وِدھان سودھا کی بحث میں زبان سے زیادہ ہمارے سماجی رویّے نمایاں ہوگئے

از: عبدالحلیم منصور

زبان کے معاملے میں تعصب شاید اس وقت اپنی سب ساے عجیب شکل اختیار کرتا ہے جب ایک زبان کو اس کے الفاظ، ادب، تاریخ اور تہذیب کے بجائے اس کے بولنے والوں کے مذہب سے پہچانا جانے لگے۔ بنگلورو میں مجوزہ ’’اردو ہبا‘‘ کے معاملے میں سامنے آنے والے بعض اعتراضات نے اسی پرانے سوال کو پھر زندہ کردیا ہے: کیا اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے؟ کیا اردو کا کوئی تہذیبی وجود مسلمانوں کے مذہبی وجود سے الگ نہیں؟ اور کیا کرناٹک میں کنڑا کی عظمت ثابت کرنے کے لیے اردو کو مشکوک بنانا ضروری ہے؟
ان سوالات کا جواب تاریخ بھی دیتی ہے، آئین بھی اور ہندوستان کی ادبی روایت بھی۔ جواب صاف ہے: اردو کسی مذہب کی جاگیر نہیں، ہندوستان کی ایک تاریخی زبان ہے؛ اور کنڑا کی محبت اردو سے دشمنی کا نام نہیں۔9 نومبر کو وِدھان سودھا کی سیڑھیوں پر اردو ہبا منعقد کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اور کرناٹک رکشنا ویدیکے کی طرف سے مخالفت ہوئی۔ اعتراض کا ایک اہم پہلو مقام تھا۔ یہ اعتراض اپنی جگہ زیرِ بحث آسکتا ہے، کیونکہ وِدھان سودھا ایک اہم سرکاری عمارت ہے اور وہاں کسی بھی پروگرام کے لیے انتظامی اصولوں کی پابندی ہونی چاہیے۔ خود وزیر یو۔ٹی۔ قادر نے بھی بعد میں واضح کیا کہ وہ کسی ایسی سرگرمی پر اصرار نہیں کریں گے جس سے ریاست میں مسئلہ پیدا ہو، اور اعتراضات سننے و متبادل پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تازہ صورتِ حال میں وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے بھی کہا گیا کہ وِدھان سودھا کی سیڑھیوں پر غیر سرکاری پروگرام کی اجازت نہیں ہے۔
یہاں تک بات بالکل قابلِ فہم ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مقام پر اعتراض زبان کے خلاف اعتراض میں تبدیل ہوجائے؛ جب اردو کو کرناٹک سے باہر کی زبان قرار دینے کی کوشش کی جائے؛ یا جب یہ تاثر دیا جائے کہ اردو کی ثقافتی موجودگی کا مطلب کنڑا کی پسپائی ہے۔یہ تصور نہ تاریخی طور پر درست ہے، نہ آئینی طور پر، نہ تہذیبی طور پر۔
سپریم کورٹ نے 15 اپریل 2025 کو ایک نہایت اہم فیصلے میں اردو کے بارے میں ایسے تمام تعصبات کا براہِ راست جواب دے دیا تھا۔ورشاتائی بنام ریاست مہاراشٹرا مقدمے میں عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ ایک میونسپل کونسل کی عمارت پر مراٹھی کے ساتھ اردو میں نام لکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف اردو کے استعمال کو برقرار رکھا بلکہ زبان اور مذہب کے تعلق پر نہایت واضح اصول بیان کیا: زبان مذہب نہیں ہے؛ زبان کا تعلق لوگوں، خطے اور ثقافت سے ہے، کسی مذہب سے نہیں۔ عدالت نے اردو کو ہندوستانی سرزمین پر پیدا اور پروان چڑھنے والی زبان قرار دیا اور اسے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت کی ایک نمایاں مثال بتایا۔یہ محض کسی صحافی، ادیب یا سیاست دان کی رائے نہیں؛ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا مشاہدہ ہے۔سپریم کورٹ نے اسی فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اردو ہندوستان سے باہر سے درآمد شدہ زبان نہیں بلکہ اسی سرزمین پر مختلف ثقافتی ماحول رکھنے والے لوگوں کے درمیان رابطے کی ضرورت سے پروان چڑھی۔ عدالت نے ہندوستانی عدالتی زبان میں ’عدالت‘، ’حلف نامہ‘، ’پیشی‘، ’وکالت نامہ‘ اور ’دستی‘ جیسے الفاظ کی موجودگی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ یعنی اردو صرف کتابوں، مشاعروں اور شاعری تک محدود زبان نہیں؛ ہندوستانی اجتماعی زندگی نے اس کے الفاظ کو اپنی روزمرہ اور ادارہ جاتی زبان کا حصہ بنایا ہے۔تو پھر اردو کو مسلمانوں کی زبان کہہ کر محدود کرنے کی ضرورت کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟
یہ کہنا درست ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اردو کو بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، اور اس کے بعد یہ نتیجہ نکالنا کہ اردو کا فروغ کسی مذہبی برادری کی سیاسی سرپرستی ہے، تاریخ کو ایک مذہبی خانے میں بند کردینا ہے۔ زبان کسی ایک طبقے کے زیادہ استعمال کرنے سے اس طبقے کی ملکیت نہیں بن جاتی۔ اگر یہی اصول مان لیا جائے تو پھر پریم چند، فراق گورکھپوری، پنڈت رتن ناتھ سرشار، برج نارائن چکبست، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی جیسے نام اردو کی تاریخ میں کہاں رکھے جائیں گے؟ اردو ادب کی عظمت ہی اس بات میں ہے کہ اس نے مذہبی شناخت کی دیواروں سے کہیں آگے انسانی تجربے کو اپنی زبان بنایا۔
فراق گورکھپوری نے اردو شاعری میں جو مقام حاصل کیا، وہ کسی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی ادبی تخلیق کی بنیاد پر تھا۔پریم چند نے ہندوستانی سماج کی غربت، طبقاتی تقسیم، انسانی کمزوری اور اخلاقی کشمکش کو اردو اور ہندی دونوں ادبی روایتوں میں موضوع بنایا۔ چکبست نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب اور قومی احساس سے جوڑا۔ کرشن چندر اور بیدی نے انسانی دکھ، محبت اور سماجی ناانصافی کو زبان دی۔یہ سب اردو کے ادبی ورثے کا حصہ ہیں۔اس لیے اردو کو ’’مسلمانوں کی زبان‘‘ کہنے سے پہلے اردو ادب کی پوری تاریخ پڑھنی چاہیے۔
اردو کی ہندوستانی شناخت صرف ادیبوں کی فہرست سے ثابت نہیں ہوتی۔ اس زبان نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک، صحافت، عوامی شعور، تھیٹر، فلم، موسیقی اور سماجی اصلاح میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ اردو کے ذریعے ہندوستانی معاشرے نے محبت، مزاحمت، انقلاب، آزادی، روحانیت اور انسانی رشتوں کو اظہار دیا۔ رام پرساد بسمل کی شاعری سے لے کر آزادی کی تحریک کی صحافت تک اردو نے ہندوستانی سیاسی شعور کے ارتقا میں اپنا حصہ ڈالا۔اور اردو کا سب سے بڑا کمال شاید یہ ہے کہ اس نے مختلف زبانوں اور تہذیبوں سے الفاظ لینے میں کبھی عار محسوس نہیں کی۔ فارسی، عربی، ترکی، برج، ہندی، پنجابی، سنسکرت اور مقامی بولیوں کے اثرات نے اسے ایک ایسا لسانی پیکر دیا جو ہندوستان کے تہذیبی اختلاط کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اردو کو سمجھنا صرف ایک زبان کو سمجھنا نہیں؛ ہندوستان کے ایک بڑے تہذیبی تجربے کو سمجھنا بھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اردو کی ادبی طاقت نے ہندوستانی فلمی دنیا کو بھی متاثر کیا۔ ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی، شکیل بدایونی، مجروح سلطانپوری، راہی معصوم رضا، جاوید اختر اور بے شمار دوسرے اہلِ قلم نے فلمی شاعری، مکالمے اور گیت کو ایسی زبان دی جسے مذہبی شناخت کے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستانی فلمی ثقافت کے مقبول الفاظ، استعارات اور جذباتی اظہار میں اردو کی شراکت اتنی گہری ہے کہ اردو کو ہٹا کر اس ثقافتی تاریخ کی مکمل تصویر بنانا ممکن نہیں۔
لیکن اس پورے تنازعے کا سب سے خوب صورت جواب شاید کرناٹک خود دیتا ہے۔یہاں اردو اور کنڑا کا تعلق صرف پڑوس کا نہیں، ادبی تبادلے کا بھی ہے۔ حمید الماس نے بسویشور کے 108 وچنوں کو اردو میں منتقل کیا۔ ان کا ترجمہ ’’فرمودات‘‘ ساہتیہ اکادمی کے اردو ترجمہ انعام کے ریکارڈ میں درج ہے۔ ذرا سوچیے، اگر اردو کنڑا کی دشمن ہوتی تو بسویشور کے وچن اردو میں کیوں آتے؟اگر اردو کنڑا سے نفرت کرتی تو کنڑا ادب کے تراجم اردو میں کیوں ہوتے؟اگر زبانیں مذہبی جنگ کے ہتھیار ہوتیں تو ایک زبان کا ادیب دوسری زبان کے عظیم شاعر کو اپنی زبان کے قارئین تک کیوں پہنچاتا؟
خلیل مامون نے کنڑا ادب کو اردو قارئین سے متعارف کرانے کے لیے جو کام کیا، وہ اسی لسانی رشتے کی مثال ہے۔ اور شانتَرسا کی زندگی تو اس تصور کے لیے ایک مکمل جواب ہے کہ اردو اور کنڑا ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے شانتَرسا نے اردو سے کنڑا میں ترجمہ کیا، اردو غزل کے فنی تجربے کو کنڑا تک پہنچایا اور بعد میں کنڑا ساہتیہ سمیلن کی صدارت کی۔ زبان نے ان کے لیے کوئی مذہبی دیوار نہیں بنائی؛ زبان نے ان کے لیے دو ادبی دنیاؤں کے دروازے کھولے۔یہی وہ مقام ہے جہاں آج کے لسانی تنازعے کو اپنے آپ سے ایک بنیادی سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم زبانوں کے درمیان وہ پل توڑنا چاہتے ہیں جنہیں ہمارے ادیبوں نے دہائیوں میں تعمیر کیا؟
کنڑا کرناٹک کی سرکاری زبان ہے۔ اس کی سرکاری، انتظامی اور عوامی حیثیت پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ کنڑا کے فروغ کے لیے حکومت کو تعلیم، انتظامیہ، ٹیکنالوجی، تحقیق، روزگار اور عوامی زندگی میں اسے مضبوط بنانا چاہیے۔ یہ ایک جائز اور ضروری مطالبہ ہے۔لیکن کنڑا کی مضبوطی کا مطلب دوسری ہندوستانی زبانوں کی کمزوری نہیں ہوسکتا۔ایک مضبوط زبان اپنے وجود کے لیے دوسری زبان کی شکست کی محتاج نہیں ہوتی۔
اگر کوئی شخص کنڑا کو مضبوط بنانے کے لیے اردو کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو وہ دراصل کنڑا کی قوت کو کم سمجھتا ہے۔ ہزاروں برس کی تاریخ رکھنے والی، شاندار ادبی روایت رکھنے والی اور دنیا کی بڑی کلاسیکی زبانوں میں شمار ہونے والی کنڑا کو اردو سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے؟اور اگر کوئی اردو کے حق میں کنڑا کی توہین کرتا ہے تو وہ بھی اردو کی خدمت نہیں کررہا۔
زبان کی محبت کا سب سے پاکیزہ اظہار دوسری زبان سے نفرت نہیں بلکہ اپنی زبان کو بہتر، مضبوط اور زیادہ بااثر بنانا ہے۔اسی اصول کو وِدھان سودھا کے تنازعے پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔
اگر وہاں اردو ہبا کے انعقاد کی اجازت نہیں ہے تو حکومت کو ضابطے کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مقام غیر مناسب ہے تو دوسرا مقام منتخب کیا جائے۔ اگر سرکاری عمارتوں کے استعمال کے لیے واضح ضابطے ہیں تو انہیں ہر زبان پر یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ لیکن اگر اعتراض صرف اس لیے ہے کہ پروگرام اردو کے نام سے ہے، تو یہ ایک الگ اور زیادہ سنجیدہ سوال ہے۔کیا کسی زبان کا نام ہی اسے مشتبہ بنا دیتا ہے؟اگر آج اردو مشکوک ہے، تو کل تمل، تیلگو، مراٹھی، کونکنی یا کسی دوسری زبان کے لیے بھی یہی منطق استعمال ہوسکتی ہے۔ پھر زبان کا حق اس کے بولنے والوں کی تعداد، مذہب یا سیاسی اثر و رسوخ سے طے ہوگا، آئینی اصول سے نہیں۔یہ راستہ خطرناک ہے۔
ہندوستان کی خوب صورتی یہی ہے کہ یہاں زبانیں ایک دوسرے کو متاثر کرتی ہیں۔ کوئی زبان تنہا نہیں رہتی۔ کنڑا نے دوسری زبانوں سے لیا، دوسری زبانوں نے کنڑا سے لیا۔ اردو نے مقامی زبانوں سے الفاظ لیے، مقامی زبانوں نے اردو سے محاورے اور ادبی اصناف لیں۔ یہی زندہ زبانوں کی فطرت ہے۔اسی لیے ’’اردو ہبا‘‘ کو بھی صرف اردو والوں کا پروگرام بنانے کے بجائے ایک ایسا ثقافتی موقع بنایا جاسکتا ہے جس میں کنڑا اور اردو کے مشترکہ ادبی سفر کو سامنے لایا جائے۔ بسویشور کے اردو تراجم، کنڑا شعرا کے اردو تراجم، اردو غزل کے کنڑا اثرات، دکن کی مشترکہ تہذیب اور کرناٹک کی کثیر لسانی ادبی روایت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر پیش کیا جائے۔ تب شاید وہ لوگ بھی اردو کو قریب سے دیکھ سکیں جنہوں نے اسے صرف ایک مذہبی شناخت کے ذریعے جانا ہے۔
اور یہی وزیر یو۔ٹی۔ قادر کے اعلان کا سب سے مثبت پہلو ہوسکتا ہے: اردو کو مسلمانوں کے درمیان نہیں، مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان لے جانا۔ اردو ہبا کا مقصد اگر واقعی یہی ہے تو اسے جذباتی سیاست سے نکال کر علمی اور ثقافتی مکالمے میں تبدیل کرنا چاہیے۔
اردو کو ’’مسلمانوں کی زبان‘‘ کہنے والوں کو ایک بار رک کر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ نے 2025 میں زبان اور مذہب کے درمیان اس طرح کی نسبت کو مسترد کیا ہے۔ عدالت نے اردو کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں لسانی تنوع ہماری کمزوری نہیں، ہماری قوت ہے؛ اور زبان لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہے، انہیں تقسیم کرنے کا نہیں۔یہ فیصلہ صرف اردو کے لیے اہم نہیں؛ یہ ہندوستان کی تمام زبانوں کے لیے ایک اصول پیش کرتا ہے۔
اسی لیے آج ضرورت اردو کے دفاع سے بھی آگے بڑھ کر ایک بڑے اصول کے دفاع کی ہے: زبان کو مذہب کا قیدی نہ بنایا جائے۔اردو کو مسلمان سے جوڑنا اتنا ہی غلط ہے جتنا کنڑا کو کسی ایک مذہبی یا سیاسی شناخت کا نمائندہ سمجھنا۔ زبان انسانوں کی مشترکہ میراث ہے۔ اسے مذہبی شناخت کی مہر لگا کر محدود کرنا دراصل زبان کی وسعت کو محدود کرنا ہے۔
شاید اس پورے تنازعے کی معنویت کو ایک مختصر مگر گہری بات زیادہ بہتر طور پر سمیٹتی ہے کہ زبان کسی مذہب کی جاگیر نہیں، لوگوں کی مشترکہ میراث ہوتی ہے۔ اردو کو مسلمانوں تک محدود کرنا اتنا ہی نامناسب ہے جتنا کنڑا کو صرف ایک مخصوص طبقے کی ملکیت سمجھنا۔ زبانیں دیواریں کھڑی کرنے کے لیے نہیں، معاشروں کے درمیان رابطے کے پل بنانے کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ اس لیے کسی زبان کے حقِ اظہار کو تسلیم کرنا دوسری زبان کے حق کو کم نہیں کرتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زبان سے محبت کرتے ہوئے دوسری زبان کے وجود کا احترام بھی کر سکتے ہیں؟
وِدھان سودھا کی سیڑھیوں پر اردو ہبا ہوگا یا نہیں، یہ انتظامی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اردو کو ہندوستانی ماننا یا نہ ماننا انتظامی فیصلہ نہیں؛ تاریخ اس کا جواب دے چکی ہے۔ اردو کو مسلمانوں کی جاگیر سمجھنا بھی کوئی آئینی حقیقت نہیں؛ تاریخ، ادب اور سپریم کورٹ کے الفاظ اس تصور کی تردید کرتے ہیں۔اور کنڑا کو اردو کے مقابل کھڑا کرنا بھی کنڑا کی خدمت نہیں۔
کنڑا کو اس کی پوری عزت ملنی چاہیے؛ اردو کو اس کا جائز مقام ملنا چاہیے؛ تلو، تمل، تیلگو، مراٹھی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کو بھی اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ جینے کا حق ہونا چاہیے۔ یہی لسانی انصاف ہے، یہی آئینی روح ہے اور یہی کرناٹک کی کثیر لسانی حقیقت کا احترام ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ وِدھان سودھا کی سیڑھیوں پر کون سی زبان کا جشن منایا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں اپنی زبان سے محبت کرنے کے لیے دوسری زبان سے نفرت ضروری نہ ہو؟اگر جواب ہاں ہے تو اردو سے تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔اور اگر کنڑا واقعی اتنی عظیم زبان ہے جتنی ہم بجا طور پر کہتے ہیں، تو اسے اردو سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
کنڑا کی عزت اردو کو نیچا دکھانے سے نہیں بڑھے گی؛ اردو کی عزت کنڑا کو نظر انداز کرنے سے نہیں بڑھے گی۔ دونوں کی عزت اسی وقت بڑھے گی جب زبان کو سیاست کی دیوار نہیں، انسانوں کے درمیان پل بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے