اختلافِ رائے کو قید کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوتے

جاوید جمال الدین

ہندوستانی جمہوریت میں احتجاج محض حکومت سے اختلاف کا اظہار نہیں، بلکہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ، حکمرانوں کی جواب دہی اور عوامی مسائل کی جانب توجہ دلانے کا ایک اہم آئینی ذریعہ بھی ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی کا انحصار صرف انتخابات کے انعقاد پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ شہریوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے، پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور پُرامن طریقے سے اختلاف ظاہر کرنے کی کتنی آزادی حاصل ہے۔ جب احتجاج کرنے والوں کو سننے کے بجائے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اختلافِ رائے کو دبانے سے مسائل حل ہوسکتے ہیں؟ حالیہ برسوں میں طلبہ، نوجوانوں، کسانوں اور سماجی کارکنوں کی تحریکوں نے اس سوال کو بار بار نمایاں کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انتخابی شفافیت کے مطالبے پر دہلی میں ہونے والا احتجاج بھی اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔رائے دہندگان کی فہرستوں میں نظرثانی، انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی جیسے معاملات پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ ان سوالات کا فیصلہ سیاسی نعروں یا جذبات کے بجائے حقائق، شواہد اور آئینی اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ اگر کسی احتجاج میں قانون شکنی ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے، لیکن پُرامن احتجاج اور غیر قانونی سرگرمیوں کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انتظامیہ کی ذمہ داری صرف امن و قانون قائم رکھنا نہیں، بلکہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرنا بھی ہے۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو ہندوستانی مسلمانوں کی شرکت ہے۔ انتخابی شفافیت، روزگار، مہنگائی، تعلیم، امتحانی نظام کی خرابیوں اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے مسائل کسی ایک مذہب یا برادری تک محدود نہیں۔ ان کے اثرات تمام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، جب ایسے قومی معاملات پر احتجاج ہوتے ہیں تو ان میں مسلمان طلبہ اور نوجوانوں کی شرکت اکثر آٹے میں نمک کے برابر دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال محض تعداد کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس سوال سے بھی جڑی ہے کہ کیا مسلمان خود کو ملک کی جمہوری جدوجہد کا برابر کا شریک سمجھتے ہیں؟ کیا وہ اپنے حقوق کے اظہار میں اعتماد محسوس کرتے ہیں، یا کسی ممکنہ ردعمل کے خوف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور معاشی صورتِ حال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے بعض حلقوں میں عدم تحفظ اور سیاسی بے اعتمادی کے احساس کو گہرا کیا ہے۔ کسی احتجاج میں شرکت کے بعد قانونی کارروائی کا خدشہ، سماجی سطح پر مخالفت، خاندان کی تشویش اور روزگار یا تعلیمی مستقبل کے بارے میں اندیشے بھی نوجوانوں کو محتاط بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ سیاسی قیادت پر اعتماد کی کمی اور مشترکہ جدوجہد کے لیے مؤثر پلیٹ فارموں کا فقدان بھی اہم عوامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم، تمام مسلمانوں کی محدود شرکت کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں۔ مختلف علاقوں، طبقوں اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے نوجوانوں کے تجربات مختلف ہوسکتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ احتیاط اور مکمل کنارہ کشی ایک جیسی چیزیں نہیں۔ ہر احتجاج میں شامل ہونا ضروری نہیں، لیکن ہر عوامی مسئلے سے لاتعلق رہنا بھی مناسب نہیں۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احتجاج کے مقصد، اس کے منتظمین، طریقۂ کار اور ممکنہ نتائج کا جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں۔ اگر مطالبات درست ہوں اور جدوجہد پُرامن و آئینی ہو تو اس میں شرکت جمہوری ذمہ داری کی ادائیگی بن سکتی ہے۔ اختلاف کی صورت میں بھی دلیل، مکالمے اور قانونی طریقوں سے اپنا مؤقف پیش کیا جاسکتا ہے۔ جمہوریت میں فعال شہری ہونے کا مطلب کسی سیاسی جماعت یا تحریک کا غیر مشروط حامی بننا نہیں، بلکہ اپنے حقوق اور دوسروں کے حقوق، دونوں کا شعور رکھنا ہے۔
گجرات کی پاٹیدار تحریک سے نمایاں ہونے والے ہاردک پٹیل کا سیاسی سفر بھی احتجاج اور سیاست کے تعلق کی ایک مثال ہے۔ نوجوانوں کی تحریک سے ابھرنے والے ہاردک بعد میں بی جے پی میں شامل ہوئے اور رکن اسمبلی بنے۔ ان کی مثال یہ یاد دلاتی ہے کہ احتجاجی سیاست سے ابھرنے والے رہنما وقت کے ساتھ سیاسی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں، لیکن کسی رہنما کی سیاسی منزل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تحریک کے تمام مطالبات پورے ہوگئے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور سماجی انصاف جیسے بنیادی مسائل پر کیا پیش رفت ہوئی۔ اس لیے احتجاج کا جائزہ شخصیات کے سیاسی سفر سے آگے بڑھ کر اس کے مقاصد اور نتائج کی بنیاد پر لینا چاہیے۔
