’’یہاں کچھ نہیں بچا ہے‘‘

لاتور زلزلہ: میری صحافتی زندگی کی پہلی بڑی کوریج

30 ستمبر 1993ء — کِلاری کے ملبے میں جرمن امدادی کارکن کے الفاظ آج بھی یاد ہیں

جاوید جمال الدین

’’یہاں کچھ نہیں بچا ہے۔‘‘
جرمنی سے آئے ایک امدادی کارکن نے کِلاری کے ملبے کو دیکھتے ہوئے یہ جملہ کہا تھا۔ سامنے مکانوں کے ملبے، ٹوٹی ہوئی دیواریں، بکھرا ہوا گھریلو سامان اور چاروں طرف تباہی کے آثار تھے۔ تربیت یافتہ کتے ملبے کے ڈھیروں میں زندگی کے آثار تلاش کررہے تھے اور امدادی کارکن ان کے اشاروں پر جگہ جگہ ملبہ ہٹا رہے تھے۔
میں خاموش کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
چند گھنٹے پہلے تک جو بستی گھروں، خاندانوں، بچوں کی آوازوں اور روزمرہ زندگی سے آباد تھی، اب ملبے کا ایک وسیع میدان بن چکی تھی۔ صحافی کی حیثیت سے مجھے منظر دیکھنا، نوٹ کرنا اور رپورٹ کرنا تھا، لیکن وہاں کھڑے ہوکر محسوس ہورہا تھا کہ ہر ملبے کے ڈھیر کے نیچے صرف اینٹیں اور پتھر نہیں بلکہ ایک پورا گھر، ایک خاندان اور کسی کی پوری زندگی دفن ہے۔
یہ میری صحافتی زندگی کی پہلی بڑی کوریج تھی، جس کے لیے مجھے ممبئی سے باہر جانے کا موقع ملا تھا۔ اس وقت شاید مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اسائنمنٹ میری یادداشت پر ایسی گہری لکیر کھینچ دے گا کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود 30 ستمبر کی تاریخ آتے ہی کِلاری کے وہ مناظر ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے آنے لگیں گے۔
لاتور کا سفر میرے لیے محض ایک خبر کی تلاش نہیں تھا۔ یہ کئی دنوں تک زلزلہ زدہ علاقوں میں گھومنے، متاثرین سے ملنے، امدادی کارروائیوں کو قریب سے دیکھنے اور ایک عظیم انسانی المیے کو اپنی آنکھوں سے محسوس کرنے کا تجربہ تھا۔
نیوز روم سے کِلاری تک
30 ستمبر 1993ء کی صبح زلزلے کی خبر روزنامہ انقلاب کے دفتر پہنچی تو نیوز روم میں غیرمعمولی سرگرمی شروع ہوگئی۔ اس وقت میں انقلاب سے وابستہ تھا۔ نیوز ایڈیٹر عالم نقوی نے مجھے لاتور جانے کے لیے کہا۔ ایڈیٹر فاضل جعفری صاحب سے بھی بات ہوئی اور یوں یہ ذمہ داری میرے سپرد ہوگئی۔
ممبئی میں رپورٹنگ کرتے ہوئے شہر کے سیاسی، سماجی اور روزمرہ واقعات کی کوریج میرا معمول تھا، لیکن یہ پہلی مرتبہ تھا کہ کسی بڑے قدرتی سانحے کی رپورٹنگ کے لیے مجھے شہر سے باہر بھیجا جارہا تھا۔
میں وکٹوریہ ٹرمینس، موجودہ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس، پہنچا۔ سُدیشور ایکسپریس سے لاتور کی طرف روانگی ہوئی۔ میرے ساتھ ٹائمز آف انڈیا کے نریش فرنانڈیز اور انڈیپنڈنٹ اخبار کی ایک خاتون رپورٹر بھی تھیں۔
ٹرین میں معمول کے مقابلے میں مسافر بہت کم تھے۔ راستے بھر زلزلے کی خبریں اور تباہی کے مختلف اندازے ملتے رہے، مگر اصل صورتِ حال کا اندازہ وہاں پہنچ کر ہی ہونا تھا۔
