تحریر: محمد مصطفیٰ کعبی ازہری
چیئرمین جامعہ حفصہ للبنات دھنوشانیپال


جامعہ عالیہ عربیہ مئو،یوپی سے وابستہ اساتذہ کرام،علما و فضلا اور ابنائے جامعہ ہٰذا کے درمیان علمی و دعوتی روابط کو مزید مستحکم کرنے، باہمی تعارف و تعاون کو فروغ دینے اور مادرِ علمی سے تعلق کی تجدید کے مقصد سے مورخہ 17 ستمبر 2026ء، بروز جمعرات، ارریہ، بہار کے زیرو مائل میں واقع گلیشئر ہوٹل میں ملتقی ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو، بہار، بنگال و جھارکھنڈ کے عنوان سے ایک باوقار اور یادگار اجتماع منعقد ہوا،یہ اجتماع صرف ایک رسمی ملاقات یا ایک روزہ پروگرام نہ تھا، بلکہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے ان فرزندانِ علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ایک سنجیدہ علمی و اخوتی کوشش تھی جو بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور آسام کے مختلف علاقوں میں دینی، تعلیمی، دعوتی اور سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں، اس موقع پر جامعہ کے اساتذہ کرام اور مختلف علاقوں سے تشریف فرما ابنائے جامعہ کے درمیان محبت، عقیدت، علمی نسبت اور دیرینہ تعلقات کی ایک خوب صورت تجدید دیکھنے کو ملی ـ۔
جامعہ عالیہ عربیہ کا تعارف:انیسویں صدی ہندوستان کی تاریخ کا ایک نہایت پُرآشوب دور تھا،1857ء کے ہنگاموں کے بعد ملک کے متعدد معروف علمی مراکز متاثر ہوچکے تھے، بالخصوص مشرقی اتر پردیش میں دینی تعلیم کے مراکز کی شدید کمی محسوس کی جارہی تھی، ایسے حالات میں اہلِ علم و دانش کو اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی کہ اس خطے میں ایک ایسا مضبوط علمی مرکز قائم کیا جائے، جہاں علومِ دین اور عربی زبان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جاسکے اور نئی نسل کو علمی و دینی تربیت فراہم کی جاسکے،انہی حالات میں مولانا فیض اللہ مئوی رحمہ اللہ نے اپنے رفقائے کار کے تعاون سے اس اہم ضرورت کو محسوس کیا اور 1857ء میں ایک دینی ادارے کی بنیاد رکھی، جو آگے چل کر جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے نام سے ایک معروف علمی مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا ـ۔
جامعہ عالیہ عربیہ مئو کا قیام محض ایک مدرسے کا قیام نہیں تھا، بلکہ یہ اپنے عہد کی علمی ضرورت کا جواب، مشرقی اتر پردیش کی دینی تشنگی کی تسکین اور علم و معرفت کے ایک نئے سفر کا آغاز تھا، اس ادارے نے وقت کے ساتھ علومِ دینیہ، عربی زبان، دعوت و اصلاح اور ترویجِ اہلِ حدیث کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں اور ہزاروں طلبہ و فضلاء کو علمی و دینی فیض سے سیراب کیا۔
ملتقی کا پس منظر اور انعقاد:فضیلۃ الشیخ ابو حارث مفیض الدین عالیاوی ریاضی حفظہ اللہ علمی، دعوتی اور تعلیمی میدان میں اپنی نمایاں خدمات کے لیے معروف ہیں۔ آپ نے اپنی علمی زندگی کا ایک اہم حصہ تدریس، تربیت اور دینی خدمات کے لیے وقف کررکھا ہے،جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے آپ کا تعلق محض ایک تعلیمی نسبت تک محدود نہیں، بلکہ یہ آپ کی مادرِ علمی بھی ہے، جہاں سے آپ نے علمی فیض حاصل کیا اور اپنے اساتذہ و مشائخ سے استفادہ کیا۔ ـ
چوں کہ آپ خود بھی جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے فارغ التحصیل اور اسی علمی چشمے کے فیض یافتہ ہیں، اس لیے استاد و شاگرد کے اس دیرینہ رشتے کی قدر و قیمت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں، اسی محبت، عقیدت اور مادرِ علمی سے گہری وابستگی کے جذبے کے تحت آپ نے ملتقی ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے انعقاد کا عزم کیا، تاکہ جامعہ کے اساتذہ و تلامذہ ایک جگہ جمع ہوں، باہمی محبت و اخوت کو فروغ ملے، علمی نسبت تازہ ہو اور قدیم تعلقات کو مزید مضبوط و مستحکم کیا جاسکےـ۔
چناں چہ بفضل اللہ و توفیقہ مورخہ 17 ستمبر 2026ء، بروز جمعرات ارریہ، بہار کے معروف گلیشئر ہوٹل، زیرو مائل میں ملتقی ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو، بہار، بنگال و جھارکھنڈ کے عنوان سے ایک باوقار اور یادگار علمی و اخوتی اجتماع منعقد ہوا،اس تاریخی اجتماع میں بہار، بالخصوص سیمانچل، نیز بنگال اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں سے جامعہ کے کثیر تعداد میں علما و فضلا اور ابنائے جامعہ نے شرکت کی، جب کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے متعدد مؤقر اساتذہ و مشائخ نے بھی تشریف لاکر اپنے قدیم تلامذہ کو شرفِ ملاقات بخشا۔
تقریب کا آغاز اور نظامت:تقریب کا باقاعدہ آغاز فضیلۃ الشیخ حافظ جہانگیر عالم عبدالرزاق عالیاوی حفظہ اللہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، تلاوت کے بعد فضیلۃ الشیخ شہباز عالم عالیاوی نے پُرکشش انداز میں ترانۂ جامعہ پیش کیا، جس سے محفل میں جامعہ سے وابستگی اور ماضی کی خوب صورت یادوں کی ایک دل نشیں فضا قائم ہوگئی ۔ـ
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ اسرار عادل عالیاوی حفظہ اللہ نے پرتپاک استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اساتذۂ کرام، مہمانانِ گرامی اور دور دراز سے تشریف فرما تمام ابنائے جامعہ کو خوش آمدید کہا تقریب کی نظامت کے فرائض فضیلۃ الشیخ مولانا تسلیم الدین عالی حفظہ اللہ نے نہایت حسن و خوبی سے انجام دیے اور پروگرام کے تمام مراحل کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا۔
اساتذۂ کرام اور مشائخِ عظام کی شرکت:اس بابرکت اور یادگار تقریب میں جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے تشریف فرما متعدد معزز اساتذۂ کرام نے شرکت فرمائی، ان میں بالخصوص: ڈاکٹر خالد کمال انصاری حفظہ اللہ(صدر مجلسِ منتظمہ)،ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی حفظہ اللہ(شیخ الجامعہ جامعہ عالیہ عربیہ)، شیخ محمد مظہر اعظمی حفظہ اللہ(نائب ناظم جامعہ عالیہ عربیہ مئو)،شیخ شفیق احمد ندوی حفظہ اللہ(استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو)،شیخ عطاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ (استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو)،شیخ ابو سعید فیضی حفظہ اللہ (استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو)،شیخ ذکی احمد عالی حفظہ اللہ(استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو) شامل تھے۔ ـ
ان اساتذۂ کرام کی شرکت نے ملتقی کی رونق اور علمی وقار میں مزید اضافہ کردیا اور ابنائے جامعہ کے لیے اپنے محسن اساتذہ سے ملاقات اور ان کی نصیحتیں سننے کا ایک قیمتی موقع فراہم کیا ۔ـ
اساتذہ و اکابر کے زریں خطابات:ملتقی کے مختلف مراحل میں اساتذۂ کرام نے نہایت اہم، مفید اور فکر انگیز خطابات پیش کیے۔شیخ عطاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ دور میں علمی استفادے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور بالخصوص دینی مسائل میں تحقیق، تصدیق، مصادر کی مراجعت اور صحیح و غلط کی پہچان کو نہایت ضروری قرار دیا۔
شیخ شفیق احمد ندوی حفظہ اللہ نے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کا جامع تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے تاریخی پس منظر، علمی خدمات، دعوتی جدوجہد اور ترویجِ اہلِ حدیث کے میدان میں ادارے کے نمایاں کردار پر روشنی ڈالی۔
شیخ ابو سعید فیضی حفظہ اللہ نے اس طرح کے اجتماعات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ابنائے جامعہ کو آئندہ بھی ایسے علمی و اخوتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔
شیخ الجامعہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی حفظہ اللہ نے جامعہ کے بانی مولانا فیض اللہ مئوی رحمہ اللہ کی علمی و دینی قربانیوں، 1857ء کے پٹنہ (دانہ پور) کے تاریخی پس منظر اور اسلاف کی علمی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے باہمی تعاون، اخوت اور اتحاد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے غارِ حرا کے واقعے کے تناظر میں دینی بھائی چارے کی اہمیت بیان کی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی تمام سرگرمیوں سے اجتناب کیا جائے جو ملک و قانون کے خلاف اشتعال یا انتشار کا سبب بنیں۔ انہوں نے تمام فضلاء کو جامعہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھنے اور ادارے کی علمی و دعوتی سرگرمیوں میں تعاون جاری رکھنے کی تلقین کی۔
صدرِ محترم شیخ محمد مظہر اعظمی حفظہ اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں معاشرے کے امن و سکون، مذہب کی اہمیت اور انسانی جان، مال و عزت کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہم اور فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ جامعہ اور اس کے تلامذہ کے درمیان موجود گہری محبت و وابستگی کو دیکھ کر ان کی چشمِ نم نے محفل کے جذباتی ماحول کو مزید مؤثر بنادیا۔
اور مہمانوں کے پرتباک استقبال بعد تاثراتی کلمات پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جن میں راقم الحروف ”محمد مصطفی کعبی ازھری چیئرمین جامعہ حفصہ للبنات برندربازار دھنوشا نیپال“ کا نام درج تھا لیکن راقم الحروف متلقی ابناء جامعہ عالیہ عربیہ مئو میں شریک نہ کر سکے ۔ جو ہمارے لئے بدنصیبی کی بات ہے کہ اس مبارک محفل میں اپنی شرکت سے محروم رہا۔لیکن لائو کے توسط سے اس علمی مجلس کو دیکھنے کا موقع فراہم ہوا۔
علمی تصنیف کی رسمِ اجر:ملتقی کے دوران ایک اہم علمی لمحہ اس وقت آیا جب جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے مؤقر استاذ فضیلۃ الشیخ عطاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی گراں قدر تصنیف رجالِ صحیح بخاری کی معرفت کے رہنما اصول کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔یہ موقع ابناء جامعہ کے لیے خصوصی مسرت کا باعث تھا اور اس سے ملتقی کی علمی حیثیت مزید نمایاں ہوئی۔
ابناء جامعہ کی تکریم:تقریب کے دوران مہمان اساتذۂ کرام کے ہاتھوں بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور آسام سے تعلق رکھنے والے 30 ممتاز و متمیز ابنائے جامعہ کی شال پوشی کی گئی اور انہیں مومنٹو و بیگز پیش کرکے اعزاز سے نوازا گیا۔یہ اعزاز دراصل ان افراد کی علمی، دعوتی، تعلیمی اور سماجی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے ان کی دیرینہ نسبت کی تجدید کا ایک خوب صورت ذریعہ بھی تھا۔
ملتقی کے اغراض و مقاصد:اجتماع کے اغراض و مقاصد کو واضح کرتے ہوئے فضیلۃ الشیخ اشفاق عالم ابو طاہر عالیاوی نے اس کے بنیادی نکات پیش کیے۔ ان میں بالخصوص درج ذیل امور شامل تھے:
1:ابناء جامعہ کے درمیان باہمی تعارف، تعلق اور تعاون کو فروغ دینا۔
2: جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے مضبوط وابستگی قائم رکھنا اور دینی و علمی خدمات میں باہمی اشتراک پیدا کرنا۔
3:عصری چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے نوجوان فضلا کی درست رہنمائی کرنا۔
4: تعلیمی و دعوتی منصوبہ بندی اور مستقبل کے لیے واضح لائحۂ عمل طے کرنا۔
5: ابناء جامعہ کو ایک منظم پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے باقاعدہ جمعیت أبناء عالیہ عربیہ کی تشکیل عمل میں لانا۔
جمعیت اور آئندہ کا لائحۂ عمل:ملتقی کے اختتامی مراحل میں ابنائے جامعہ اور اساتذہ کی باہمی مشاورت سے فضیلۃ الشیخ ابو حارث مفیض الدین عالیاوی ریاضی حفظہ اللہ کو بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور آسام کے لیے سرپرستِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
اس کے ساتھ یہ بھی طے کیا گیا کہ مختلف صوبوں اور اضلاع میں رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، تاکہ منتشر ابنائے جامعہ کے درمیان باہمی رابطہ قائم رہے، علمی و دعوتی سرگرمیوں میں تعاون کو فروغ ملے اور جامعہ سے وابستہ افراد کو ایک منظم پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکے۔
اختتامی کلمات اور تعاون کی اپیل:اختتامی لمحات میں فضیلۃ الشیخ ابو حارث مفیض الدین عالیاوی ریاضی حفظہ اللہ نے تمام اساتذۂ کرام، مہمانانِ گرامی اور ابنائے جامعہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے سالانہ بجٹ اور اس کی علمی و دعوتی ضروریات کے لیے زکوٰۃ و دیگر مالی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل بھی کی۔
یوں یہ یادگار ملتقی اساتذہ و تلامذہ کے مابین محبت و عقیدت، جامعہ سے وابستگی، پرانی یادوں کی تجدید، باہمی تعاون اور مستقبل کے لیے عزمِ نو کا ایک روشن باب بن کر اختتام پذیر ہوا۔
ارریہ کی سرزمین پر منعقد ہونے والی یہ نشست محض ایک روزہ اجتماع نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسی علمی و اخوتی کاوش تھی جس نے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے اساتذہ اور اس کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ابنائے جامعہ کو ایک بار پھر محبت، نسبت اور تعاون کی ایک لڑی میں پرو دیا۔
اللہ تعالیٰ جامعہ عالیہ عربیہ مئو، اس کے تمام اساتذہ و مشائخ اور جملہ ابنائے جامعہ کی دینی، علمی، دعوتی اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، باہمی محبت و اخوت کو ہمیشہ قائم رکھے اور اس علمی نسبت کو آنے والی نسلوں کے لیے بھی خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے