قرآن نے اہل ایمان کو ایمان لانے کی دعوت کیوں دی ہے؟

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن ۔دہلی

ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایک دوسرے پر یقین کرتے ہیں ۔اگر ہم یقین نہ کریں تو ہماری زندگی بہت مشکل ہوجائے گی۔ اولاد اپنے باپ پریقین کرتی ہے کہ وہی اس کا باپ ہے۔ اپنی ماں پر یقین کرتی ہے کہ یہی اس کی ماں ہے۔ اسی طرح ہم دوسرے رشتہ و ناطوں پر یقین کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ ہم اپنے استاذ پر یقین کرتے ہیںکہ وہ جو پڑھارہے ہیں ٹھیک ہی پڑھا رہے ہیں۔ تاریخ کے استاذ نے جو تاریخ پڑھائی ہے وہ درست ہے، جغرافیہ، حساب اور سائنس کے اساتذہ نے جو کچھ بھی لکھایا، پڑھایا اور سکھایا ہے وہ درست ہے۔کاروبار کی دنیا میں بھی دوکاندار اور گراہک بہت سے امور میں ایک دوسرے پر یقین کرتے ہیں۔ مثلاً ایک چھوٹا دوکاندار کمپنی سے مال لیتے وقت کچھ رقم اڈوانس صرف اس یقین پر دے دیتا ہے کہ اسے مال مل جائے گا۔
اسلام میں ایمان کی بڑی اہمیت ہے۔اسلام جن باتوں پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے ان میں سے اگر کسی ایک پر بھی ایمان نہ لایا جائے تو اسلام اسے کافر قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔نبی ﷺ کی ساری زندگی اسی جدوجہد میں گزری کہ لوگ ایمان لے آئیں۔آخرت میں نیک عمل کا بدلہ صرف انھیں لوگوں کو ملے گا جو مومن ہوں گے ۔سورہ نساء آیت ۱۲۴؍ میں اللہ پاک کا ارشاد ہے۔
’’اور جو بھی نیک کام کرے گا ،چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرط یہ کہ وہ مومن ہو تو ان سب کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا ۔‘‘(سورہ نساء:124 )
ایمان کے معنی ہیں یقین کرنا، تسلیم کرنا۔ ایمان پختہ یقین کو کہتے ہیں۔ایسا یقین جس میں شک کی گنجائش نہ ہو، جس طرح انسان کو اپنی ماں پر یقین ہوتاہے کہ اسی نے اس کو جنا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ یقین کی کیفیت کو ایمان کہتے ہیں۔
شریعت میں ایمان کی تعریف یہ ہے:
’’اَلتَّصْدِیْقُ بِالْقَلْبِ،وَالْاِقْرَارُ بِاللَّسَانِ،وَالْعَمَلُ بِالْجَوَارِحِ‘‘
(دل سے سچا ماننا،زبان سے اقرار کرنا،عمل سے گواہی دینا)
ایمان کی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اسے اپنے گناہوں کی سزا پاکر جنت میں داخلہ ضرور ملے گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو۔ چنانچہ ایسے لوگ دوزخ سے نکال لیے جائیں گے، وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر انہیں حیات کی نہر میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس طرح اُگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بعد ندی کے کنارے دانہ اُگتا ہے۔”(بخاری)
ایمان صرف مومن ہونے کا اعلان نہیں ہے ،بلکہ انسان کے اعضاء و جوارح ،اس کے خیالات و افکار اور اس کے اخلاق و کردار سے ظاہر ہونے والے رویہ کا نام ہے ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو صرف زبان سے اپنے مومن ہونے کا اعلان کررہے تھے ،فرمایا:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ (النساء:136)
(اے ایمان والو! ایمان لائواللہ پر اور اس کے رسول پر)
اس آیت میں خود اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو ۔یعنی صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ نہ کرو بلکہ دل کی گہرائی سے ایمان لائواور اپنی عملی زندگی سے اس کا ثبوت دو۔
l ایمان انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس کے دل میں خوف خدا محبت الٰہی اور آخرت کی فکر پیدا کرتا ہے ۔ایمان ہی انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکیوں کی طرف راغب کرتا ہے ۔
l ایمان والا شخص مشکلات میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے ۔اس لیے اس کا دل مطمئن رہتا ہے۔
l ایمان انسان کو نماز روزہ ،زکوٰۃ ،صدقہ اور دیگر نیکیوں کی طرف مائل کرتا ہے ۔
l جب دل میں ایمان زندہ ہو تو انسان ہر وقت اللہ کی نگرانی کا احساس رکھتا ہے جس سے وہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔
l ایمان اصل میںنیکیوں کی جڑ ہے ۔اس کی بہت سی شاخیں اور ڈالیاں ہیںاور اس کے پھل ،پھول بے شمار و لاتعداد ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔’’ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں ان میں سب سے افضل لاالہٰ الااللہ کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے ‘‘(مسلم)
ایمان کو مضبوط کرنے کے ذرائع:
٭ صحت لفظی کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے، قرآنی آیات کے معانی و مطالب کو سمجھا جائے، ان میں تدبر اور غور و فکر کیا جائے۔
٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور امت کے صالح لوگوں کی زندگی اور سیرت کا مطالعہ کیا جائے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے، برے لوگوں کی صحبت سے بچا جائے، اہلِ علم کی صحبت میں رہ کر ان سے دین سیکھا جائے۔
٭ قرآن و حدیث میں بیان کردہ دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، خاص طور پر شب و روز کی مسنون دعاؤں کا ضرور اہتمام کیا جائے۔
٭ چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے بچنے کی کوشش کی جائے، اگر خدانخواستہ کبھی کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً اللہ سے توبہ کی جائے۔ اگر کسی انسان کی حق تلفی ہوئی ہو تو اس سے بھی معافی مانگی جائے۔
٭ کثرت سے موت اور آخرت کو یاد کیا جائے۔ موت کی یاد ہی اصل میں ایمان کو تازہ رکھتی ہے، گناہوں سے اجتناب اور نیکیوں کو بڑھاتی ہے۔ بہرحال ایمان کو ہر وقت مستحکم رکھا جائے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں، جس طرح پانی پیڑ پودوں کو ہرا بھرا رکھتا ہے، اسی طرح نیک اعمال ایمان کو تازہ اور برقرار رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ ایمان کے بغیر کوئی بھی نیکی اور بڑے سے بڑا کارنامہ بھی ضائع ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی نیکی پر اجر دے گا جو ایمان کے ساتھ کی گئی ہو۔
ایمان اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے ۔اسی سے انسان کی دنیا سنورتی ہے اور آخرت بنتی ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصداپنے ایمان کی حفاظت ،اس کی مضبوطی اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا ہونا چاہئے۔جو شخص ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزارتا ہے وہی حقیقی کامیابی اور دائمی فلاح حاصل کرتا ہے ۔
ایمان کی کیفیت میںہردم کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے یعنی ایمان گھٹتا بھی اور بڑھتا بھی ہے۔ اس لئے اپنے ایمان کا جائزہ لیتے رہنا چاہے۔ ایمان کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اس لیے کثرت سے اللہ کا ذکر، قرآن کی تلاوت،نوافل کا اہتمام، دینی مجالس میں شرکت کرتے رہنا چاہئے۔ شیطان انسان کا دشمن ہے وہ ہر وقت اہل ایمان کی تاک میں رہتا ہے تاکہ انہیں ایمان سے پھیر سکے اس لیے ہروقت شیطان سے چوکنا رہنا چاہئے۔ اللہ سے اپنے ایمان کی حفاظت کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔
پس ایمان محض ایک عقیدہ یا زبان سے کیا جانے والا دعویٰ نہیں، بلکہ پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے رنگ میں رنگ دینے کا نام ہے۔ یہی وہ دولت ہے جو انسان کے دل کو اطمینان، زندگی کو مقصد اور آخرت کو کامیابی عطا کرتی ہے۔ ہمیں ہر وقت اپنے ایمان کی حفاظت، اس کی مضبوطی اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کی فکر کرنی چاہیے۔ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اللہ کا ذکر کثرت سے کریں، نیک اعمال کا اہتمام کریں، گناہوں سے بچیں، موت اور آخرت کو یاد رکھیں اور شیطان کے فریب سے ہوشیار رہیں۔ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی سلامتی اور استقامت کی دعا کرتے رہیں، کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ زندگی گزارے، ایمان ہی پر دنیا سے رخصت ہو اور قیامت کے دن مومن کی حیثیت سے اپنے رب کے حضور پیش ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح، کامل اور پختہ ایمان عطا فرمائے، اس کی حفاظت کی توفیق دے، اس کے تقاضوں پر عمل کرنے والا بنائے اور ایمان پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے