عبد الرحیم ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ
اسلام ایک ہمہ گیر اور عالمی دین ہے، رہتی دنیا تک کے لیے اللہ نے اس کا انتخاب کیا ہے، دنیا میں امن و امان کا ضامن ہے، اور اس دنیا سے ظلم و عدوان کے خاتمے کا اعلان ہے۔ زمین میں فتنہ و فساد کا خاتمہ اس کا اصل فریضہ ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ایں دم تک یہی مقصد انبیاءِ کرام کے سپرد تھا کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کو ان کے رب سے جوڑا جائے، اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی غلامی میں داخل کیا جائے۔ اس لیے کہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں، اس سے بڑھ کر کوئی ناانصافی نہیں کہ بندہ اپنے خالق و مالک سے دور ہو، اس کا انکار کرے، یا اس کا جو حق ہے اس کو ادا نہ کرے۔
آج چھوٹی چھوٹی کمپنیوں کے مالک اپنے ملازمین (Employees) کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کمپنی میں رہتے ہوئے کسی اور کے حکم کے مطابق چلیں یا کسی اور سے تعلق جوڑیں، حالانکہ ان مالکان کی اصل حیثیت کیا ہے؟ یہ سبھی کو معلوم ہے۔ تو پھر وہ پروردگار جس نے ایک حقیر نطفے سے انسان کو پیدا کیا، تا عمر اس کی پرورش کا ذمہ دار ہے، اس کی ساری ضروریات کی تکمیل کرتا ہے، ہوا، پانی اور غذا فراہم کرتا ہے، سردی اور گرمی سے بچاؤ کا سامان کرتا ہے، وہ کیسے یہ برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اس سے منہ موڑ کر کسی اور سے لو لگائی جائے! اس کو چھوڑ کر کسی اور کی پوجا کی جائے، یا اس کے احکام کو توڑ کر کسی اور کی مانی جائے!
ظاہر ہے کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا ظلم ہے۔ اس لیے اسلام اپنے ماننے والوں کو اس بات کا مکلف بناتا ہے کہ وہ اس دھرتی پر صرف اور صرف خدا کا قانون نافذ کریں۔ یہی اصل انصاف کا تقاضا ہے اور اسی میں دنیا کا امن و امان مضمر ہے، دنیا کا کوئی دوسرا قانون اس کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
اس لیے کہ اگر انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین دنیا میں نافذ ہوں گے، تو وہ بنانے والوں کی نفسیات اور ان کے احوال و کوائف سے ضرور متاثر ہوں گے، تاریخ کے آئینے میں اگر دنیا کے تمام قوانین اور نظامہا ئے زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے:قدیم رومی اور یونانی قوانین بنے تو انہوں نے مخصوص اشرافیہ کے حقوق کا تحفظ کیا اور نچلے طبقے و غلاموں پر ظلم و جبر کو قانونی حیثیت دے دی۔
جدید دور میں سرمایہ داروں نے قانون بنایا تو امیروں کی رعایت کی گئی اور غریبوں کا استحصال ہوا۔جب مزدوروں اور اشتراکیوں نے ردِ عمل میں کمیونزم کا قانون کھڑا کیا تو انہوں نے انسان کی بنیادی آزادی ہی چھین لی اور انجام کار وہ نظام خود اپنے نقائص کی نذر ہو کر گر گیا۔
غرض یہ کہ جب بھی انسان قانون بنائے گا تو قانون ساز طبقے کے اثرات صاف نظر آئیں گے۔ امراء بنائیں گے تو امیروں کی رعایت ہوگی، غریب بنائیں گے تو ان کی نفسیات غالب ہوگی، عورتیں بنائیں گی تو عورتوں کا اور مرد بنائیں گے تو مردوں کے حقوق زیادہ ملحوظِ خاطر ہوں گے۔
اور اگر بالفرض تمام طبقات مل کر بھی کوئی قانون بنائیں، تب بھی وہ پوری دنیا کے لیے قابلِ عمل اور عادلانہ نہیں ہو سکتا؛ اس لیے کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والوں کی نفسیات، ان کی اصل ضروریات اور مستقبل کے تقاضوں کو اگر کوئی جانتا ہے تو وہ صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔ اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ایسا قانون بنا سکے جو ہر طرح سے انسانوں کی فلاح کا ضامن ہو اور دنیا کے امن و امان اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔
لیکن جب قانون ساز اللہ ہوگا، تو وہ ان تمام انسانی کمزوریوں اور تعصبات سے بلند تر ہوگا۔ اس کے قانون میں ہرگز کوئی جانبداری نہیں پائی جا سکتی ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب اتنا غیر جانبدار قانون بنے گا، تو اس کے نفاذ سے دنیا میں عدل و انصاف قائم ہوگا اور ظلم و عدوان کا خاتمہ یقینی ہوگا۔
یہی اہل زمین کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور اسی کے پیشِ نظر دنیا کے سارے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کے نفاذ میں بنیادی طور پر انہی دو باتوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ نہ کسی پر ظلم ہو اور نہ کسی کا حق مارا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا سے فتنہ و فساد کا خاتمہ ہو، اور عدل وانصاف کا بول بالا ہو، اور ہر اس دیوار کو گرا دیا جائے جو اس مقصد کی راہ میں حائل ہو۔لیکن انسانوں کے بنائے ہوئے ناقص قوانین میں نہ اس کی ضمانت دی جا سکتی ہے اور نہ یہ ممکن ہے۔ یہ خصوصیت بس خدا ہی کے بنائے ہوئے قانون کی ہے۔
لہٰذا مسلمان اسی پاکیزہ مقصد کے پیشِ نظر پوری نوعِ انسانی سے کہتا ہے کہ یہ دنیا خدا کی ہے اور اس میں صرف خدا کا قانون نافذ ہونا چاہیے، تاکہ حقیقی امن و امان قائم ہو، ہر مظلوم کی دادرسی ہو، اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرنے پائے۔ اور اس نظامِ عدل کی راہ میں اگر کوئی ظالم رکاوٹ بنے گا تو اس کو ہٹایا جائے گا، اس رکاوٹ کو دور کرنا اسلامی اقتدار کی ذمہ داری ہوگی۔ امن و امان اور عدل کی راہ کی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے جدوجہد کرنا مسلمانوں پر لازم ہے، اور اسی کو اسلام کی اصطلاح میں’’جہاد‘‘کہتے ہیں، جس کے نام سے آج لوگوں کو بلاوجہ بڑی وحشت ہوتی ہے۔
آج دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں کسی بھی ملک پر پابندی عائد کر دیتی ہیں کہ وہ فلاں ہتھیار نہیں بنا سکتا؛ آخر کیوں؟وہ کون ہوتے ہیں کسی آزاد ملک پر پابندی عائد کرنے والے؟لیکن جو چیز اس پابندی کے جواز فراہم کرتی ہے وہ یہی نعرہ ہے نا کہ’’اس سے دنیا کے امن و امان کو خطرہ ہے‘‘! ورنہ ظاہری طور پر کوئی وجہ جواز نہیں ، اور اگر وہ ملک نہ مانے، تو اس کے خلاف باقاعدہ عسکری کارروائی تک روا رکھی جاتی ہے۔ آخر کیوں؟ اسی لیے کہ امن کا قیام اور ظلم کا خاتمہ ہر قیمت پر ضروری ہے۔
لیکن اس حقیقی امن کی ضمانت صرف اور صرف اسلامی قانون کے نفاذ میں ہے، اس لیے کہ یہ اللہ کا بنایا ہوا ضابطہ ہے جو قرآن و حدیث کی شکل میں محفوظ اور موجود ہے۔ دنیا کا کوئی دوسرا مذہب آج تاریخی طور پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس جو ضابطۂ حیات ہے وہ من و عن اللہ ہی کا عطا کردہ ہے، اور اگر کوئی زبانی دعویٰ کرے بھی تو اس کا تاریخی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہوگا۔
لہٰذا دنیا کے سامنے جب یہ بات رکھی جاتی ہے کہ اسلام کے عادلانہ نظام کو قبول کیا جائے یا اس کے امن پسند قانون کی ماتحتی اختیار کی جائے، تو اس کا اصل مقصد کسی کا مذہب زبردستی تبدیل کرانا نہیں ہوتا، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہر حال میں ضروری ہے اور امن و امان کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ایک ایسے ضابطۂ حیات کے تابع ہونا لازم ہے جو ہر قسم کی جانبداری، رنگ و نسل، ذات پات، علاقائیت، اونچ نیچ، عرب و عجم اور کالے گورے کے تعصبات سے پاک اور بالاتر ہو—اور یہ خصوصیت سوائے اسلامی قانون کے دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے۔
پس ہم پورے وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کے لیے نجات اور امن کا ضابطۂ حیات صرف اور صرف اسلام ہی ہے۔ جہاد کا مقصد ہرگز ساری دنیا کو تلوار کے زور پر مسلمان بنانا نہیں ہے، بلکہ دنیا کو ظلم سے پاک کر کے امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے۔ اور دنیا امن کا گہوارہ اسی وقت بن سکتی ہے جب اس میں خدائی قانون کی بالادستی ہو۔ خواہ لوگ اس کی حقانیت کو دل سے تسلیم کر کے مسلمان ہو جائیں، یا پھر اس کے عادلانہ سیاسی و سماجی نظام کی ماتحتی قبول کر لیں۔ ورنہ اس کے بغیر دنیا میں فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری ہی کا راج رہے گا، جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے دنیا میں کیا کچھ ظلم روا نہ تھا، اور آپ کی تشریف آوری اور اسلام کی بالادستی کے بعد دنیا نے کیسا بے مثال امن و انصاف دیکھا!
یہی وہ تاریخی اور عقلی وجہِ جواز ہے دنیا میں اسلام کے نفاذ کا؛ ورنہ دعویٰ تو ہر کوئی کر سکتا ہے کہ ہمارا دین یا ہمارا قانون دنیا میں نافذ کیا جائے، لیکن کوئی یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ اس کے نفاذ سے دنیا سے ظلم واقعی رخصت ہو جائے گا اور امن قائم ہو جائے گا۔ اگر پورے اعتماد اور تاریخی ثبوت کے ساتھ کوئی یہ ضمانت دے سکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔
