حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: عربی زبان و ادب کے پاسباں، ندوۃ العلماء کی روایت کے معمار اور ایک شفیق مربی
از قلم: حسن مدنی ندوی
ریسرچ اسکالر، اسلامک یونیورسٹی انڈونیشیا
بعض رخصتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جانے والا تنہا نہیں جاتا۔ اس کے ساتھ ایک زمانے کی خوشبو، مجلسوں کی رونق اور آوازوں کی آشنائی بھی چلی جاتی ہے، اور وہ یادیں بھی جن کا بدل ڈھونڈنے نکلیں تو عمریں بیت جائیں۔ کسی صاحبِ علم کے اٹھنے سے زندگی کا ایک ورق ہی نہیں پلٹتا؛ ایک روایت کا امین، ایک تربیتی سلسلے کا نگہبان اور ایک ادارے کی تاریخ کا چشم دید گواہ بھی اٹھ جاتا ہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی رحلت ایسا ہی سانحہ ہے۔ عربی زبان و ادب کی دنیا، اور سب سے بڑھ کر ندوۃ العلماء کا علمی و تربیتی حلقہ، ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گیا جس کے شب و روز علم کی خدمت، نسلوں کی تربیت اور ایک عظیم ادارے کی آبیاری میں گزرے۔
ان کا ذکر کسی ایک عنوان میں سما نہیں سکتا۔ مدرس تھے اور محقق بھی، ادیب تھے اور عربی صحافت کے شناور بھی، ایک بڑے ادارے کے منتظم بھی؛ مگر ان سب حیثیتوں پر مربی کی حیثیت غالب تھی۔ ان کی نگاہ شاگرد کی استعداد کے ساتھ اس کی فکر کے ارتقا اور سیرت کی تشکیل پر بھی رہتی تھی۔ علم ان کے نزدیک کتابوں میں رکھی ہوئی معلومات کا نام نہ تھا؛ وہ اسے شخصیت کی تعمیر، فکر کی تہذیب اور امت کی رہنمائی کا وسیلہ جانتے تھے۔ اسی لیے ان کی زندگی کو پڑھنا دراصل برصغیر کی اس علمی روایت کو پڑھنا ہے جس میں تدریس و تحقیق، زبان و ادب، دعوت اور ادارہ سازی ایک ہی شجر کی شاخیں ہیں۔
۱۴ مئی ۱۹۳۴ء کو اعظم گڑھ میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی و دینی تعلیم کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں عربی زبان و ادب سے وہ رشتہ استوار ہوا جو عمر بھر ساتھ رہا۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بغداد کا قصد کیا، جہاں شیخ تقی الدین ہلالی مراکشی جیسے ممتاز عالم و ادیب سے استفادے کا موقع ملا۔ یہ منزل چند برس کی تحصیل بن کر نہیں رہ گئی؛ اس نے ذوقِ مطالعہ کو وسعت، ادبی شعور کو پختگی اور عربی سے تعلق کو وہ گہرائی دی جو آگے چل کر ان کی تدریسی، ادبی اور صحافتی خدمات میں قدم قدم پر جھلکتی رہی۔
علمی شخصیت ایک دن میں نہیں بنتی۔ اساتذہ کی تربیت، مطالعے کی ریاضت، زبان کے ساتھ برسوں کی جاں فشانی اور اہلِ علم کی صحبت، تب کہیں جا کر آدمی کسی مقام کو پہنچتا ہے۔ مولانا ان سب مرحلوں سے گزرے، اور ایسے گزرے کہ شاگرد اور علمی حلقے آج ان کا نام ادب سے لیتے ہیں۔
ان کے لیے عربی نصاب کا ایک مضمون نہ تھی۔ وہ علمی ورثے کا دروازہ تھی، اسلامی فکر کا پیرایۂ اظہار، ذوقِ ادب کی پرورش گاہ اور عالمِ اسلام کے علمی مراکز سے مکالمے کا پل۔ برصغیر میں عربی کی تدریس و تحریر کی ایک طویل اور قابلِ فخر روایت رہی ہے، جس کے نمائندوں نے قلم اور درس کے ذریعے ہند اور عالمِ عرب کے فکری رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ مولانا اسی زنجیر کی ایک روشن کڑی تھے۔
ان کی علمی زندگی کا ذکر البعث الإسلامي کے بغیر ادھورا رہے گا۔ ندوۃ العلماء کی سرکاری ویب گاہ کے مطابق یہ عربی ماہنامہ ۱۹۵۵ء میں حضرت مولانا سید محمد الحسنی ندویؒ نے اپنے رفقا کے تعاون سے جاری کیا تھا۔ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ نے طویل عرصے تک اس کی ادارت میں نمایاں کردار ادا کیا، اور بعد ازاں چیف ایڈیٹر کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ ادارے کا بیان ہے کہ یہ مجلہ ہندوستان اور عرب ممالک کے علمی و ادبی حلقوں میں مقبول رہا ہے۔
مولانا کے لیے عربی صحافت اشاعتِ علم اور علمی مکالمے کا میدان تھی، اور ان کی خدمات اسی ادارتی روایت کا حصہ بنیں جس کا مقصد علمی حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور زبان و ادب کے راستے تحقیق و فکر کے در کھولنا تھا۔
ان کی خدمات کا حق اسی صورت ادا ہو سکتا ہے کہ ان کی تحریریں، ادارتی کاوشیں، مقالات اور خطابات یک جا کیے جائیں، ان کا منظم مطالعہ ہو اور نئی نسل ان کے علمی سرمایے سے متعارف ہو۔ اہلِ علم کی میراث محض تذکروں سے محفوظ نہیں رہتی؛ اسے تحقیق، تدوین، اشاعت اور علمی تنقید کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام ندوۃ العلماء اور ان کے تلامذہ کے ذمے ایک اہم علمی فریضہ ہے۔
دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق مولانا ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۹ء تک ندوۃ العلماء میں عربی زبان و ادب کے شعبے کے صدر رہے، اور ۱۹۹۴ء میں عربی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی اعزاز سے نوازا گیا۔ اس اعتراف سے ظاہر ہے کہ ان کا کام ادارے کی چار دیواری سے باہر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کسی زبان کا استاد ہونا اور اس زبان کی روح سے آشنا ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ استاد قواعد سکھاتا ہے، متون پڑھاتا ہے، مشق کراتا ہے؛ مگر صاحبِ ذوق ادیب شاگرد کے دل میں زبان کی محبت بھی اتار دیتا ہے، اسے اسالیب کی پہچان بھی دیتا ہے اور ادبی سرمایے سے رشتہ بھی جوڑ دیتا ہے۔ ان کے علمی حلقوں کی تحریروں میں ان کی فصیح عربی، لطیف ادبی ذوق، مؤثر اسلوب اور طلبہ کی زبان و تحریر کی اصلاح پر خصوصی توجہ کا ذکر ملتا ہے۔ شیخ محمد اکرم ندوی نے ان کی علمی و تربیتی شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے نظم و ضبط، قوتِ بیان اور طلبہ کی خصوصی رعایت کو ان کے نمایاں اوصاف میں شمار کیا ہے۔ جہاں علم کے ساتھ وقت کی پابندی، کام میں انہماک، گفتگو کا وقار اور شاگرد کی اصلاح کی تڑپ یک جا ہو جائے، وہاں تدریس پیشہ نہیں رہتی، مشن بن جاتی ہے۔
سن ۲۰۰۰ء میں وہ ندوۃ العلماء کے مہتمم مقرر ہوئے اور کئی برس ادارے کی انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ بڑے دینی و علمی ادارے کی سربراہی منصب سے زیادہ امانت ہے، جس میں تعلیمی معیار، اساتذہ و طلبہ کے معاملات، روایات کی پاسداری، نظم و نسق، مالی و انتظامی ضروریات اور مستقبل کی منصوبہ بندی سب کچھ شامل ہے۔ اس کے لیے صرف انتظامی تجربہ کافی نہیں؛ ادارے کی روح سے واقفیت، اس کے مقاصد سے وابستگی اور مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ حکمت و تحمل سے چلنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔
مولانا کا ندوہ سے تعلق نہ کسی عہدے سے شروع ہوا، نہ عہدے پر ختم۔ زندگی کا بڑا حصہ اسی فضا میں بسر ہوا؛ طالب علمی، تدریس، علمی و ادبی مشاغل اور انتظامی ذمہ داریاں، سب نے انہیں ندوہ کی تاریخ کے کئی ادوار کا شاہد بنایا۔ ایسے لوگ ادارے کے منتظم نہیں رہتے، اس کی یادداشت بن جاتے ہیں؛ اس کے مزاج، امکانات، مسائل اور علمی ترجیحات کو اندر سے جانتے ہیں۔ ان کے دورِ اہتمام کا منصفانہ جائزہ جذباتی تحسین سے نہیں، تعلیمی سرگرمیوں، انتظامی فیصلوں اور علمی نتائج کے سنجیدہ مطالعے سے ممکن ہے، اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ اس دور کا ریکارڈ، دستاویزات اور فیصلے محفوظ کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں ندوۃ العلماء کی تاریخ کو مستند بنیادوں پر سمجھ سکیں۔ رہے ان کے رفقا، شاگرد اور شناسا، تو وہ ان کی محنت، اخلاص اور ادارے سے وابستگی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
ان سب علمی و انتظامی پہلوؤں کے باوجود، میرے لیے مولانا کی یاد کا ایک گوشہ ایسا ہے جو کسی سرکاری سوانح یا رسمی مضمون سے کم وقعت نہیں رکھتا۔ یہ وہ ذاتی تعلق ہے جو دورانِ تعلیم ان کی شفقت، نصیحتوں اور کبھی کبھی محبت بھرے عتاب سے قائم ہوا۔
وہ اپنے طلبہ کی خبر گیری اور تربیت کا ہمیشہ اہتمام فرماتے۔ مجھے بارہا ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور نصیحتیں سننے کا موقع ملا۔ کبھی مسجدِ ندوہ کے باہر ملاقات ہو جاتی تو عالمِ عرب اور عالمِ اسلام کے احوال پر عربی میں گفتگو چل نکلتی۔ ان ملاقاتوں میں تکلف نہ تھا؛ بات کبھی علمی دنیا کی خبروں تک جا پہنچتی، کبھی امت کے مسائل چھڑ جاتے، کبھی کسی موضوع پر حضرت کی رائے سننے کو ملتی۔ میرے لیے وہ لمحے ملاقاتیں نہیں، غیر رسمی دروس تھے، جن میں کتابی علم کے ساتھ زندگی اور زمانے کو برتنے کا سلیقہ بھی ملتا تھا۔
کسی عذر سے ندوہ میں غیر حاضری طویل ہو جاتی تو محبت آمیز ڈانٹ سننی پڑتی۔ اس وقت شاید اس عتاب کی پوری معنویت سمجھ میں نہ آتی تھی؛ آج یادوں کو پلٹتا ہوں تو کھلتا ہے کہ استاد کی سرزنش میں بھی شفقت چھپی ہوتی ہے۔ جسے استاد اپنی توجہ کے لائق سمجھتا ہے، اس سے پوچھتا بھی ہے، اس کی کوتاہی پر ٹوکتا بھی ہے اور اس کے مستقبل کی فکر بھی کرتا ہے۔
اب وہ مجلسیں ماضی ہوئیں۔ مسجدِ ندوہ کے باہر کی وہ مانوس ملاقاتیں، عربی گفتگو کے وہ سلسلے اور حضرت کی آواز میں گھلی ہوئی شفقت، سب اسی صورت میں دوبارہ میسر نہیں آ سکتیں۔ مگر بعض منظر وقت کی گرد میں دھندلے نہیں پڑتے، جدائی کے بعد اور روشن ہو جاتے ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے انہی یادوں کو تازہ کر دیا، اور یہ بھی جتا دیا کہ آدمی اپنے اساتذہ کی قدر کا کچھ حصہ ان کی موجودگی میں پہچانتا ہے اور باقی ان کے اٹھ جانے کے بعد، مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے۔
شخصیات رخصت ہوتی ہیں، روایتیں باقی رہتی ہیں
اہلِ علم کی زندگی کا حاصل ان کے بعد ان کے علمی سرمایے، شاگردوں کے کردار اور قائم کردہ مفید کاموں میں زندہ رہتا ہے۔ استاد کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہو گی کہ اس کے شاگرد علم کی محبت، تحقیق کی سنجیدگی، زبان کی تہذیب اور خدمتِ دین کا جذبہ آگے بڑھائیں۔ اسی راستے سے کسی علمی شخصیت کی یاد محض یادگار بن کر نہیں رہ جاتی، آنے والے زمانے کے لیے رہنمائی بن جاتی ہے۔
اسی موقع پر حضرت مولانا عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ندوی صاحب کو منصبِ اہتمام اور حضرت مولانا مفتی نیاز احمد ندوی صاحب کو منصبِ نائب اہتمام کی ذمہ داری ملنے پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں حضرات کو اس عظیم امانت کی ادائیگی میں اخلاص، حکمت، بصیرت، عزم اور استقامت عطا فرمائے، ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور ان کے عہد میں ندوۃ العلماء کو مزید علمی، تعلیمی اور تربیتی ترقی نصیب ہو۔
ندوۃ العلماء کی فکری روایت کا ایک امتیاز یہ بھی رہا ہے کہ علمی مقاصد کے لیے باہمی احترام اور مختلف فقہی رجحانات کے اہلِ علم کے درمیان تعاون کی گنجائش باقی رکھی گئی۔ ادارے کی وسعت اس میں نہیں کہ اس کے سب افراد ہر جزوی مسئلے میں ہم خیال ہوں؛ اس کی اصل قوت یہ ہے کہ مشترکہ دینی مقصد، علمی دیانت اور باہمی احترام کے سائے میں مختلف رائے رکھنے والے اہلِ علم ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔ نئی انتظامی ترتیب کو بھی اسی امید سے دیکھنا چاہیے کہ ادارے کی علمی یک جہتی اور رواداری مزید مستحکم ہو گی۔
مولانا کی یاد کا تقاضا ہے کہ ندوۃ العلماء اپنی علمی روایت، عربی زبان و ادب کی خدمت، تحقیق و تصنیف، طلبہ کی تربیت اور دعوتی مقاصد کو مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھائے۔ نئے ذمہ داران کے لیے یہ بڑی امانت ہے، اور اساتذہ، طلبہ اور فضلا پر بھی لازم ہے کہ مشترکہ مقصد کے لیے تعاون اور خیر خواہی کو اپنا شعار بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری مادرِ علمی ندوۃ العلماء کو علم و عمل، تحقیق و ادب اور خدمتِ امت کا روشن مرکز بنائے رکھے، اور حضرت ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کو اپنے جوارِ رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

