عبد المقیت
غزہ کی تباہ حال گلیوں، خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی کی جدوجہد اب صرف بمباری اور تباہی سے بچنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ بھوک، مہنگائی اور غذائی قلت نے بھی اہل فلسطین کی زندگیوں کو ایک کٹھن امتحان بنا دیا ہے۔ جنگ کے طویل اثرات، کھانے پینے کی چیزوں کی محدود فراہمی اور انسانی امداد میں کمی نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ والدین کے لیے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک، جو بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے بنیادی ضرورت ہے، وہ غزہ کے ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک خواب بنتی جا رہی ہے۔ غزہ میں بھوک کی یہ صورت حال محض خوراک کی قلت کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی زندگی، بچوں کی صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک سنگین بحران ہے۔
خبر رساں ادارے یو این آئی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ کی 30 سالہ ہدیٰ ابو لیلیٰ کی زندگی اس بحران کی ایک دردناک تصویر پیش کرتی ہے۔ پانچ بیٹیوں کی ماں ہدیٰ کو کئی ماہ بعد اس ہفتے اپنی بچیوں کو ناشتے میں صرف چائے اور روٹی دینی پڑی۔ ان کی بیٹیوں کی عمر 18 ماہ سے 10 سال کے درمیان ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ضروری اشیاء کی آمد کو روکنے کے بعد سے ان کے لیے بچوں کی متوازن غذا کا انتظام مزید دشوار ہو گیا ہے۔
ہدیٰ اپنے خاندان کے ساتھ غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں ایک خیمے میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر جنگ کے دوران زخمی ہو چکے ہیں اور اب کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ وہ دوسروں کے لیے روٹیاں بنا کر کچھ رقم کماتی ہیں لیکن بڑھتی ہوئی قیمتوں اور محدود آمدنی کے باعث ضروری اشیاء خریدنا ان کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق، انڈے اور دودھ جیسی بنیادی غذائیں دستیاب نہیں ہوتیں اور اگر کہیں مل بھی جائیں تو ان کی قیمت ادا کرنا آسان نہیں۔ بعض دنوں میں ان کا خاندان مقامی مصالحے یا ڈبہ بند سبزیاں کھا کر گزارا کرتا ہے، لیکن جب خوراک کی دستیابی مزید کم ہو جاتی ہے تو چائے اور روٹی ہی سہارا رہ جاتی ہے۔ ہدیٰ کی سب سے بڑی پریشانی اپنی بیٹیوں کی صحت ہے۔ ایک ماں کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذائی ضروریات سے واقف بھی ہو اور انہیں پورا کرنے کی استطاعت بھی نہ رکھتی ہو؟
غزہ میں تجارتی سامان کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ انسانی امداد بھی دباؤ کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے 19 اکتوبر کو بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑ رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد ستمبر میں تقریباً 16 لاکھ سے کم کرکے اکتوبر میں 11 لاکھ کر دی گئی۔ غذائی راشن بھی نصف رہ گیا ہے۔ اب خاندانوں کو دو کے بجائے ایک غذائی پیکٹ اور گندم کے آٹے کا ایک چھوٹا تھیلا دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح روزانہ فراہم کیے جانے والے تیار کھانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کر دی گئی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق، غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد یعنی آبادی کے کم و بیش دو تہائی حصے کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ یہ اعداد محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کی عکاسی کرتے ہیں جن کے لیے روزانہ کا کھانا بھی غیر یقینی ہو چکا ہے۔
غزہ میں غذائی بحران کی سنگینی کا اندازہ بچوں کے علاج سے متعلق اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق، ستمبر میں 2,800 سے زیادہ بچوں کو غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیا گیا، جن میں 360 سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔ اکتوبر میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے تقریباً 3,000 بچے ہر ماہ غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیے جا رہے ہیں۔
