✍️ افتخار احمد قادری

جس نظام میں عوام کو حکمرانوں کے انتخاب کا حق تو حاصل ہو لیکن حکومتی فیصلوں پر تنقید، اپنے حقوق کے تحفظ اور مطالبات کی منظوری کے لیے پُرامن احتجاج کی راہیں مسدود کر دی جائیں، وہاں جمہوریت کی ظاہری چمک دمک کے باوجود اس کی باطنی روح اضطراب کا شکار ہو جاتی ہے۔ دہلی کا تاریخی جنتر منتر اسی جمہوری روح، عوامی مزاحمت اور اجتماعی صدائے احتجاج کی ایک ایسی علامت رہا ہے، جہاں برسوں سے مختلف طبقاتِ زندگی نے اپنے مطالبات، شکایات اور محرومیوں کو اربابِ اقتدار تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مگر اب اس تاریخی مقام کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے فیصلے نے ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے، جسے محض انتظامی حکم نامے کی حدود میں مقید کرکے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: اگر عوام کی آواز بلند ہونے کے مقامات ہی محدود کر دیے جائیں تو جمہوریت اپنے سوالات کا سامنا کہاں کرے گی؟ مرکزی وزارتِ داخلہ سے متعلق کمیٹی کی ہدایت پر دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر کی احتجاجی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے نے سیاسی، سماجی اور آئینی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ نوے کی دہائی سے احتجاجی سرگرمیوں کے لیے معروف یہ مقام مختلف ادوار میں عوامی تحریکوں، سیاسی مظاہروں، سماجی مطالبات اور شہری حقوق کی جد وجہد کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہونے والے احتجاجات نے کبھی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے، کبھی انتظامی بے اعتدالیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور کبھی ان طبقات کی ترجمانی کی، جن کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچنے سے پہلے ہی مصلحتوں اور مفادات کی گرد میں گم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنتر منتر کی حیثیت محض ایک جغرافیائی مقام کی نہیں، بلکہ ہندوستان کے جمہوری شعور کی تاریخ میں ایک نمایاں علامت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مقام کو احتجاجی سرگرمیوں کے لیے غیر موزوں قرار دینے کے بعد دہلی پولیس نے رام لیلا میدان، بی ڈی میدان اور براری میدان جیسے متبادل مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ بظاہر انتظامیہ کا یہ اقدام احتجاجی سرگرمیوں کو مخصوص مقامات تک محدود کرنے اور شہری زندگی میں پیدا ہونے والی دشواریوں پر قابو پانے کی تدبیر قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس فیصلے کی تہہ میں اترنے سے کئی ایسے سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب محض متبادل مقامات کی فہرست جاری کر دینے سے نہیں مل سکتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج کے لیے کسی جگہ کی دستیابی ہی کافی ہے یا اس مقام کا محلِ وقوع، اس کی سیاسی و آئینی اہمیت، عوام کی وہاں تک رسائی اور مطالبات کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے؟
   یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ رام لیلا میدان یا کسی دوسرے متبادل مقام پر احتجاج کی اجازت دینا اور جنتر منتر کی تاریخی و سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنا دو الگ الگ معاملات ہیں۔ ہر مقام کا اپنا جغرافیہ، اپنی علامتی معنویت اور اپنی عملی افادیت ہوتی ہے۔ جنتر منتر کی اہمیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی رہا ہے کہ یہاں سے ملک کے اہم سیاسی اور آئینی مراکز تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔ چنانچہ احتجاج کرنے والوں کو اپنے مطالبات نمایاں کرنے، ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے اور قومی سطح پر اپنی آواز پہنچانے کے مواقع میسر آتے رہے ہیں۔ اس کے برخلاف، اگر احتجاجی سرگرمیوں کو ایسے مقامات تک محدود کر دیا جائے جو متعلقہ اداروں سے نسبتاً دور ہوں، تو محض اجازت نامے کی موجودگی عوامی احتجاج کی حقیقی افادیت کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ رواں ماہ جنتر منتر پر سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، نوجوانوں، وکلا اور سول سوسائٹی کی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، رائے دہندگان کے ممکنہ اخراج، انتخابی عمل کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق اٹھنے والے سوالات نے سیاسی ماحول کو پہلے ہی گرما رکھا تھا۔ اسی پس منظر میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے ارکانِ پارلیمان، وکلا، سماجی شخصیات، کانگریسی کارکنوں اور نوجوانوں نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کیا۔ اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنا یا چیف جسٹس کو کسی مخصوص فیصلے کا پابند بنانا نہیں، بلکہ انتخابی عمل سے متعلق خدشات اور عوامی تشویش سے انہیں آگاہ کرنا ہے۔ تاہم چیف جسٹس کی جانب سے ملاقات سے انکار اور متعلقہ فریقوں کو قانونی طریقۂ کار اختیار کرنے کا مشورہ دیے جانے کے بعد اپوزیشن اتحاد نے عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا۔ اسی تنازعے کے دوران جنتر منتر کی احتجاجی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے نے بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اب معاملہ صرف انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات یا ووٹر فہرستوں کی نظرثانی تک محدود نہیں رہا، بلکہ احتجاج کے آئینی حق، انتظامیہ کے اختیارات اور شہری آزادیوں کے باہمی تعلق کا سوال بھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔
  کسی سیاسی جماعت کے مؤقف، کسی احتجاجی تحریک کے دعوے یا کسی انتخابی عمل پر اٹھائے گئے اعتراضات کو بلا تحقیق حرفِ آخر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری نظام میں حکومت اور حزبِ اختلاف، دونوں اپنے اپنے مؤقف کے لیے دلائل پیش کرتے ہیں، اور ان دعوؤں کی صحت کا تعین شواہد، قانون اور آزادانہ جانچ کے ذریعے ہونا چاہیے۔ لیکن اختلافی مؤقف کی صحت سے قطع نظر، اختلاف پیش کرنے کے حق کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ اگر کسی جماعت کے اعتراضات بے بنیاد ہیں تو انہیں مستند حقائق کے ذریعے رد کیا جانا چاہیے؛ اگر کسی شہری یا سیاسی گروہ کے خدشات میں وزن ہے تو ان کی غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ محض احتجاجی مقام کو محدود کر دینا ان سوالات کا جواب نہیں بن سکتا۔ جنتر منتر سے متعلق معاملہ عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ بحث آنے کی وجہ سے اس کی آئینی جہت مزید اہم ہو گئی ہے۔ احتجاجی مقام کی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور درخواست گزاروں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنتر منتر پر منضبط اور محدود احتجاج کی اجازت سے متعلق عدالتی احکامات پہلے سے موجود ہیں۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ انتظامیہ کا تازہ فیصلہ سابقہ عدالتی ہدایات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور آیا اس کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار میں قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کی گئی ہے یا نہیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے متبادل مقامات کے انتخاب پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں، جب کہ ایک دوسری درخواست میں پولیس اور انتظامیہ کے خلاف توہینِ عدالت کے الزامات کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان الزامات کی صحت اور فیصلے کی قانونی حیثیت کا تعین بہرحال عدالتی جانچ کے بعد ہی ہو سکے گا لیکن عدالتی کارروائی کے نتیجے کا انتظار کرتے ہوئے بھی یہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا شہری سہولت اور عوامی احتجاج کو ایک دوسرے کی ضد بنا کر پیش کرنا درست ہے؟ بلاشبہ، احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے، شہریوں کو آمدورفت میں دشواری پیش آ سکتی ہے اور بعض اوقات امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان مشکلات کا سدِباب کرے، عوامی زندگی کے معمولات برقرار رکھے اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے۔ تاہم انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہی حکمرانی کی اصل آزمائش ہے۔ اگر ہر اس مقام کو احتجاج کے لیے ممنوع قرار دے دیا جائے جہاں عوامی سرگرمیوں سے کسی نوع کی دشواری پیدا ہونے کا امکان ہو، تو پھر اجتماعی احتجاج کے لیے موزوں جگہیں تلاش کرنا ہی ایک دشوار مرحلہ بن جائے گا۔ انتظامیہ کے پاس ضابطہ بندی کے اختیارات ضرور ہیں، مگر ان اختیارات کا مقصد عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے، نہ کہ اختلافِ رائے کی گنجائش کو بتدریج محدود کرنا۔ احتجاج کے اوقات متعین کرنا، شرکا کی تعداد کے مطابق انتظامات کرنا، ٹریفک کے متبادل راستے مقرر کرنا، ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اور پُرامن مظاہروں کے لیے واضح ضابطے وضع کرنا ایسے اقدامات ہیں جن کے ذریعے شہری سہولت اور احتجاجی آزادی کو بیک وقت یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی تاریخی احتجاج گاہ کی حیثیت یک قلم ختم کر دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی ضرورت، تناسب اور قانونی بنیاد کی وضاحت ناگزیر ہے۔
     ہندوستانی آئین کی دفعہ 19 شہریوں کو اظہارِ رائے اور پُرامن طور پر، بغیر اسلحہ جمع ہونے کا حق فراہم کرتی ہے۔ البتہ یہ حقوق غیر محدود نہیں ہیں؛ آئین خود بعض معقول پابندیوں کی گنجائش تسلیم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو عوامی نظم و نسق اور دیگر قانونی تقاضوں کے پیشِ نظر مناسب ضابطے نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال آئینی اصولوں، قانونی حدود اور معقولیت کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔ پابندی کی ضرورت، اس کا دائرہ اور اس کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر کسی انتظامی اقدام کو محض حکومتی صواب دید کا معاملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
جمہوریت میں احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی مسلم ہے کہ انتخابات کے درمیان آنے والے عرصے میں عوامی رائے کا اظہار صرف سیاسی جلسوں یا ذرائع ابلاغ کے بیانات تک محدود نہیں رہتا۔ کسان اپنے معاشی مطالبات کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں، طلبہ تعلیمی پالیسیوں پر اعتراضات اٹھاتے ہیں، ملازمین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، خواتین تحفظ اور مساوات کا مطالبہ کرتی ہیں، جب کہ سماجی تنظیمیں ان طبقات کے مسائل کو منظرِ عام پر لاتی ہیں جن کی نمائندگی فیصلہ ساز اداروں میں کمزور ہوتی ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کو ایک ہی انتظامی پیمانے سے ناپنا اور ان کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرنا عوامی زندگی کی حقیقی صورتِ حال سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ جنتر منتر کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے کہ مختلف نظریات، مطالبات اور سیاسی رجحانات رکھنے والے گروہوں نے یہاں اپنے مؤقف کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں ہونے والا ہر احتجاج لازماً درست، ہر مطالبہ لازماً جائز اور ہر سیاسی دعویٰ لازماً قابلِ قبول نہیں ہوتا؛ تاہم کسی مطالبے کی صحت اور اسے پیش کرنے کے حق میں فرق کرنا ضروری ہے۔ جمہوری معاشرے کی قوت اسی میں ہے کہ وہ غیر مقبول، متنازع اور حکومتی مؤقف سے متصادم آوازوں کو بھی قانون کے دائرے میں سننے کی گنجائش رکھتا ہے۔ اختلاف کو ختم کر دینا مسئلے کو حل کرنے کے مترادف نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ اختلاف کو مزید گہرا اور بے اعتمادی کو زیادہ وسیع کر دیتا ہے۔ یہاں حکومت سے ایک اور سوال بھی کیا جانا چاہیے: اگر جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے شہریوں کو مشکلات پیش آ رہی تھیں تو کیا اس صورتِ حال کے ازالے کے لیے تمام ممکنہ انتظامی تدابیر اختیار کر لی گئی تھیں؟ کیا احتجاجی تنظیموں سے مشاورت کی گئی؟ کیا ٹریفک کے نظم و نسق کو بہتر بنانے، احتجاج کے اوقات متعین کرنے اور شرکا کی تعداد کے مطابق انتظامات کرنے کے امکانات کا جامع جائزہ لیا گیا؟ کیا یہ واضح کیا گیا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت برقرار رکھنے سے کون سی ناقابلِ تلافی مشکلات پیدا ہو رہی تھیں، جن کا حل محدود پابندیوں سے ممکن نہیں تھا؟ ان سوالات کے مدلل جوابات عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔ حکومت اگر اپنے فیصلے کو انتظامی ضرورت قرار دیتی ہے تو اسے اس ضرورت کے حق میں قابلِ فہم دلائل بھی پیش کرنے چاہییں۔ عوامی سہولت ایک حقیقی تقاضا ہے، لیکن اسی طرح شہری آزادیوں کا تحفظ بھی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کی مکمل نفی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ریاستی اختیار کی اصل معنویت اسی وقت قائم رہتی ہے جب اس کا استعمال عوامی مفاد کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور اس کے فیصلے معقولیت، شفافیت اور جواب دہی کے معیار پر پورے اتریں۔ یہ معاملہ صرف کانگریس یا حزبِ اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں کا نہیں ہے۔ آج اگر کسی ایک جماعت کو احتجاجی مقام کی تبدیلی یا پابندی کا سامنا ہے تو کل یہی صورتِ حال کسی دوسری سیاسی جماعت، کسی سماجی تحریک، کسی طلبہ تنظیم یا کسی ایسے شہری گروہ کے سامنے بھی آ سکتی ہے جو اپنے کسی جائز مطالبے کے لیے اجتماعی طور پر آواز اٹھانا چاہتا ہو۔ اس لیے جنتر منتر کے مسئلے کو محض سیاسی وابستگی کی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں۔ جمہوری حقوق کی اہمیت اس وقت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب ان کا استعمال ان لوگوں کی جانب سے کیا جا رہا ہو جن کے مؤقف سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔
    اسی تناظر میں عدالتِ عظمیٰ کی آئندہ سماعت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ عدالت کو متعلقہ قانونی دفعات، سابقہ عدالتی ہدایات، انتظامیہ کے دلائل اور درخواست گزاروں کے اعتراضات کی روشنی میں یہ دیکھنا ہوگا کہ احتجاجی مقام کی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ قانونی حدود کے اندر ہے یا نہیں۔ تاہم اس معاملے کا اخلاقی اور سیاسی پہلو بھی اپنی جگہ قابلِ غور ہے۔ قانونی طور پر کسی اقدام کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود یہ سوال باقی رہ سکتا ہے کہ آیا اس اقدام کی ضرورت، افادیت اور عوامی مفاد میں اس کا جواز پوری طرح ثابت کیا گیا ہے یا نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف سڑکوں کو پُرسکون، چوراہوں کو خالی اور سرکاری عمارتوں کے اطراف کو پُرہجوم ہونے سے محفوظ رکھنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جن میں شہری اپنے حقوق اور مطالبات کا اظہار خوف، غیر ضروری رکاوٹوں اور انتظامی بے یقینی کے بغیر کر سکیں۔ جمہوریت کی خوب صورتی یہ نہیں کہ اس میں اختلاف کی آواز سنائی ہی نہ دے، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود نظم و ضبط برقرار رہے، مخالف مؤقف کو سننے کا حوصلہ موجود ہو اور فیصلہ سازی کے عمل میں جواب دہی کا عنصر کمزور نہ پڑے۔ جنتر منتر کی خاموشی اگر واقعی انتظامی ضرورت کا نتیجہ ہے تو حکومت کو اپنے فیصلے کی معقولیت واضح کرنی چاہیے؛ اور اگر اس فیصلے کے نتیجے میں پُرامن احتجاج کے آئینی حق کے استعمال میں غیر ضروری دشواریاں پیدا ہوتی ہیں تو ان کا ازالہ بھی اسی سنجیدگی سے ہونا چاہیے جس سنجیدگی سے شہری نظم و نسق کے تقاضوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ حکومتیں وقتی انتظامی سہولت کے لیے فیصلے تو کر سکتی ہیں، لیکن ان فیصلوں کی پائیدار قبولیت اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ عوامی اعتماد، آئینی اقدار اور منصفانہ طرزِ حکمرانی سے ہم آہنگ ہوں۔ جنتر منتر ان آوازوں کی علامت ہے جو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے بلند ہوتی رہی ہیں۔ اس کی تاریخی حیثیت کا تحفظ کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس وسیع تر اصول سے وابستہ ہے کہ جمہوریت میں عوامی آواز کے لیے مؤثر اور قابلِ رسائی راستے موجود رہنے چاہییں۔ انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احتجاج کو منظم کرے، مگر اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی ضابطہ بندی شہری آزادیوں کے تحفظ کے ساتھ متوازن ہے۔
   بالآخر کیا جمہوریت کی مضبوطی کا پیمانہ احتجاجی مقامات کی تعداد کم کرنا ہے یا عوامی شکایات کو سننے اور ان کا منصفانہ ازالہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا؟ اگر حکمرانوں کو عوامی سوالات ناگوار محسوس ہونے لگیں، اگر اختلاف کو انتظامی مسئلہ سمجھ کر محدود کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر شہریوں کی آواز کو دور دراز مقامات تک دھکیل دینا ہی نظم و نسق کی کامیابی تصور کر لیا جائے، تو جمہوری نظام کی ظاہری ترتیب کے باوجود اس کے اندر بے اطمینانی کی دراڑیں وسیع ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، اگر حکومت شہری سہولت اور احتجاجی آزادی کے درمیان معقول توازن قائم کرے، عدالتی ہدایات کا احترام کرے اور اختلافی آوازوں کو سننے کا حوصلہ دکھائے تو یہی طرزِ عمل جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو مستحکم کر سکتا ہے۔ جنتر منتر کے باب میں اصل امتحان کسی مقام کی بندش یا بحالی سے کہیں بڑھ کر یہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت اختلافِ رائے کے لیے اپنے دروازے کس قدر کھلے رکھنا چاہتی ہے۔ کیونکہ جس جمہوریت میں سوال کرنے والوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگے، وہاں مسئلہ صرف احتجاج گاہ کا نہیں رہتا، جمہوری مزاج کی وسعت کا بھی بن جاتا ہے۔ جنتر منتر کی آواز کو دبانے یا سننے کا فیصلہ بالآخر اسی بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ اقتدار عوام کی آواز سے فاصلہ بڑھانا چاہتا ہے یا اس آواز کو سن کر اپنی جواب دہی کا حق ادا کرنا چاہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے