عبدالغفار صدیقی۔بجنور

مسلمان ہند جس کرب ناک اور تشویش ناک صورت حال سے گزررہے ہیں ،اس سے ہر ذی شعور شخص واقف ہے ۔بلکہ اس اذیت ناک صورت حال سے نبرد آزما ہے ۔ سبزی فروشوں سے لے کر اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو ہر دن ایک نئے فتنہ کا سامنا ہے ۔ بنگال میں ایک مسلم آفیسر کا ان شاء اللہ اور ماشاء اللہ کہنے پر تبادلہ کردیا گیاہے۔ کہیں سلام کرنے پر برخواست کیا جارہا ہے۔ ماب لنچنگ تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ جانچ کے نام پر مسلم سرکاری ملازمین کو تنگ کیا جارہا ہے ۔مسلمان سے خطا ہوجائے تو بلڈوزر کی کارروائی کردی جاتی ہے ،جب کہ دوسرے لوگوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوجاتی ہے ۔اسی ہفتہ تحصیل نجیب آباد (ضلع بجنور) کے ایک بلاک میں ایک سرکاری ماسٹر نوشاد کو ایک ہندو نوجوان نے گولی مارکر خود کو پولس کے حوالہ کردیا ۔نوشاد کا جرم یہ بتایا گیا کہ وہ محبت کی شادیوں کا حمایتی تھا ۔اگر گولی مارنے والا عبدل ہوتا تو اس کا مکان زمین دوز کردیا جاتا ،یا اس کا انکائونٹر کردیا جاتا۔کل لکھنو میں ایک بریانی والے کو اس لیے مارا پیٹا گیا کہ لوگوں کو شک تھا یہ گائے کی گوشت کی بریانی بیچ رہا ہے ۔مساجد کو گرانے کا عمل بھی مستقل جاری ہے ۔مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہونے کے باوجود بغیر کسی نوٹس کے اور مسلم فریق کو سنے بغیر بلڈوزر چلوادیا جاتا ہے ۔ایک عجیب سی صورت حال ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت اور حکم کے باوجود بلڈوزر پر کوئی لگام نہیں ہے ۔
دوسری طرف مسلم قیادت مذمتی بیان کی حد تک محدودہے ۔سہارن پور میں تین ہزار سے زیادہ مدارس ہیں ،دیوبند خود ضلع سہارن پور میں ہی ہے ۔دو عظیم الشان دارلعلوم شہر دیوبند میںہیں اور دو عظیم مظاہر العلوم سہارن پور میں ہیں ۔ان میں ہزاروں طلبہ ہیں، سیکڑوں اساتذہ ہیں ،ان سے وابستہ افراد بھی لاکھوں میں ہیں ،مگر مجال ہے جو کسی حضرت نے اپنی خانقاہ سے نکلنے کی زحمت کی ہو ،مسجد گرادی گئی اور مدارس میں قال اللہ کا درس چلتا رہا ۔اللہ کا گھر گرادیا گیا اور اللہ والوںکی نشان زدہ جبینوں پر شکن تک نہ آئی۔کیا ہوگا اگر اللہ تعالیٰ ان بستیوں کو الٹنے کا حکم دے اور فرشتے کہیں کہ پروردگار وہاں تو تیرے نمازی بندے تیرے ذکر میں مشغول ہیں ،تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ان سمیت بستی کو پلٹ دو ۔جیسا کہ قوم لوط کے بارے میں ہوا تھا۔اگر سہارن پور یااس کے آس پاس رہنے والے مسلمان مسجد کے چاروں طرف حصار بنالیتے تو کیا مجال تھی کہ کوئی بلڈوزر مسجد کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی دیکھتا ۔
ایک بات اور ناقابل فہم ہے ۔ہماری کتابوں میں بزرگوں کی کرامتیں بھری پڑی ہیں ،دینی جلسوں میں چینخ چینخ کرواعظین اولیائے کرام کے کارنامے بیان کرتے ہیں ،صرفا ن کی زندگی کے ہے نہیں ،بلکہ بعد وفات بھی ان کے فیوض و برکات سے استفادے کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ حضرت صابر کلیریؒ ، حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ ،حضرت اشرف علی تھانوی ؒ اور دیگر پیروں ،ولیوں اور مرشدوںکے نام سے ہزاروں داستانیں گشت کررہی ہیں ،لیکن ہمارے دور میں ان کی کرامتیںکہیں نظر نہیں آرہی ہیں ،سارے قطب اور ابدال بھی قبروں میں حوروں کے ساتھ محو استراحت ہیں ۔کسی کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ مسجدوں ،مدرسوں اور خانقاہوں کو بچانے آجائے ۔ ہزاروں زندہ پیر بھی موجود ہیں ،جو درگاہوں میں نذرانے وصول کررہے ہیں ،جن کے قبضے میں موکلوں (جنوں) کی بڑی تعداد ہے ،مگر وہ بھی تماشا دیکھ رہے ہیں ۔جن کو بوتل میں بند کرنے والے ،اسلام دشمنوں کا بال بیکا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سب افسانے اور کہانیاں ہیں اور قوم کا الو بنانے کے طریقے ہیں ۔
مصلحت کوش قیادت کو بھی آپ اور ہم دیکھ رہے ہیں ۔مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جنتر منتر پردھرنے کی کال دی ،عین وقت پر دھرناکینسل کردیا ۔پریس کانفرنس میں ان کے ترجمان نے بتایا کہ پولس نے اجازت نہیں دی ، وجہ بتائی کہ ’’ پولس کے اعلیٰ عہدیداران نے بتایا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس دھرنے میں آنے والی ہے ،یہاں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا اس لیے اجازت نہیں دی جاسکتی ۔‘‘ لیکن موصوف نے پولس کا تحریری بیان نہیں دکھایا ۔ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ پولس نے تین سو افراد کے ساتھ دھرنے کی اجازت دی تھی ،لیکن بورڈ کے پاس تین سو افراد بھی نہیں تھے ۔اس لیے دھرنا ملتوی کرنے میں ہی عافیت سمجھی گئی۔لوگوں نے کال پر اس لیے توجہ نہیں دی کہ لوگوں کو گمان تھا کہ دھرنا کینسل ہوجائے گا ۔کیوں کہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ بورڈ اپنے پروگرام کینسل کرچکا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ بورڈ کے ذمہ داران کو اجازت کے بغیر بھی جنتر منتر کے لیے نکلنا چاہئے تھا ۔ظاہر ہے کہ ایک خاص مقام پر پولس کی طرف سے انھیں روک دیا جاتا تو بقول ایک فیس بک صارف کے ’’بورڈ کے ذمہ داران کو وہیں اپنے   دوپٹے بچھا کر بیٹھ جانا چاہئے تھا ۔‘‘
جمہوریت میں دھرنا دینا ،احتجاج کرنااور جلوس نکالنا عوام کا حق ہے ۔جنتر منتر پر آئے دن ایسے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں ،جب بغیر اجازت کے کوئی پروگرام کیا جاتا ہے اور پولس ایکشن ہوتا ہے ۔مگر ہمارے بزرگوں کو شاید جیل جانے سے ڈر لگتا ہے ۔سننے میں یہ بھی آرہا ہے کہ بیشتر بورڈ ذمہ داران کی فائلیں سرکار کے پاس ہیں ۔جس کی وجہ سے بورڈ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا ۔
ہمارے ایک اور خیر خواہ جناب محمد ادیب صاحب نے بھی 51رکنی کمیٹی بنائی ہے ۔مگر موصوف نے اس عمر میں کچھ کرنے کی ٹھانی ہے جب گھٹنے جواب دے چکے ہیں۔انھوں نے اپنے ساتھ جن لوگون کو شامل کیا ہے ان میں سے زیادہ تر وہی چہرے مہرے ہیں جو دوسری ملی جماعتوں اور پرسنل لاء بورڈ میں نظر آتے ہیں ۔دعا تو ہماری یہی ہے کہ موصوف کی قیادت میں کچھ کام ہوجائے ،مگر حالات کہہ رہے کہ ان سے کسی بڑے اقدام کی توقع رکھنا فضول ہے۔