کُردواڑی کے بعد نیرو گیج کی ٹرین سے سفر کرنا پڑا۔ ٹرین اتنی سست رفتاری سے چل رہی تھی کہ کبھی محسوس ہوتا تھا جیسے سڑک پر چلنے والا کوئی اسکوٹر بھی اسے پیچھے چھوڑ دے گا۔ مگر اس وقت رفتار سے زیادہ اہم منزل تھی۔ ہم جلد از جلد لاتور پہنچنا چاہتے تھے۔
لاتور میں قاضی مخدوم سے پہلی ملاقات
لاتور پہنچنے کے بعد میری ملاقات قاضی مخدوم سے ہوئی۔ انقلاب سے وابستگی کے باعث ان سے فون پر رابطہ رہتا تھا، لیکن یہ ہماری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ وہ مراٹھواڑہ، خصوصاً اورنگ آباد اور بیڑ کے علاقے سے واقف تھے اور مقامی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔
اس وقت ہم دونوں نہیں جانتے تھے کہ یہ ملاقات آگے چل کر ایک مضبوط دوستی اور بھائی چارے میں تبدیل ہوجائے گی۔
قاضی مخدوم کی موجودگی میرے لیے اس لیے بھی اہم تھی کہ میں پہلی بار اس علاقے میں آیا تھا۔ انہیں راستوں، مقامی لوگوں اور حالات کا بخوبی علم تھا۔
حکومت کی ایک گاڑی ہمیں کچھ فاصلے تک لے گئی، لیکن آگے راستہ ایسا تھا کہ گاڑی سے جانا ممکن نہیں رہا۔ بارش ہورہی تھی۔ سڑک پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ کوئی اپنے عزیز کو تلاش کرنے جارہا تھا، کوئی اپنے گھر کا حال معلوم کرنا چاہتا تھا اور کوئی محفوظ مقام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ہم بھی اسی ہجوم کا حصہ بن کر کِلاری کی طرف پیدل چل پڑے۔
کِلاری: چند لمحوں میں بدل جانے والی بستی
کِلاری پہنچتے ہی جو منظر سامنے آیا، وہ آج بھی میرے ذہن میں اسی شدت سے محفوظ ہے۔
بستی کا بیشتر حصہ ملبے میں تبدیل ہوچکا تھا۔ مکانوں کی دیواریں گری ہوئی تھیں، چھتیں زمین میں دھنس گئی تھیں اور گھروں کا سامان اینٹوں، پتھروں اور لکڑی کے ٹکڑوں کے ساتھ بکھرا پڑا تھا۔
جہاں کبھی گھروں کے دروازے کھلتے ہوں گے، وہاں ملبہ تھا۔ جہاں بچوں کی آوازیں گونجتی ہوں گی، وہاں ایک عجیب خاموشی تھی۔
لوگ ملبے کے قریب کھڑے تھے۔ کسی کی نظریں کسی خاص جگہ پر جمی ہوئی تھیں، شاید وہاں اس کا کوئی عزیز دبا ہوا تھا۔ کوئی اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہا تھا، کوئی امدادی کارکنوں کا انتظار کررہا تھا اور کوئی صرف خاموش کھڑا اپنے اجڑے ہوئے گھر کو دیکھ رہا تھا۔
زلزلہ 30 ستمبر 1993ء کو علی الصباح تقریباً 3 بج کر 56 منٹ پر آیا تھا۔ دستیاب زلزلہ پیمائی حوالوں میں اس کی شدت 6.2 Mw درج ہے، جبکہ بعض بھارتی حوالوں میں 6.04 ریختر کا عدد بھی ملتا ہے۔
جانی نقصان کے اعداد بھی مختلف حوالوں میں مختلف ملتے ہیں۔ ایک تحقیقی ماخذ میں 7,928 اموات کا عدد درج ہے، جبکہ دیگر حوالوں میں مجموعی ہلاکتیں تقریباً دس ہزار یا اس سے زیادہ بتائی گئی ہیں۔ میرے پاس موجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7,928 افراد جاں بحق ہوئے، 16 ہزار سے زیادہ افراد زخمی یا متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگ مستقل طور پر زخمی ہوئے۔ 15,854 مویشی بھی ہلاک ہوئے، جبکہ لاتور، عثمان آباد اور آس پاس کے 13 اضلاع میں تقریباً دو لاکھ گیارہ ہزار مکانات کو نقصان پہنچا۔
مہاراشٹر حکومت کے گراؤنڈ واٹر سروے اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی کے مطابق لاتور کے اُس وقت کے زلزلے سے 67 گاؤں متاثر ہوئے تھے اور آج بھی ضلع کے بعض حصے زلزلہ خیز خطے میں شمار کیے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار سانحے کی وسعت بتاتے ہیں، مگر کِلاری میں کھڑے ہوکر جو کچھ آنکھوں نے دیکھا، اسے کسی عدد میں سمیٹنا ممکن نہیں تھا۔
جرمن امدادی ٹیم اور وہ ایک جملہ
کِلاری میں جرمنی سے آنے والی امدادی ٹیمیں بھی پہنچ چکی تھیں۔ ان کے ساتھ تربیت یافتہ کتے تھے جو ملبے میں دبے لوگوں کی تلاش کررہے تھے۔
کارروائی نہایت خاموشی اور احتیاط سے ہورہی تھی۔ کتے ملبے کو سونگھتے ہوئے کسی مقام پر رک جاتے تو امدادی کارکن فوراً متوجہ ہوجاتے۔ پھر اسی جگہ ملبہ ہٹانے کا کام شروع ہوتا۔
ہر بار آس پاس کھڑے لوگوں کی نظریں ایک ہی مقام پر جم جاتیں۔
شاید کوئی زندہ مل جائے۔
شاید کوئی بچ گیا ہو۔
اسی دوران ایک جرمن امدادی کارکن نے تباہ شدہ بستی کو دیکھتے ہوئے کہا:
’’یہاں کچھ نہیں بچا ہے۔‘‘
اس ایک جملے میں اس وقت کِلاری کی پوری تصویر سمٹ گئی تھی۔
میں نے وہ الفاظ اپنی نوٹ بک میں درج کیے تھے یا نہیں، یہ اب یاد نہیں، مگر وہ جملہ میری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔
ملبے کے درمیان کھڑی مسجد
تباہی کے درمیان ایک منظر نے مجھے خاص طور پر روک لیا۔
چاروں طرف مکانات ملبے میں تبدیل ہوچکے تھے، لیکن ایک مسجد اپنی جگہ کھڑی تھی۔ آس پاس بھی تباہی کے آثار تھے اور قریب ہی ایک جنازے کی چارپائی نظر آرہی تھی۔
ملبے، خاموشی، تباہ شدہ گھروں اور جنازے کی چارپائی کے درمیان کھڑی مسجد کا منظر میرے لیے غیرمعمولی طور پر اثرانگیز تھا۔ میں نے اس کی تصویر بھی بنائی۔
بعد میں میری یاد کے مطابق یہ تصویر اردو بلٹز میں ہارون رشید نے نمایاں طور پر شائع کروائی، جبکہ دوسرے اخبارات نے بھی زلزلے کے مختلف مناظر کو نمایاں جگہ دی۔
مگر تصویر شائع ہوئی یا نہیں، میرے لیے اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ میں اس منظر کا عینی شاہد تھا۔
صحافیوں کی رفاقت
لاتور میں مختلف اخبارات اور خبررساں اداروں کے صحافی پہنچ چکے تھے۔ ٹائمز آف انڈیا کے نریش فرنانڈیز کے ساتھ رپورٹنگ ہوئی۔ بی بی سی کے مرحوم نامہ نگار جسوندر سنگھ سے بھی اسی دوران ملاقات ہوئی، جو بعد میں ایک اچھی دوستی میں تبدیل ہوگئی۔
ان کے پاس گاڑی تھی، اس لیے قاضی مخدوم اور ہم نے مل کر زلزلہ زدہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ لاتور کے علاوہ عثمان آباد، عمرگہ، اوسہ اور سولہاپور تک جانے کا موقع ملا۔
ہر جگہ تباہی کی اپنی ایک داستان تھی۔
کہیں پورا خاندان ختم ہوگیا تھا، کہیں کوئی شخص اپنے گھر کے ملبے کے پاس خاموش بیٹھا تھا، کہیں لوگ امداد کے منتظر تھے اور کہیں مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا رہے تھے۔
رپورٹنگ کا دائرہ اب صرف لاتور تک محدود نہیں رہا تھا۔ پورا خطہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بڑے انسانی المیے کی صورت اختیار کرچکا تھا۔
سو روپے کا کمرہ
لاتور میں صحافیوں کے قیام کے لیے ایک سادہ سا کمرہ ملا، جس کا کرایہ تقریباً سو روپے تھا۔ چند ہی دنوں میں یہ کمرہ مختلف صحافیوں کے لیے عارضی ٹھکانا بن گیا۔جوقاضی مخدوم نے حاصل کیاتھا۔
دن بھر زلزلہ زدہ علاقوں میں گھومنے کے بعد رات کو واپس آتے، نوٹس ترتیب دیتے، رپورٹیں تیار کرتے اور اگلے دن کی کوریج کا منصوبہ بناتے۔
جسوندر سنگھ، پرکاش جوشی اور دوسرے صحافیوں کے ساتھ بھی اسی دوران وقت گزارنے کا موقع ملا۔
کسی علاقے سے نئی خبر آتی تو اس پر گفتگو ہوتی۔ کسی صحافی کے پاس متاثرین سے متعلق اہم اطلاع ہوتی تو دوسرے بھی اس سے واقف ہوتے۔ سب اپنی اپنی تنظیموں کے لیے رپورٹنگ کررہے تھے، مگر میدان ایک ہی تھا اور سامنے انسانی المیہ بھی ایک ہی تھا۔
یہ سلسلہ کئی دن جاری رہا۔
میرے لیے یہ پہلا موقع تھا جب کسی بڑے قومی سانحے کی رپورٹنگ مسلسل کئی دن تک متاثرہ علاقے میں رہ کر کرنا پڑی۔
لاتور کی واحد زیروکس دکان
ان دنوں صحافت آج کی طرح موبائل فون، انٹرنیٹ، ای میل اور فوری ڈیجیٹل ترسیل کی صحافت نہیں تھی۔ خبر بھیجنے کے لیے صحافیوں کو مقامی سہولتوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ لاتور میں اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی زیروکس کی دکان ہمارے لیے کسی نیوز ایجنسی کے دفتر سے کم اہم نہیں تھی۔
شہر میں اس وقت زیروکس کی شاید یہی واحد دکان تھی، جہاں ملک بھر سے آئے ہوئے صحافیوں کے ساتھ غیر ملکی صحافی بھی اپنی رپورٹیں اور تصاویر تیار کرکے بھیجنے کے لیے پہنچتے تھے۔ دکان کے باہر اکثر صحافیوں کی لمبی قطار لگی رہتی۔ کسی کے ہاتھ میں ہاتھ سے لکھی ہوئی رپورٹ ہوتی، کسی کے پاس ٹائپ شدہ صفحات، تو کوئی زلزلے کے تازہ مناظر کی تصویریں لیے اپنی باری کا انتظار کررہا ہوتا۔
کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا۔
اس دور میں ایک رپورٹ کو ممبئی، دہلی یا کسی دوسرے شہر کے اخبار کے دفتر تک پہنچانا آج کے چند سیکنڈ کے ای میل یا واٹس ایپ پیغام جیسا آسان کام نہیں تھا۔ ہر صفحہ، ہر تصویر اور ہر لفظ کی اہمیت تھی۔ صحافی جانتے تھے کہ ان کی رپورٹ اگلے دن کے اخبار میں زلزلے کی صورتِ حال کی تصویر بنے گی، اس لیے باری آنے کا انتظار بھی بے چینی کے ساتھ کرتے۔
اس چھوٹی سی دکان میں عجیب منظر ہوتا تھا۔ ایک طرف ملک کے بڑے اخبارات اور خبررساں اداروں کے نمائندے، دوسری طرف غیر ملکی صحافی، اور درمیان میں دکاندار جو مسلسل کام میں مصروف رہتا۔ باہر قطار بڑھتی رہتی اور اندر رپورٹیں اور تصویریں ایک کے بعد ایک تیار ہوتی رہتیں۔
آج جب میں اس زمانے کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ زیروکس کی دکان دراصل لاتور میں قائم ایک غیر رسمی ’’میڈیا سنٹر‘‘ بن گئی تھی۔ وہاں صحافت کی اُس دنیا کی ایک جھلک ملتی تھی جس میں محدود وسائل کے باوجود خبر کو جلد از جلد اپنے اخبار اور قارئین تک پہنچانے کا جذبہ بہت مضبوط تھا۔
اس دکاندار نے بھی بعد میں اس صحافتی ہجوم اور اس غیرمعمولی دنوں کی اپنی ایک یاد محفوظ رکھی۔ کافی عرصے تک وہ صحافیوں کو عیدکارڈاوردیوالی کارڈ کے ذریعہ اور مختلف مواقع پر مبارکباد بھی پیش کرتا رہا۔ اس کا یہ معمول میرے لیے اس بات کی خوب صورت یادگار ہے کہ لاتور کے ان دنوں میں صرف صحافی ہی نہیں، مقامی لوگ بھی اس تاریخی واقعے کا حصہ بن گئے تھے۔
آج اس واقعے کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں۔ ممکن ہے وہ دکان اب موجود نہ ہو، وہ قطاریں بھی ختم ہوچکی ہوں اور رپورٹیں بھیجنے کا وہ طریقہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہو، لیکن میری یادداشت میں وہ منظر آج بھی محفوظ ہے—ایک چھوٹی سی دکان، باہر صحافیوں کی لمبی قطار، ہاتھوں میں رپورٹیں اور تصویریں، اور ہر شخص کی خواہش کہ اس کی خبر کسی طرح جلد از جلد اپنے اخبار تک پہنچ جائے۔
زلزلے کے بعد کی راتیں
زلزلہ گزر گیا تھا، مگر اس کے اثرات ختم نہیں ہوئے تھے۔
آفٹر شاکس جاری تھے۔ لوگ گھروں میں واپس جانے سے ہچکچا رہے تھے۔ بہت سے خاندان کھلے میدانوں، سڑکوں یا عارضی خیموں میں رات گزار رہے تھے۔
رات میں کوئی جھٹکا محسوس ہوتا تو لوگ فوراً باہر نکل آتے۔ جن گھروں کی دیواریں بظاہر کھڑی تھیں، ان کے مکین بھی مطمئن نہیں تھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اگلا جھٹکا کب آئے گا اور اس کی شدت کیا ہوگی۔
زلزلے کے بعد متاثرین کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگیا تھا۔ جن کے گھر تباہ ہوگئے تھے، ان کے سامنے رہائش، روزگار، بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے مسائل کھڑے تھے۔
قدرتی آفت چند سیکنڈ میں گزر گئی تھی، مگر اس کے اثرات نے لوگوں کی زندگیوں کو برسوں کے لیے بدل دیا تھا۔
ملبے کے درمیان انسانیت
تباہی کے ان دنوں میں ایک اور منظر بار بار سامنے آیا—لوگ ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے۔
کسی نے پانی پہنچایا، کسی نے کھانا دیا، کسی نے زخمی کو اٹھایا اور کسی نے ملبہ ہٹانے میں ہاتھ بٹایا۔
اسی دوران ایک جملہ میں نے سنا جو آج تک میری یادداشت میں محفوظ ہے۔
ایک ہندو شخص مسلمانوں سے کہہ رہا تھا:
’’بھائی، اذان پڑھو… اذان پڑھو۔‘‘
زلزلے نے سب کو ایک ہی آزمائش میں لا کھڑا کیا تھا۔ گھروں کی تباہی، عزیزوں کی جدائی اور امداد کی ضرورت کے سامنے مذہبی شناختیں پس منظر میں چلی گئی تھیں۔
یہ منظر لاتور کی میری یادوں میں ہمیشہ ایک الگ جگہ رکھتا ہے۔
ایک طرف ملبے میں تبدیل ہوتی بستی تھی، دوسری طرف انسانیت کا وہ جذبہ تھا جو ملبے کے نیچے دفن ہونے کے بجائے اور نمایاں ہوگیا تھا۔
افواہوں کے درمیان صحافی کی ذمہ داری
بڑے سانحات کے ساتھ افواہیں بھی تیزی سے پھیلتی ہیں۔ لاتور میں بھی مختلف باتیں سننے کو مل رہی تھیں۔
ایک مراٹھی اخبار ’’بھوکمپ‘‘ اور ایک سادھو سے منسوب بیان کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ زلزلے سے قبل علاقے میں بعض خفیہ سرگرمیاں ہورہی تھیں اور انہیں بابری مسجد کے تنازع سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا تھا، اس لیے اسے خبر کے طور پر استعمال نہیں کیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مجھے صحافت کی ایک بنیادی ذمہ داری کا عملی احساس ہوا: جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اسے پوری دیانت داری سے بیان کرنا اور جو صرف سنا ہے، اسے تصدیق کے بغیر حقیقت نہ بنانا۔
لاتور نے مجھے صرف سانحے کی رپورٹنگ نہیں سکھائی؛ اس نے خبر اور افواہ کے درمیان فرق کی اہمیت بھی سمجھائی۔
قاضی مخدوم: رفاقت سے بھائی چارے تک
لاتور کی اس کوریج نے مجھے قاضی مخدوم کے قریب کردیا۔
ابتدا میں ہمارا تعلق صحافتی ضرورت اور پیشہ ورانہ رابطے کا تھا، مگر اس سفر کے بعد یہ رشتہ ذاتی قربت اور بھائی چارے میں بدل گیا۔
بعد میں قاضی مخدوم نے بیڑ سے روزنامہ تعمیر جاری کیا اور صحافت میں اپنی شناخت بنائی۔ مختلف شعبوں کی اہم شخصیات سے ان کے روابط رہے اور ان کے بیٹے نے بھی سرکاری تشہیری شعبے میں کام کیا۔
لیکن میرے لیے قاضی مخدوم کی سب سے اہم شناخت وہی ہے جو لاتور کے ان دنوں میں بنی—ایک ایسا ساتھی جو مشکل وقت میں ساتھ تھا۔
اسی لیے میں انہیں دوست سے زیادہ بھائی سمجھتا ہوں۔
اگر میری یاد درست ہے تو ان کی سالگرہ بھی یکم اکتوبر کو ہے۔ یہ اتفاق میرے لیے ہمیشہ دلچسپ رہا کہ میری صحافتی زندگی کی ایک اہم تاریخ اور ان کی زندگی کی ایک اہم تاریخ ایک دوسرے کے بالکل قریب آتی ہیں۔
جسوندر سنگھ کی یاد
لاتور کی یادوں میں جسوندر سنگھ کا ذکر بھی لازم ہے۔
بی بی سی کے لیے رپورٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے زلزلے کے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ ان کی گاڑی میں قاضی مخدوم اور ہمارے ساتھ عثمان آباد، عمرگہ، اوسہ اور سولہاپور تک جانے کا موقع ملا۔
اس وقت ہم سب خبر کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ برسوں بعد انہی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کچھ چہرے ہمارے درمیان نہیں ہوں گے۔
جسوندر سنگھ بھی بعد میں ہم سے جدا ہوگئے، مگر لاتور کی یادوں میں وہ آج بھی موجود ہیں۔
میری پہلی بڑی آؤٹ ڈور کوریج
لاتور میرے لیے اس لحاظ سے بھی اہم رہا کہ اس نے پہلی مرتبہ مسلسل کئی دن تک ممبئی سے باہر رہ کر بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کا موقع دیا۔
نیوز روم میں بیٹھ کر کسی واقعے کی خبر حاصل کرنا ایک الگ تجربہ ہے، اور خود موقع پر پہنچ کر متاثرین سے ملنا، راستوں کی دشواریوں سے گزرنا، امدادی کارروائی دیکھنا، مختلف علاقوں میں جانا اور ہر روز اپنی رپورٹ تیار کرنا بالکل مختلف تجربہ۔
لاتور میں تقریباً دس دن اسی طرح گزرے۔
دن بھر کی کوریج کے بعد محدود سہولتوں کے باوجود رپورٹ تیار کرنا ہوتی۔ اگلے دن پھر کسی نئے علاقے کی طرف نکلنا ہوتا۔
جب یہ سلسلہ ختم ہوا تو میرے پاس صرف کئی رپورٹیں نہیں تھیں؛ میرے پاس لاتور کے بے شمار چہرے، آوازیں، راستے، ملبے کے ڈھیر اور خاموشیاں بھی تھیں۔
آج بھی کِلاری سامنے آجاتا ہے
30 ستمبر آتا ہے تو سب سے پہلے وہ سفر یاد آتا ہے۔
وہ ٹرین۔
کُردواڑی کے بعد کی سست رفتار ریل۔
بارش میں کئی کلومیٹر پیدل سفر۔
کِلاری کا ملبہ۔
تربیت یافتہ کتے۔
امدادی کارکن۔
اپنے عزیزوں کی تلاش میں کھڑے لوگ۔
تباہی کے درمیان کھڑی مسجد۔
جنازے کی چارپائی۔
سو روپے کا وہ کمرہ۔
قاضی مخدوم کی رفاقت۔
جسوندر سنگھ کی یاد۔
اور پھر وہ آواز:
’’یہاں کچھ نہیں بچا ہے۔‘‘
مگر اسی یاد میں ایک دوسری آواز بھی شامل ہوجاتی ہے:
’’بھائی، اذان پڑھو… اذان پڑھو۔‘‘
یہ دونوں جملے لاتور کی میری یادداشت کے دو مختلف مگر گہرے پہلو ہیں۔
ایک طرف ایک بستی کی تباہی تھی، دوسری طرف اسی تباہی کے درمیان ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے انسان۔
30 ستمبر 1993ء کو میں ممبئی سے ایک رپورٹر کی حیثیت سے لاتور گیا تھا۔ مجھے شاید اس وقت معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر میری صحافتی زندگی کی ایک ایسی یاد بن جائے گا جو وقت گزرنے کے ساتھ دھندلی ہونے کے بجائے مزید واضح ہوتی جائے گی۔
زلزلہ چند لمحوں کا تھا، مگر اس کے نشان دہائیوں تک باقی رہے۔
اور میری صحافتی یادداشت میں کِلاری آج بھی وہیں کھڑا ہے—ملبے کے درمیان، بارش میں بھیگا ہوا، خاموش۔
میں آج بھی وہاں کھڑا ایک جرمن امدادی کارکن کی آواز سنتا ہوں:
’’یہاں کچھ نہیں بچا ہے۔‘‘
اور پھر اسی ملبے کے درمیان سے ایک دوسری آواز ابھرتی ہے:
’’بھائی، اذان پڑھو… اذان پڑھو۔‘‘
شاید لاتور کی پوری کہانی انہی دو آوازوں کے درمیان محفوظ ہے—ایک آواز تباہی کی، دوسری انسانیت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
@javedjamaluddin
#Javed Jamaluddin #earthquak #laturmahrashtra #latur33year

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے