عبدالغفارصدیقی۔بجنور
اتر پردیش کے مغربی کنارہ پر بسا بجنور ضلع ادب اور ثقافت کے لحاظ سے بے حد مالا مال رہا ہے۔ اسی ضلع کے نگینہ علاقے سے ایک ایسی شخصیت ابھری جس نے اپنے قلم اور تحقیق سے پورے علاقے کی اردو وراثت کو نہ صرف بچایا، بلکہ اسے قومی سطح پر پہچان بھی دلائی۔ یہ شخصیت ہے *”ڈاکٹر شیخ نگینوی” _
اردو اور ہندی دونوں زبانوں پر یکساں گرفت رکھنے والے ڈاکٹر شیخ نگینوی گنگا جمنی تہذیب، لسانی اتحاد، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے علمبردار ہیں۔ ان کے نزدیک زبانیں ایک دوسرے سے دوری پیدا کرنے کے بجائے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہی سوچ ان کی ادبی اور تحقیقی کوششوں میں بھی صاف نظر آتی ہے۔
نہایت معزز، اردو ادیب، محقق، مصنف، مبصر شیخ نگینوی کی پیدائش 11 جنوری 1973 کو نگینہ کے متوسط طبقے کے محمد راقم کے یہاں ہوئی۔ ان کا اصل نام محمد ارشد ہے، جبکہ وہ شیخ نگینوی کے تخلص سے ادبی دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم نگینہ اور اس کے بعد مرادآباد، بجنور کے تعلیمی اداروں میں ہوئی۔ شیخ نے نوکری و تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم کام، ایم بی اے، پی جی ڈی سی اے، کامل اردو (علی گڑھ)، فاضل اردو (لکھنؤ) و فاضل دینِیات کے امتحانات پاس کیے۔ شیخ نگینوی کو امریکہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، ہالی ووڈ (یو ایس اے) نے سال 2022 میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔
اتر پردیش ہاکی ایسوسی ایشن کے رکن کے ساتھ ہی وہ دوم درجے کے ہاکی امپائر رہے۔ ہاکی کھلاڑی کے طور پر انہوں نے ذونل اور ریاستی سطح کے کئی ٹورنامنٹ میں حصہ لیا۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ میں ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے پر فائز شیخ نگینوی کی پہچان ایک نہایت ایماندار ملازم کی ہے۔ وہ بجلی کرمچاری مورچہ سنگٹھن، اتر پردیش کے صوبائی جنرل سکریٹری ہیں۔ ان کا میدان کار بجنور کی ادبی مٹی ہی رہی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ایک عزم کے ساتھ گزاری۔ اپنے علاقے کی بھولی بسری ادبی میراث کو اگلی نسل تک پہنچانا ان کا مقصد ہے۔ وہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں کے جانکار ہیں۔ یہی دو لسانی گرفت انہیں خاص بناتی ہے۔ انہوں نے اب تک 100 سے زائد سیمیناروں میں تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں اور ہندی اردو دونوں میں سنجیدہ علمی تحریریں لکھی ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ *”ہندی اور اردو سگی بہنیں ہیں ”*۔ اسی سوچ کی وجہ سے وہ ہمیشہ سانجھی ثقافت، گنگا جمنی تہذیب، لسانی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور باہمی بھائی چارے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
تصانیف: جو تاریخ بن گئیں
ڈاکٹر نگینوی کی پہچان ان کی دو اہم کتابوں سے ہے۔ ان کی پہلی اور سب سے مشہور تصنیف ”دبستانِ بجنور 2015“ہے۔ یہ کتاب دو حصوں میں ہے۔ یہ صرف کتاب نہیں، بلکہ بجنور ضلع کا ادبی دستاویز ہے۔ اس میں انہوں نے 19 ویں صدی سے لے کر آج تک بجنور میں ہوئے شعراء، ادباء، اردو اخبارات و رسائل اور ادبی محفلوں کا مستند تذکرہ جمع کیا ہے۔ اس تاریخی کتاب دبستانِ بجنور کے پہلے حصے کا اجرا لکھنؤ راج بھون میں اس وقت کے گورنر رام نائک جی کے ہاتھوں ہوا، جبکہ دوسرے حصے کا اجرا قومی کونسل برائے فرغ اردو زبان دہلی کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم، معروف ادیب و نقاد حقانی القاسمی، ڈاکٹر شمس اقبال، زین شمسی، ڈاکٹر وسیم اقبال وغیرہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ جس نے ان کتابوں کو اور زیادہ وقار بخشا۔ شیخ نگینوی کی اصل خدمت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے علاقے کی ادبی یادداشت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے نام، کتابیں، رسالے، ادبی محفلیں اور شخصیات ہماری اجتماعی یادداشت سے مٹ جاتی ہیں؛ ڈاکٹر شیخ نگینوی صاحب نے تحقیق اور تحریر کے ذریعے اسی فراموشی کے خلاف اپنے قلم کا استعمال کیا۔ ”دبستانِ بجنور” اسی جذبے کی ایک روشن مثال ہے۔ ڈاکٹر شیخ نگینوی صرف مصنف نہیں ہیں۔ وہ بجنور کی یادوں کے نگہبان ہیں۔ جس وقت علاقائی زبانوں اور مقامی تاریخ کو بھلایا جا رہا ہے، اس دور میں انہوں نے ”دبستانِ بجنور” جیسی کتاب لکھ کر اپنے ضلع کو امر کر دیا۔
شیخ نگینوی کی دوسری اہم تصنیف *”فیضانِ راقم”* ہے۔ یہ کتاب ریسرچ اسکالرس کے لیے ایک حوالہ جاتی کتاب بن چکی ہے۔ اردو ادب میں دلچسپی رکھنے والے محققین اسے رہنما کتاب کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فیضانِ راقم کتاب کا اجرا نئی دہلی میں جودھپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع، راشٹریہ سہارا کے سابق ایڈیٹر اسد رضا، ڈاکٹر وسیم اقبال اور محمد انور ایڈووکیٹ، نئی دہلی نے کیا تھا۔ اس کے علاوہ ”دبستانِ بجنور حصہ 3”، ”بجنور کی نعتیہ شاعری”، ”یوسف بہزاد ایک شاعر”، ”اختر الایمان کے نئے تنقیدی زاویے ” وغیرہ کتابیں زیرِ اشاعت ہیں۔ ان کی ای-کتابیں اور مضامین ریختہ Rekhta، ”ادبی میراث” پورٹل پر ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہیں، جس سے نوجوان نسل بھی ان سے جڑ رہی ہے۔ ان کی کتابیں خریدنے کے لیے ایمزون پر دستیاب ہیں۔ یوٹیوب پر ہاٹ کیک پورٹل پر ”چلو بات کر کے دیکھتے ہیں 38” پروگرام میں ان کا انٹرویو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ شیخ نگینوی نئی دہلی سے شائع ہونے والے قومی ہندی ماہنامہ ”میڈیا پوسٹ” کے ادبی ایڈیٹر کافی عرصے تک رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر مرتب کردہ عالمی اردو افسانچہ مجموعہ ”بے محاورہ” میں ان کی تخلیق ”گستاخ” شامل ہے۔ شاعروں کی بین الاقوامی ڈائرکٹری ”گوش بر آواز”، مسافرانِ ادب و ”تاریخِ ادب بجنور” میں ان کا کلام و تعارف شامل ہے۔ شاعری میں ان کے استاد کیف میموریل سوسائٹی کے صدر انجینئر انور کیفی مرادآبادی ہیں۔
شیخ صاحب سوشل میڈیا پر بھی مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو نجیب آباد سے ان کی ادبی گفتگو باقاعدہ نشر ہوتی ہیں۔ ملک و بیرون ملک کے اہم ہندی اور اردو اخبارات، ویب پورٹل پر ان کے مضامین، کالم اور کتابوں پر تبصرے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ ریڈیو، پرنٹ میڈیا اور سیمینار، تینوں ذرائع سے ادب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ نظامت میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کی نظامت ادبی، تعلیمی، سماجی اور ملازم تنظیموں کے پروگراموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مختلف شعبوں سے جڑاؤ اس بات کی نشانی ہے کہ ان کی شخصیت کسی ایک دائرے میں محدود نہیں رہی۔ نوکری، کھیل، ادب، تحقیق، ادبی صحافت اور سماجی بیداری — ان سب کو انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے طور پر نبھایا۔ڈاکٹر نگینوی علمی دنیا سے باہر نکل کر عام لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ نگینوی عوامی فلاح کے لیے جہاں ازخود خون عطیہ کرتے ہیں وہیں تعلیمی بیداری کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔
سماج اور ادب کے تئیں لگن کے لیے انہیں کئی بڑے اعزازات ملے۔ قاضی عدیل عباسی عالمی یومِ اردو ایوارڈ، نئی دہلی، سب رس اکیڈمی بھوپال کا پہلا مینا نقوی اعزاز، اتر پردیش اردو اکیڈمی اعزاز دو بار، پانچواں ہمالیہ گرین ایوارڈ، پہلگام (کشمیر)، ہم فیسٹ ممبئی کا ”بجنور رتن ایوارڈ”، ترقی پسند صحافی ایسوسی ایشن کا رفعت سروش اعزاز سمیت تین درجن سے زائد انعامات و اعزازات ان کی خدمات کی گواہی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر نگینوی کو ورلڈ ایکریڈیٹڈ ہیومن رائٹس کی جانب سے بین الاقوامی امن و انسانیت ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ہمالہ ویلفیئر آرگنائزیشن نے انہیں سماج میں ادبی اور ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کے لیے اعزاز سے نوازا۔
آج جب ادب کے ساتھ ساتھ مقامی ادبی تاریخ بھی تیزی سے ہماری یادداشت سے دور ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں اپنے علاقے کے اہلِ قلم اور ادبی روایت کو محفوظ کرنا ایک بے حد اہم خدمت ہے۔ ڈاکٹر شیخ نگینوی صاحب نے اسی ذمہ داری کو اپنی علمی سرگرمیوں کا ایک بنیادی مقصد بنایا۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصلی ادب وہی ہے جو اپنی جڑوں سے جڑا ہو۔ ڈاکٹر شیخ نگینوی آج مغربی اتر پردیش کے اس ستون کا نام ہیں جس نے قلم کے ذریعے نہ صرف کتابیں لکھیں، بلکہ ایک پوری ثقافت کو سانسیں دیں۔
اس طرح ڈاکٹر شیخ نگینوی ایک ساتھ ادیب، محقق، مصنف، مبصر اور ادبی سرگرمیوں سے گہری دلچسپی رکھنے والی شخصیت ہیں۔ ان کی علمی زندگی کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مصروف عملی زندگی کے ساتھ اپنے علاقے کی ادبی تاریخ اور ثقافتی وراثت کو محفوظ کرنے کا کام بھی پوری لگن سے انجام دیا۔