عام طور پر ہمارے رہنمائوں کو عوام سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ قیادت کا ساتھ نہیں دیتے ،اس پر ااعتماد نہیں کرتے حالانکہ اس معاملہ میں مسلم عوام نے کبھی مایوس نہیں کیا ہے ۔آزادی سے پہلے کی بات تو چھوڑیے ،آزادی کے بعد جس نے بھی قوم کی مسیحائی کا دم بھرا اور آواز دی قوم اپنے وسائل کے ساتھ اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔مسلم مجلس مشاورت کی ابتدائی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے ،یا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تاریخ پڑھ لیجیے ۔یا آج دیکھ لیجیے ۔جس کے بارے میں قوم کو لگتا ہے کہ یہ ہمارے زخموں پر مرہم لگائے گا ،ہماری ڈوبتی کشتی کو بچائے گا ،ہمارے مسائل کو کم کرے گا وہ اسی کے پیچھے ہولیتی ہے ،اس سلسلہ میں وہ مذہب کا فرق بھی مٹادیتی ہے ۔کیا اسی ملک میں گزشتہ چالیس برسوں میں ہم نے نہیں دیکھا کہ یوپی میں کانشی رام ،مایاوتی ، ملائم سنگھ کو مسلمانوں نے سر آنکھوں پر بیٹھایا ،بہار میں لالویادو کی لالٹین انھیں کے دم سے جلتی رہی ،اس وقت اویسی صاحب کے لیے قوم کی دیوانگی قابل دید ہے ۔مگر رہنمائوں نے قوم کو مایوس کیا ۔انھوں نے ہر بار آنکھیں بدل لیں ۔ہر بارقوم رہبر کے ہاتھوں لٹتی رہی ۔
ہمارے یہ بدتر حالات بلا وجہ نہیں ہیں ۔سیکڑوں برس سے جاری مسلک کے نام پر اکھاڑے،جماعتوں کے نام پر عصبیتیں ،برادری واد کے نام پر اونچ نیچ ،نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔سنگھ پریوار کے اداروں کی سو سالہ محنت نے ہر مسلمان کو ’’بابرکی اولاد‘‘ بناڈالا ہے۔ اسی کے ساتھ ہماری بدترین اخلاقی حالت نے ہمسایہ قوم کو بدگمان کردیا ہے۔اب حالات اس قدر سنگین ہیں کہ راستا سجھائی نہیں دے رہا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں ان حالات میں ہمیں اپنے اندر تین خوبیاں پیدا کرنا چاہئیں۔سب سے پہلی خوبی ’’ایمان‘‘ ہے۔ وہی ایمان جس کا دعویٰ ہم کرتے ہیں۔ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری سربلندی کو ایمان کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ (تم ہی سربلند رہوگے اگر تم مومن ہو۔۔ آل عمران۔139 ) دوسری خوبی ’’عمل صالح ‘‘ ہے ۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھاکر یہ بات کہی ہے کہ نقصان سے وہی لوگ بچیں گے جو نیک عمل کرنے والے ہوں گے اور تیسری خوبی ’’اخلاص ‘‘ہے ۔اس کے بغیر پہلی دوخوبیاں بھی نامکمل اور غیر نتیجہ خیز ہیں۔میں اپنے اردگرد نظر ڈالتا ہوں تو ان تینوں خوبیوں سے ہی اکثر مسلمانوں کو خالی پاتا ہوں ۔دل ایمان سے خالی ہیں اور عمل سے صالح غائب ہے ۔اخلاص کی جگہ ریاکاری ،خود غرضی اور مفاد پرستی نے لے لی ہے۔

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے