جاوید جمال الدین
جمہوریت میں ووٹ محض ایک انتخابی نشان نہیں، بلکہ شہری کی سیاسی شناخت، آئینی حق اور اقتدار سے جواب طلبی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی لیے ووٹر فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کو ایک انتظامی کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ فہرستوں میں درستگی ضروری ہے، لیکن اس عمل میں کسی اہل شہری کا نام حذف ہوجائے تو معاملہ صرف کاغذی غلطی تک محدود نہیں رہتا؛ اس سے اس کے حقِ رائے دہی اور انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کا سوال بھی جڑ جاتا ہے۔
ہندوستان میں رائے دہندگان کی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی اسی بنیادی سوال کے مرکز میں آچکی ہے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کو درست بنانے، فرضی یا دوہرے اندراجات کی نشان دہی کرنے اور فوت شدہ یا دوسری جگہ منتقل ہوچکے ووٹروں کے ناموں کی جانچ کے لیے نظرثانی ضروری ہے۔ اصولی طور پر اس مقصد سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ یہ عمل کس قدر شفاف، منصفانہ اور قابلِ احتساب ہے، اور اس دوران ہر اہل شہری کے ووٹ کے حق کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جاتا ہے۔
اسی تنازع نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار، الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور انتخابی عمل پر سیاسی جماعتوں کے اعتماد کو موضوعِ بحث بنادیا ہے۔ اکتوبر 2026 میں دہلی میں خصوصی گہری نظرثانی کے خلاف ہونے والے احتجاج، مظاہرین کی حراست اور چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے مطالبے نے اس بحث کو مزید شدت دی۔ 23 اکتوبر کو بھی دہلی میں احتجاج کے دوران سو سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ناموں کے حذف ہونے کے عمل پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں؛ دوسری جانب انتخابی حکام کا موقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد فہرستوں کو درست بنانا ہے۔ ان دعووں اور جوابی دعووں کے درمیان اصل ضرورت یہ ہے کہ سوالات کا جواب سیاسی بیان بازی کے بجائے شفاف جانچ اور قابلِ تصدیق حقائق سے دیا جائے۔
خصوصی گہری نظرثانی کے خلاف احتجاج کو محض حزبِ اختلاف کی سیاسی سرگرمی قرار دے کر مسترد کرنا بھی درست نہیں، اور احتجاج میں لگائے گئے ہر الزام کو ثابت شدہ حقیقت سمجھ لینا بھی مناسب نہیں۔ جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق اہم ہے، لیکن احتجاج سے اٹھنے والے سوالات کا فیصلہ شواہد، دستاویزات اور قانونی طریقۂ کار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
دہلی میں احتجاج کرنے والوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی پر اپنے اعتراضات پیش کیے۔ اس دوران پولیس کارروائی، حراستوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیوں نے اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کے حق سے متعلق سوالات بھی پیدا کیے۔ انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال متناسب، قانونی اور شفاف ہونا چاہیے۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ سامنے لائیں۔
یہاں بنیادی سوال کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کے حق یا مخالفت کا نہیں، بلکہ انتخابی ادارے کی ساکھ کا ہے۔ الیکشن کمیشن پر عوام کا اعتماد جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ووٹر کو یہ خدشہ لاحق ہو کہ اس کا نام فہرست سے غائب ہوسکتا ہے، یا اس کے اندراج کی تفصیلات غلط ہوسکتی ہیں، تو اس کا ازالہ بروقت، آسان اور مؤثر شکایتی نظام کے ذریعے ہونا چاہیے۔
خصوصی گہری نظرثانی کی بحث میں اتر پردیش خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں 2027 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ریاست میں ووٹر لسٹوں میں بڑی تبدیلیوں نے سیاسی جماعتوں، انتخابی حکام اور شہریوں کی توجہ اس عمل کی شفافیت کی طرف مبذول کرائی ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، اتر پردیش کی ووٹر فہرست میں اکتوبر 2025 کے تقریباً 15.44 کروڑ اندراجات کے مقابلے میں اپریل 2026 میں شائع ہونے والی نظرثانی شدہ فہرست میں ووٹروں کی تعداد تقریباً 13.39 کروڑ رہ گئی۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً 2.04 کروڑ ناموں کی خالص کمی سامنے آئی۔ یہ ایک بڑا فرق ہے، جس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم صرف مجموعی کمی کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تمام حذف شدہ نام اہل ووٹروں کے تھے یا اس عمل کے پیچھے کوئی منظم سیاسی مقصد کارفرما تھا۔
انتخابی حکام کی جانب سے دی گئی وجوہات میں مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد، فوت شدہ ووٹر، دوہرے اندراجات اور ایسے افراد شامل ہیں جن کا پتا نہیں چل سکا۔ ان زمروں کی الگ الگ جانچ اور اعداد و شمار کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ ہر صورتِ حال کی قانونی حیثیت مختلف ہوسکتی ہے۔ فوت شدہ شخص کا نام حذف کرنا اور کسی زندہ، اہل شہری کا نام صرف اس لیے نکال دینا کہ اس سے رابطہ نہیں ہوسکا، دو الگ معاملات ہیں۔ دوسرے معاملے میں مؤثر اطلاع، وضاحت اور اپیل کا موقع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پیلی بھیت کے ووٹر اندراجات سے متعلق شکایات نے بھی فہرستوں کی صحت اور انتظامی نگرانی پر سوال اٹھائے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض اندراجات میں ووٹروں کی تفصیلات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کے بعد انتخابی حکام نے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی۔ یہ معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فہرستوں کی درستگی صرف ناموں کو حذف کرنے سے حاصل نہیں ہوتی؛ درست شناخت، صحیح تفصیلات اور ہر تبدیلی کا قابلِ اعتماد ریکارڈ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اس لیے اتر پردیش میں ووٹروں کی تعداد میں کمی کو نہ تو معمول کی انتظامی کارروائی سمجھ کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی انتخابی سازش کا قطعی ثبوت قرار دیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن ضلع وار اور زمرہ وار اعداد و شمار واضح کرے، اعتراضات کے ازالے کی صورتِ حال بتائے اور اس بات کی تصدیق کرے کہ کوئی اہل ووٹر محض طریقۂ کار کی دشواری یا انتظامی کوتاہی کی وجہ سے اپنے حق سے محروم نہیں ہوا۔
اتر پردیش کی سیاست میں ووٹر فہرستوں کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ریاست کا حجم، سماجی تنوع، دیہی و شہری آبادی کا فرق اور مختلف طبقات کی سیاسی شرکت اسے انتخابی اعتبار سے نہایت اہم بناتے ہیں۔ ایسے میں ووٹر فہرستوں میں بڑی تبدیلیاں فطری طور پر سیاسی جماعتوں کے لیے تشویش کا موضوع بنیں گی، بالخصوص جب اسمبلی انتخابات قریب ہوں۔
تاہم انتخابی فہرست میں ناموں کی کمی اور کسی جماعت کے انتخابی فائدے یا نقصان کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں یہ الزام لگا سکتی ہیں کہ نظرثانی سے مخصوص علاقوں یا طبقات کے ووٹ متاثر ہوسکتے ہیں، لیکن ایسے دعووں کی جانچ کے لیے حذف شدہ ناموں، ان کے اسباب، متعلقہ علاقوں اور شکایات کے نتائج کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے۔
اس کے باوجود ایک بات واضح ہے: اگر بڑی تعداد میں اہل ووٹر اپنے ناموں کی موجودگی کے بارے میں غیر یقینی محسوس کریں، تو اس کا اثر انتخابی ماحول اور اداروں پر اعتماد دونوں پر پڑسکتا ہے۔ کسی ووٹر کے لیے یہ جاننا کافی نہیں کہ فہرستیں درست کرنے کا مقصد کیا ہے؛ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا نام فہرست میں موجود ہے یا نہیں، غلطی کی صورت میں اسے کس دفتر سے رجوع کرنا ہے اور اس کی شکایت کا فیصلہ کب تک ہوگا۔
اتر پردیش میں انتخابی حکام نے نظرثانی کے اگلے مراحل اور اہل شہریوں کے اندراج کے لیے خصوصی مہمات کی تیاری کی اطلاع دی ہے۔ یہ اقدامات اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب ان کی معلومات عام لوگوں تک پہنچیں، مقامی سطح پر مدد دستیاب ہو اور شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔
سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ انہیں اپنے اعتراضات دستاویزات کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں، متاثرہ ووٹروں کی مدد کرنی چاہیے اور قانونی طریقۂ کار سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ محض سیاسی بیانات یا انتخابی فائدے کے الزامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب انتخابی اداروں کو بھی تنقید کا جواب محض تردید سے دینے کے بجائے ایسے حقائق سامنے لانے چاہئیں جن کی آزادانہ جانچ ممکن ہو۔
الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور غیر جانب داری جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف انتخابات منعقد کرانا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ اہل شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا مساوی موقع حاصل ہو اور انتخابی عمل کے بارے میں غیر ضروری شکوک پیدا نہ ہوں۔
اگر ووٹر فہرستوں میں غلطیاں سامنے آئیں تو ان کی اصلاح ضروری ہے۔ اگر کسی اہل شہری کا نام غلط طور پر حذف ہوا ہو تو اس کی بحالی کا راستہ آسان ہونا چاہیے۔ اگر کسی اہلکار کی غفلت یا دانستہ بے ضابطگی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ اور اگر کسی سیاسی جماعت کا الزام درست نہ ہو تو متعلقہ ریکارڈ کے ذریعے اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ شفافیت کا یہی طریقہ ادارے کو مضبوط کرتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ سیاسی احتجاج کا حصہ ہے، لیکن اس مطالبے سے الگ ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا نظرثانی کے عمل میں غلطی کی نشاندہی، شکایت کے اندراج اور منصفانہ فیصلے کے لیے مؤثر ضمانتیں موجود ہیں؟ اس سوال کا جواب کسی ایک فرد کے استعفے یا کسی جماعت کے بیان سے نہیں، بلکہ ادارہ جاتی شفافیت اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار سے ملے گا۔
الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کی وجوہات، اعتراضات کی تعداد، منظور اور مسترد کی گئی درخواستوں اور بحال کیے گئے ناموں سے متعلق معلومات واضح انداز میں پیش کرے۔ جہاں غلطیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں، وہاں جانچ کے نتائج بھی عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ اس سے نہ صرف متاثرہ ووٹروں کی مدد ہوگی بلکہ غیر مصدقہ دعووں اور افواہوں کے پھیلاؤ کو بھی روکا جاسکے گا۔
خصوصی گہری نظرثانی پر جاری بحث ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ ووٹر فہرستوں کی درستگی اور ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف مقاصد نہیں، بلکہ ایک ہی جمہوری عمل کے دو لازمی تقاضے ہیں۔ درست فہرستیں انتخابی شفافیت کے لیے ضروری ہیں، لیکن یہ درستگی اسی وقت قابلِ اعتماد ہوگی جب اس عمل میں کسی اہل شہری کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دہلی کے احتجاج نے انتخابی عمل پر اعتماد، پُرامن اختلافِ رائے اور انتظامی کارروائی کے طریقے سے متعلق سوالات کو نمایاں کیا ہے۔ اتر پردیش میں ووٹر فہرستوں میں بڑی کمی اور بعض مقامات سے سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی شکایات ان سوالات کو مزید اہم بناتی ہیں۔ تاہم ان معاملات پر حتمی رائے قائم کرنے کے لیے مستند اعداد و شمار، شفاف تحقیقات اور ہر فریق کے دعووں کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن، ریاستی انتظامیہ، سیاسی جماعتوں اور شہری سماج سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹر فہرستوں کو قابلِ اعتماد بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انتخابی ادارے کو شفافیت اور جواب دہی دکھانی ہوگی، سیاسی جماعتوں کو ثبوت پر مبنی اعتراضات اٹھانے ہوں گے اور شہریوں کو اپنے اندراج کی جانچ کرکے ضرورت پڑنے پر بروقت دعویٰ یا اعتراض داخل کرنا ہوگا۔
جمہوریت کی مضبوطی صرف انتخابی نتائج سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے بھی ناپی جاتی ہے کہ ہر اہل شہری کا ووٹ اہم ہے اور اسے اپنا حق استعمال کرنے کا منصفانہ موقع ملے گا۔ خصوصی گہری نظرثانی کی کامیابی کا اصل معیار بھی یہی ہونا چاہیے: فہرستیں درست ہوں، طریقۂ کار شفاف ہو اور کسی اہل شہری کا ووٹ انتظامی غلطی یا غیر مؤثر شکایتی نظام کی نذر نہ ہو۔
