مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ، پٹنہ
انتخابی کمیشن کو ایک خود مختار ادارہ کی قانونی حیثیت حاصل ہے، ہندوستانی جمہوریت کی بقا اور استحکام کا سارا مدار غیرجانبدارانہ انتخاب پر ہے، لیکن چیف الیکشن کمشنر مبینہ طورپر اقتدار کی گود میں بیٹھ کر مرکزی اور ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو حکومت دلانے کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں ، ایس آئی آر (SIR) ان معاملات میں سے ایک ہے، جس میں بڑے پیمانے پر دھاندھلی کرکے مخالف پارٹیوں کے ووٹروں اور ایک خاص مذہب کے ماننے والے کو رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے ان کے نام کاٹے گیے اور ان سے ثبوت طلب کیے گیے، ان میں کئی ملک گیر سطح کی نامور ہستیاں بھی تھیں ، اس کے نتیجہ میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ رائے دہندگی سے محروم ہوگیے، دس بارہ دستاویز پیش کرنے کے بعد بھی حذف شدہ لوگوں کے ناموں کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا، دوسرا طریقہ مخالف پارٹیوں کے امیدواروں کو ہرانے کے لیے ووٹوں کی گنتی کے وقت سرکاری افسران کا رویہ تھا، مغربی بنگال کے نندی گرام سیٹ پر ممتا بنرجی کو ہرانے کے لیے ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے جو سلوک کیا گیا اور مارپٹائی کرکے انہیں گنتی ہال سے نکال دیا گیا یہ اس صورت حال کی بدترین مثال ہے، مبینہ طور پر کہیں کہیں نتائج روک لیے گیے اور ایسا ہیر پھیر کیا گیا کہ بی جے پی اور این ڈی اے کے امیدوار جیت گیے اور جو جیت رہا تھا، وہ منہ دیکھتا رہ گیا، سرکاری وسائل وذرائع کا استعمال اس سے قبل کسی الیکشن کمشنر نے اس طرح نہیں کیا تھا، گیانیش کمار سب کر رہے ہیں، اس معاملہ میں ٹی این سیشن کا دور مثالی تھا، الیکشن کمشنر کی حیثیت سے جس غیر جانبدارانہ طریقہ سے انہوں نے انتخاب کرایا تھا، اس کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق گیانیش کمار کے اس طریقۂ کار سے الیکشن کمیشن کے دو الیکشن کمشنر سُکھ بیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے 29/اکتوبر 2025 سے 14/اگست 2026ء تک کوئی دس ماہ کے دوران چودہ بار اختلاف کیا اور اعتراضات جتائے، 16/اپریل 2026ء کو ان حضرات نے ایک ہی دن میں چار اعتراضات درج کرائے اور ان کی کاپیاں جناب گیانیش کمار کے ساتھ ان افسران اور ذمہ داران کو بھی بھیجی گئیں ، جو متعلقہ کاموں کی نگرانی کر رہے تھے، ان اعتراضات کے اہم موضوعات میں سے ایک ایس آئی آر کی شفافیت تھی، دونوں الیکشن کمیشن نے رائے دہندگان کے ناموں کو جوڑنے، حذف کرنے اور بحال کرنے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے، ان دونوں نے ایس آئی آر کے لیے استعمال کیے جانے والے فارم 6 میں تبدیلی کو بے ضابطہ اور غیر قانونی بتایا، اسے ہم انتظامی طورپر غیر متفق ہونے کی بات کہہ کر ٹال نہیں سکتے، یہ واضح طورپر انتخابی کمیشن کے فیصلے کے طریقۂ کار، شفافیت اور ادارہ جاتی جواب دہی سے جڑا بڑا اہم سوال ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، دونوں الیکشن کمشنر کا یہ کہنا کہ بہت سارے فیصلے ان کی جانکاری میں لائے بغیر اوپر ہی اوپر جاری کردیے گیے، یہ اس پورے معاملہ کا سب سے غور طلب پہلو ہے، جس ادارہ کے فیصلے لاکھوں کی تعداد میں رائے دہندگان کے حقوق کو متاثر کر رہے ہیں ، ان میں کس قدر اجتماعی فیصلے اور شفافیت کی ضرورت ہے، اس کا اندازہ ہر باشعور آدمی لگا سکتا ہے۔
انتخابی کمیشن پہلے یک نفری ہوتا تھا، 1993ء میں اسے سہ نفری بنایا گیا، یہ ٹی این سیشن کا دور تھا، وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہونچے، لیکن عدالت نے سہ نفری کمیشن کو باقی رکھا، اس طرح ایم ایس گل اور جی وی جی کرشنامورتی الیکشن کمیشن میں ٹی این سیشن کے ساتھ جڑ گیے، البتہ سپریم کورٹ نے تینوں انتخابی کمشنر کے اختیارات مساوی رکھے صرف چیف الیکشن کمشنر کو مجلس کی صدارت کا حق دیا اور فیصلے اکثریت یامتفقہ طورپر لینے کا حکم ہوا، لیکن موجودہ حکومت کو یہ بات پسند نہیں آئی، چنانچہ اس نے ایک قانون بناکر الیکشن کمشنر کے انتخاب کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی اور سہ نفری کمیٹی میں جس میں پہلے وزیر اعظم، حزب مخالف کے قائد اور چیف جسٹس کو رکھا گیا تھا، حکومت نے 2023ء میں اس کمیٹی میں چیف جسٹس کی جگہ حکمراں پارٹی کے وزیر کو رکھدیا، اس کے لیے پہلے آرڈننس جاری کروایا اور پھر پارلیامنٹ میں لاکر اسے قانون بنادیا، اس طرح انتخابی کمیٹی میں دو ارکان حکمراں پارٹی کے ہوگیے اور من مانی کا راستہ صاف ہوگیا، اکیلا حزب مخالف کا قائد دو کے مقابلہ کیا کرسکتا تھا، اس لیے یاتو وہ کمیٹی کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوپاتا ،یا واک آؤٹ کرجاتاہے ، اس لیے الیکشن کمشنر کے انتخاب کا یہ سارا عمل وزیر اعظم کی مرضی پر منحصر ہوکر رہ گیا، اس تبدیلی کا جو اثر ہورہا ہے، اس سے پوری دنیا واقف ہے، چنانچہ گیانیش کو ہٹانے کے لیے پورے ہندوستان میں احتجاج، مظاہرے شروع ہوگیے ہیں ، کانگریس کی حلیف پارٹیاں اور کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی گیانیش کمار کو نہیں ہٹانے کی صورت میں ملک گیر تحریک کا اعلان کر رکھا ہے، اگر یہ تحریک زور پکڑ تی ہے تو عوام کا مکمل اعتماد الیکشن کمیشن سے ختم ہوجائے گا، جو نہ ملک کے مفاد میں ہوگا اور نہ حکومت کے۔
رائے دہندگان کی فہرست کو صحیح اور درست کرنا جس قدر ضروری ہے، اس سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی صحیح ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہ ہوجائے، اب تک دو مرحلہ میں ایس آئی آر کا کام کرایا جاچکا ہے، جن ریاستوں میں یہ مرحلہ گذر چکا ہے، سب کو یہ شکایت ہے کہ غیرضروری بلکہ غیرقانونی طورپر ووٹرلسٹ سے نام حذف کرنے کا کام کیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو رائے دہندگی سے محروم کردیا گیا ہے، اب تیسرے مرحلے کا کام شروع ہوچکا ہے، جن ریاستوں میں کام جاری ہے، وہاں سے بھی اسی قسم کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں ، ایسے میں الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن پر اعتماد کا گراف اور نیچے چلا جائے گا، ضرورت ہے کہ الیکشن کمشنر بعجلت تمام ایسے اقدامات کرے کہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو، یہ الیکشن کمیشن کے لیے ایک چیلنج ہے، اس چیلنج کو اگر مواقع میں الیکشن کمیشن بدل پایا تو یہ بڑی بات ہوگی، مودی جی بھی کہا کرتے ہیں کہ ہمیں مصائب اور چیلنجیز کو مواقع میں بدلنا چاہیے، اگر گیانیش کمار ایسا کرسکے تو ان کی وفاداری پر بھی حرف نہیں آئے گا اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوجائے گا۔
الیکشن کمشنر کے اس رویہ کے خلاف کئی عرض داشت سپریم کورٹ میں ڈالی گئی ،عدالت میں سماعت بھی ہوئی ،عدالت نے کسی نتیجہ پر پہونچنے اور کسی اقدام کرنے سے پہلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار دو الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل سیما کھنا کو نوٹس جاری کر دیا ہے؛ تاکہ وہ ان تمام معاملات کی وضاحت کریں جو حزب مخالف اور دوسروں کی طرف سے ان پر لگائے جا رہے ہیں ،عدالت نے گیانیش کمار کے اس دعوی کی سختی سے تردید کر دی کہ عدالت نے ایس آئی آر سے متعلق فارم چھ میں ترمیم کی منظوری دی تھی ،چیف جسٹس سوریا کانت کی بینچ کا صاف اور واضح لفظوں میں انکار یہ واضح کرتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے پریس نوٹ میں دروغ گوئی سے کام لیا تھا اس کے باوجود عدالت عظمی نے چیف الیکشن کمیشن کی عارضی اور عبوری معطلی سے انکار کر دیا ہے، چیف الیکشن کمیشن کو برخواست کرنے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں ہے؛ البتہ جرم ثابت ہونے کے بعد وہ سزا دے سکتی ہے ؛چنانچہ حزب اختلاف نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہے،10/اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی اور جین زی نے جنتر منتر پر دھرنا اور احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا، حکومت نے اس احتجاج کو ناکام کرنے کے لیے دہلی 10/ کی صبح سے سہ پہر تک پہنچنے والی تمام ٹرینوں کو رد کر دیا، پٹنہ سے راجدھانی، سمپرن کرانتی وغیرہ جیسی ٹرینیں رد کر دی گئیں ، دہلی میٹرو اسٹیشن کو بند رکھا گیا اور پوری دہلی کو پولیس چھاؤنی بنا دیا گیا، پھر بھی احتجاج ہوا، الگ الگ جگہوں پر ہوا، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو فلائٹ کے اندر سے اٹھا لیا گیا، حکومت آواز دبانا چاہتی تھی؛ لیکن اس کاروائی کی وجہ سے احتجاج کی آواز ملک اور بیرون ملک پہنچ گئی ،غیر ملکی میڈیا نے اس پر خوب تبصرے کئے، جس سے ملک کی شبیہ خراب ہو گئی واقعہ یہ ہے کہ احتجاج میں اگر تشدد نہ ہو تو مخالفت کا یہ طریقہ قانونی اور دستوری ہے ،حکومت کو زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھ کر حکمت عملی تیار کرنی چاہیے کہ اس ملک کی جمہوریت کو استحکام ملے ،نہ یہ کہ اس کی بنیاد ہی ہلا کر رکھ دی جائے۔
