مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
دودن پہلے کی یہ بات ہے۔ اخبار میں یہ خبر چھپی کہ کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے صبر وتحمل کے مظاہرہ کرنے پر مسلمانان ہند کا شکریہ ادا کیا ہے، نیز تفصیلی مبارکبادی بھی موصوف نے ان الفاظ میں پیش کی ہے،ملاحظہ کیجئے:”مسلسل ماحول خراب کرنے کی کوشش ہورہی ہے، مسلمانوں کو دکھ پہونچایا گیا ہے، اور معاشرے میں نفرت پھیلائی گئی مگر مسلم برادری نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں”۔مجلس عاملہ کی مٹنگ میں قومی صدر کی طرف سے یہ شکریہ ومبارکبادی اہم چیز ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ دو تین جملوں میں موصوف نے مسلمانوں کی طرف سے کئے گئے صبر کے مظاہروں کا مکمل احاطہ بھی کرلیا ہے گویا سمندر کو کوزے میں بند کرکےشکریہ نامہ بناکر پیش کردیا ہے۔اس کا ملی جماعتوں کی طرف سے پرزور استقبال ہونا چاہیے، اور شکریہ ادا کرنے والے کا بھی ممنون ہونا چاہیے۔
بہر کیف اہل علم اور مسلم اسکالر اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ مذہب اسلام میں صبر کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے، یہ صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں ہےبلکہ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کی عبادت پر ثابت قدم رہنا بھی صبر کےزمرے میں آتا ہے،جو چیزیں اسلام میں ممنوع ہیں،ان سے رکنا اوربچنا بھی صبر یے۔اور مشکلات وآزمائشوں کا سامنا کرنا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انہیں برداشت کرنا بھی صبر ہے۔موجودہ حالات کا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ صبر کے ان تمام اقسام کا مظاہرہ مسلمانان ہند نے کیا ہے،ایک اللہ کی عبادت واطاعت سے انہیں روکنے کی ناکام کوشش ہوئی ہے اور ہورہی ہے، نماز اور اس کے لوازمات ،اذان، مسجد، خانقاہ، عیدگاہ حتی کے قبرستان بھی زد پر ہیں، آئے دن انہیں بلڈوز کرنےکی خبریں آرہی ہیں،تو کیا بھارت کے مسلمان ایک خدا کی عبادت واطاعت نہیں کررہے ہیں؟بحمداللہ پہلے سے زیادہ ثابت قدم ہیں اور عزم وثبات کا پہاڑ بنے ہوئے حالات کے بالمقابل کھڑے ہیں۔یہ مسلم قوم صرف اپنا مفاد نہیں دیکھتی ہے،یہ عالمی فکر کا حامل امت ہے،ملک کا مفاد مسلمانان ہند کو اتنا عزیز ہیکہ اجازت نہیں ملنے پر اپنے آئینی حق احتجاج سے بھی دستبردار ہوجاتے ہیں۔اس کی تازہ مثال جنتر منتر کے احتجاجی مظاہرہ سے پیش کی جاسکتی ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کو دھرنے کی اجازت نہیں ملی تو وہ انہوں نے اپنا دھرنا منسوخ کردیا،جبکہ اس کے لئے بورڈ کو بھاری قیمت بھی چکانی پڑرہی ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات کا بھی اس سنجیدہ اور باوقار ادارہ کو سامنا ہے۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ یہ بورڈ کی کمزوری ہے،یہ کمزوری نہیں صبر کا مظاہرہ ہے،صبر کمزوری نہیں طاقت کا نام یے،ایک صاحب ایمان کی بنیادی صفت صبر ہے، حوصلہ مند انسان ہی صبر کرسکتا یے،حدیث شریف کی زبان میں صبر کرنےوالےکو طاقتور اور پہلوان کہا گیا ہے۔
موجودہ حالات سے مسلمان گھبرانے والے نہیں اس بات کو اہل علم بخوبی سمجھتے ہیں، اب تو عملی طور پر اس کا مشاہدہ بھی کررہے ہیں۔ خدا کی نافرمانی کے خوف سے مشکلات میں غلط راستے کا انتخاب کرنے والے بھی نہیں ہیں،یہی وجہ ہے کہ حالات کا مقابلہ مسلمانوں نے صبر سے کیا ہے، قرآن میں انہیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے، ارشاد خداوندی ہے:اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(الزمر ۸)
قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا گیا ہے کہ اے نبی آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادیجئے۔حدیث شریف میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ جو شخص صبر اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ اسے صبر عطافرمادیتا ہے،اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور زیادہ وسیع عطیہ نہیں دیا گیا ہے( صحیحین )
اور ایک حدیث میں اس طرح اس کی فضیلت وارد ہوئی ہےکہ”بندہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملے اور ہر حال میں اس کے خیر ہی خیر ہے۔اگر اس کو خوشی ملی تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لئے خیر ہی خیر ہے،اور اگر اسے کوئی دکھ اور رنج پہونچتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور صبر بھی اس کےلئےسراسر خیر اور موجب برکت ہوتا ہے "مسلم شریف کی یہ حدیث ہے اور حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔اس حدیث سے ہمیں اس بات کابھی علم ہوتا ہےکہ صبر سے خیر کثیر کا دروازہ کھلتاہے،اگر اس کی توفیق مل گئی یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ انعام خداوندی ہے۔ قرآن کریم میں صبر کرنے کا جہاں حکم دیا ہے وہیں یہ بھی واضح کردیا ہے کہ خدا کی توفیق سے صبر کرنے کی سعادت بندے کو نصیب ہوتی ہے۔
آج باطل پیچ وتاب کھا رہا ہے کہ مسلم قوم مشتعل کیوں نہیں ہورہی ہے، سارے حربے آزمائے جارہے ہیں اور ترکش کا آخری تیر یوسی سی کے نام پر بھی چلادیا گیا ہے، باوجود اس کے مسلم سماج میں سمندر کی سی خاموشی ہے اور ملک کی آئین کے خلاف ایک لفظ بھی کہیں سے کوئی آوازنہیں آرہی ہے۔ایسے میں ان کا شکریہ بنتا ہے، اس چیز کو مسلمانوں سے زیادہ برادران وطن زیادہ محسوس کرتے ہیں۔یہ محض ایک رسمی مبارکبادی نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ دار غیر مسلم بھائی کی مسلمانان ہند کے حق میں گواہی بھی ہے،کل کی تاریخ میں اسے یاد کیا جائے گا جہاں مختلف عناوین پر امت اسلامیہ ہندیہ کو مشتعل کرنے کوششیں ہوئیں، آئینی حقوق پامال کئے ،عائلی قوانین پردست درازی کی گئی، عبادت گاہیں مسمار کی گئیں، حتی کہ قبرستان کو بھی نہیں بخشا گیا، اور یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ ملک کی مسلم برادری کو مشتعل کیا جائے،اوراس راستے سے شر وفساد کا دروازہ کھولا جائے،مگروہ ناکام ہوگئے ،اور مسلمان صبر کا دامن تھامےرہے،اور انہوں ظلم کا مقابلہ عدل سے،فساد کا اصلاح سے اور نفرت کا جواب پیار سے دیا جس کی وجہ کر ان کے لئے یہ خیر کا دروازہ کھل گیاہے کہ اب ان کا شکریہ ادا کیا جارہا ہے، اور انہیںمبارکبادی پیش کی جاتی ہے، آج بھارت کے مسلمانوں کا صبر لازوال اور بے مثال بن گیا ہے۔یہ ایک تاریخ رقم ہورہی ہے۔اپنے ہی نہیں بلکہ برادران وطن نے بھی اس بات کی گواہی دی ہے۔یہ ملت اسلامیہ ہندیہ کی ایک بڑی حصولیابی ہے۔
کچھ اس لئے بھی چپ ہوں ترے ستانے پر
میں چاہتا ہوں مرا ضبط اک مثال بنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے