے، انہوں نے حکمتِ عملی اپناتے ہوئے چند طاقت بخش جڑی بوٹیاں دیں اور کہا: ’’بیٹی! اگر فوری اثر کرنے والا زہر دیا تو تم پکڑی جاؤ گی۔ یہ بوٹیاں روزانہ اچھے کھانوں میں ملا کر ساس کو کھلانا۔ مگر یاد رہے، کسی کو شک نہ ہو اس کے لیے تمہیں روزانہ ساس کے ساتھ انتہائی میٹھا لہجہ، مکمل اطاعت، خدمت گزاری اور سگی ماں جیسا برتاؤ رکھنا ہوگا۔‘‘
بہو نے اس نصیحت پر من و عن عمل شروع کیا۔ وہ روزانہ لذیذ کھانا تیار کر کے ساس کو ادب سے پیش کرتی، ان کی جھڑکیاں مسکرا کر سہتی اور ہر وقت خدمت میں مستعد رہتی۔ چند ہی مہینوں میں گھر کی فضا یکسر بدل گئی۔ بہو کا حسنِ اخلاق دیکھ کر ساس کا دل موم ہو گیا، اس نے بہو کو گلے سے لگا لیا اور اسے اپنی سگی بیٹیوں سے بڑھ کر چاہنے لگی۔ جب بہو نے ساس کی مامتا اور محبت دیکھی تو اس کے دل سے بھی نفرت کا غبار دھل گیا اور وہ ساس کی گرویدہ ہو گئی۔
اب بہو پریشانی کے عالم میں دوڑتی ہوئی حکیم صاحب کے پاس پہنچی اور رو کر التجا کرنے لگی: ’’حکیم صاحب! خدا کے لیے اس زہر کا تریاق بتائیں! میری ساس تو بہت شفیق اور مہربان ہیں، اب میں انہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی!‘‘ حکیم صاحب مسکرائے اور فرمایا: ’’بیٹی مطمئن رہو، میں نے تمہیں زہر دیا ہی نہیں تھا، وہ تو محض طاقت کی دوائیں تھیں۔ زہر تو دراصل تمہارے دل، سوچ اور رویے میں تھا، جسے تمہارے اپنے پیار، صبر اور حسنِ اخلاق نے جڑ سے ختم کر دیا۔‘‘
ایک معاشرتی سروے کے مطابق گھریلو جھگڑوں میں تقریباً 50 فیصد کوتاہی ساس کی طرف سے، 40 فیصد بہو کی طرف سے، جبکہ 10 فیصد بے اعتدالی مرد یعنی شوہر کی طرف سے ہوتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد لڑکی صرف ایک شخص کے ساتھ نیا رشتہ نہیں جوڑتی بلکہ ایک بالکل الگ ماحول، تہذیب اور مزاج رکھنے والے خاندان میں داخل ہوتی ہے۔ اگر والدین اپنی بیٹی کی تربیت اس نہج پر کریں کہ سسرال پرایا گھر نہیں بلکہ اس کا اپنا گھر ہے جسے اس کو اپنی قربانی اور سلیقے سے سجانا ہے، تو بیشتر تنازعات خودبخود دم توڑ جائیں گے۔ ساتھ ہی شوہر کا کردار ایک منصفانہ پل جیسا ہونا چاہیے، جو نہ ماں کے حق پر آنچ آنے دے اور نہ بیوی پر ظلم و زیادتی ہونے دے۔ ساس اور بہو کے رشتے کو خاندان کی بنیاد کہا جاتا ہے۔ یہ رشتہ اگر محبت، احترام اور برداشت کے دھاگے میں بندھا ہو تو پورا گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور اگر ذرا سی غلط فہمی یا انا اس میں آجائے تو گھر کا سکون غارت ہو جاتا ہے۔ اس تعلق کی خوبصورتی کو سمجھنے کے لیے ایک دل چسپ اور سبق آموز واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
ایک پرانے شہر میں ایک گھر ایسا تھا جہاں ساس اور بہو کے درمیان اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکرار رہتی تھی۔ دونوں ہی اپنی جگہ پر درست ہونے کا دعویٰ کرتی تھیں، مگر اس روزمرہ کے تناؤ نے پورے گھر بالخصوص گھر کے سربراہ (شوہر و بیٹا) کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ بیٹے نے اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے ایک حکمت عملی سوچی۔ اس نے اپنی والدہ اور اہلیہ دونوں سے الگ الگ ایک عجیب فرمائش کی۔ اپنی والدہ سے کہا: "اماں! آپکی نئی ہے، اسے ابھی گھر کے طور طریقے سیکھنے میں وقت لگے گا۔ آپ ایسا کریں کہ اس کی ہر غلطی کو ایک چھوٹے سے کاغذ پر لکھ لیا کریں اور مہینے کے آخر میں مجھے دکھائیے گا، میں اس کا حساب کر لوں گا۔”
دوسری طرف اپنی اہلیہ سے کہا: ” دیکھو ماں جی کی عمر زیادہ ہے، وہ ذرا زود رنج ہو جاتی ہیں۔ تم ان کی کسی بھی بات کا برا نہ مانا کرو، بس ان کی ہر ڈانٹ یا خفگی کو ایک ڈائری میں نوٹ کر لیا کرو۔ مہینے کے آخر میں ہم مل کر اس کا جائزہ لیں گے۔”
دونوں خواتین کو یہ تجویز بہت پسند آئی کیونکہ دونوں ہی اندر سے یہ چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے یا شوہر کو دوسرے کی غلطیاں صاف صاف معلوم ہو جائیں۔
مہینہ پورا ہوا تو اس نے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر دونوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا: "لائیں جی، وہ ڈائری اور کاغذات لے کر آئیں جن میں آپ نے پورا مہینہ ایک دوسرے کی غلطیاں نوٹ کی ہیں۔ آج ان کا حساب کتاب ہو جائے!”
ساس نے بہو کی غلطیوں کی ایک لمبی فہرست میز پر لا کر رکھ دی، جس میں چھوٹی چھوٹی باتیں درج تھیں؛ مثلاً: دوپہر کو چائے ٹھنڈی دی تھی، صفائی میں کوتاہی برتی، بات کرتے وقت آواز اونچی رکھی وغیرہ۔
اب بہو کی باری تھی۔ بہو نے اپنی ڈائری نکالی اور شرماتے ہوئے سر جھکا کر بیٹھ گئی۔
بیٹے نے پوچھا: "ہاں اماں کی کتنی غلطیاں نوٹ کی ہیں تم نے؟ ذرا پڑھ کر سناؤ۔”
بہو کی آنکھوں میں ہلکے سے آنسو آ گئے، اس نے ڈائری کھولی اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا: "شوہرِ محترم! سچ کہوں تو مہینے کے شروع میں تو میں نے دو چار باتیں لکھیں بھی تھیں، لیکن پھر اماں جان نے مجھے اپنے ہاتھ سے گرم چائے پلائی، جب میں بیمار پڑی تو پوری رات میرے سرہانے بیٹھ کر دعائیں کیں۔ ان کی شفقت اور محبت دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ایک ماں کبھی غلط نہیں ہو سکتی، وہ تو صرف سدھارنا چاہتی ہیں۔ اس کے بعد میں نے ڈائری میں لکھنا بند کر دیا اور دل سے ان کی ہر بات کو اپنا لیا۔” یہ سن کر ساس کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے فوراً اپنی بہو کو اپنے سینے سے لگا لیا اور بولیں: "بیٹی! میں نے تو تیرے اندر اپنی کوتاہیاں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، مگر تیری محبت نے مجھے شرمندہ کر دیا۔”
یہ مختصر سی زندگی رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے کے لیے بہت چھوٹی ہے۔ اگر ساس اور بہو انا، احساسِ برتری اور شکوک و شبہات کو پسِ پشت ڈال کر ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کر لیں، تو یہی گھرانہ زمین پر جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔ جھگڑوں اور نفرتوں سے ہمیشہ دونوں فریقوں کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ عفو و درگزر اور باہمی الفت ہی دارین کی کامیابی کی ضامن ہے۔***