یونیسیف کے تعاون سے اگست میں کیے گئے ایک غذائی سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تحقیق کاروں کی رسائی والے علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر کے 12.2 فیصد بچے قد و قامت کا شکار تھے۔
غزہ سٹی میں بچوں کے ڈاکٹر اور ماہرِ غذائیت ڈاکٹر محمد بی الرعی نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی فراہمی پر پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہنے سے بچوں میں غذائی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، قحط کی کیفیت میں بہتری آنے کے باوجود اسپتالوں میں درمیانے اور شدید درجے کی غذائی قلت کا شکار بچے لائے جا رہے ہیں۔ اس بحران سے صرف پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہی نہیں بلکہ پانچ سے 17 سال کی عمر کے بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر الرعی کے مطابق، بعض بچوں کی ٹانگوں میں سوجن بھی دیکھی جا رہی ہے، جو جسم میں پروٹین کی شدید کمی کی علامت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث بہت سے خاندان ایسی غذا پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں جس میں کاربوہائیڈریٹس تو موجود ہوتے ہیں لیکن پروٹین کی مقدار ناکافی ہوتی ہے۔
مکتوب میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ کے شمالی علاقے بیت لاہیہ سے بے گھر ہونے والی 40 سالہ رائدہ صبوح اپنے نو افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ اب وہ غزہ سٹی میں رہتی ہیں اور ان کے خاندان کا انحصار طویل عرصے سے اجتماعی باورچی خانوں پر ہے، جنہیں مقامی طور پر ’تکیہ‘ کہا جاتا ہے۔
رائدہ کے مطابق، جب اجتماعی باورچی خانے میں کھانا دستیاب ہوتا ہے تو ان کا خاندان وہیں سے کھانا حاصل کر لیتا ہے۔ بچوں کو عموماً ناشتے میں چائے اور دوپہر میں اجتماعی باورچی خانے سے کھانا ملتا ہے، جبکہ رات میں کبھی چاول، دال یا پاستا کھا لیتے ہیں۔ لیکن گزشتہ تقریباً آٹھ ماہ سے ان کے بچوں کی غذا میں دودھ، گوشت، انڈے اور پنیر شامل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے آخری بار تقریباً ایک ماہ قبل سبزیاں خریدی تھیں۔ رائدہ کے مطابق، کبھی وہ اپنے بچوں کو دیکھ کر سوچتی ہیں کہ کیا انہیں مناسب غذا مل رہی ہے اور کیا وہ دوسرے بچوں کی طرح کھانا کھا پا رہے ہیں۔ یہ سوال صرف رائدہ کا نہیں، بلکہ غزہ کے ان تمام والدین کا ہے جو اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن جنگ، بے گھر، غربت اور خوراک کی قلت نے ان کے امکانات محدود کر دیے ہیں۔
غزہ میں بھوک کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنگ کی سب سے گہری ضرب اکثر ان لوگوں پر پڑتی ہے جن کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ وہ بچے جنہیں اسکول جانا چاہیے، کھیلنا چاہیے اور اپنے خوابوں کی دنیا تعمیر کرنی چاہیے، آج بنیادی غذائی ضروریات سے محروم ہیں۔ ان کی مائیں اس فکر میں مبتلا ہیں کہ اگلے وقت کا کھانا کہاں سے آئے گا اور ان کے بچوں کی صحت کا کیا ہوگا۔
رائدہ صبوح کی یہ امید کہ کوئی ان کے خاندان کی مدد کرے اور مشکل حالات میں ان کا ساتھ دے، دراصل غزہ کے لاکھوں متاثرہ افراد کی آواز ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ جنگ ختم ہو، حالات بہتر ہوں اور گزرگاہیں کھول دی جائیں تاکہ خوراک کی فراہمی بحال ہو اور قیمتیں کم ہو سکیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری ان آوازوں کو سننے اور ان کے درد کا عملی جواب دینے کے لیے تیار ہے؟ غزہ کے بچوں کو مزید وعدوں کی نہیں بلکہ فوری اور مسلسل امداد، مناسب خوراک اور محفوظ زندگی کے حق کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے اور بھوک کے سائے میں پلنے والی نسل کو صحت مند مستقبل دینا صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں ریسرچ اسکالر ہیں)