مسلمان نوجوانوں کے لیے ایک اضافی الجھن مذہبی اور سماجی رہنماؤں کے مختلف مشورے بھی ہیں۔ بعض رہنما انہیں عوامی احتجاج میں شریک ہونے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے انہیں ایسے اجتماعات سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان مختلف آرا کے پیچھے الگ الگ خدشات اور ترجیحات ہوسکتی ہیں، اس لیے اختلاف کو محض درست اور غلط کی دو خانوں میں تقسیم کرنا مناسب نہیں۔ تاہم، نوجوانوں کو ایسی رہنمائی ضرور ملنی چاہیے جو انہیں خوف زدہ کرنے یا جذبات میں بہانے کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے قابل بنائے۔
مذہبی رہنما اور سماجی ادارے مسلمانوں کی مذہبی و اخلاقی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو آئین، شہری حقوق، قانون کی پابندی، پُرامن احتجاج اور جمہوری ذمہ داریوں کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔ اگر کسی احتجاج میں شرکت مناسب نہ ہو تو اس کی وجوہ واضح کی جائیں، اور اگر کسی جائز مطالبے کی حمایت ضروری ہو تو اس کے پُرامن اور قانونی طریقے بتائے جائیں۔ محض شرکت سے روک دینا یا ہر تحریک میں شامل ہونے کی تلقین کرنا کافی نہیں۔ نوجوانوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے علم، اعتماد اور تنقیدی شعور درکار ہے۔
اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے تقریباً نصف صدی پرانی فلم گرم ہوا کی مثال خاص معنویت رکھتی ہے۔ ایم ایس ستھیو کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے ایک مسلم خاندان کی بے یقینی، معاشی مشکلات اور سماجی تنہائی کو پیش کیا گیا ہے۔ سلیم مرزا اور اس کا خاندان ایسے حالات سے گزرتا ہے جن میں مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان ہجرت کرنے کا خیال بھی اسی بے چینی اور مایوسی کے ماحول میں جنم لیتا ہے۔ لیکن فلم میں سلیم مرزا کے بیٹے سکندر کا فیصلہ کہانی کو ایک اہم موڑ دیتا ہے۔ وہ روزگار کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے جلوس میں شامل ہوتا ہے۔ اس منظر میں ذاتی محرومی اجتماعی جدوجہد سے جڑ جاتی ہے۔
سکندر کا کردار آج کے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: جب معاشی مشکلات، امتیازی رویے یا عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے تو کیا راستہ اختیار کیا جائے؟ کیا معاشرے سے الگ ہوجانا اور خود کو قومی مسائل سے دور رکھنا حل ہے، یا دوسرے شہریوں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھانا زیادہ مؤثر راستہ ہوسکتا ہے؟ فلم یہ نہیں کہتی کہ تمام اختلافات یا مشکلات محض ایک جلوس میں شامل ہونے سے ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کا بنیادی اشارہ یہ ہے کہ مایوسی اور تنہائی کے مقابلے میں اجتماعی عمل انسان کو امید، مقصد اور اپنے مستقبل پر اثرانداز ہونے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔
یہی وہ ربط ہے جو گرم ہوا کی مثال کو آج کی احتجاجی سیاست سے جوڑتا ہے۔ سکندر کا روزگار کے لیے احتجاج میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی ترجیحات محض ذاتی بقا یا ہجرت کے خیال تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ اپنے مستقبل کو اسی معاشرے کے اندر بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ آج مسلمان نوجوان بھی تعلیم، ملازمت، امتحانی نظام کی شفافیت، مہنگائی اور شہری حقوق جیسے معاملات میں دوسرے نوجوانوں کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب اپنے مخصوص مسائل سے صرفِ نظر کرنا نہیں، بلکہ انہیں انصاف، مساوی مواقع اور قومی ترقی کی وسیع تر بحث کا حصہ بنانا ہے۔
جب مسلمان نوجوان مشترکہ مسائل پر دوسرے شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں اپنے مطالبات کے لیے وسیع تر حمایت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس شرکت سے غلط فہمیاں دور کرنے اور معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان رابطے بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی برادری مسلسل الگ تھلگ رہے تو اس کے مسائل عوامی مباحث میں کم نمایاں ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ البتہ اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ قومی دھارے میں شرکت کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ سیاسی جماعتوں، شہری تنظیموں اور جمہوری اداروں کو بھی ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں ہر شہری کی شرکت کا احترام ہو اور کسی کو مذہبی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنائے جانے کا خوف نہ ہو۔
سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 9 دسمبر 2006 کو قومی ترقیاتی کونسل سے خطاب میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ترقی کے ثمرات اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، تک بھی منصفانہ طور پر پہنچنے چاہئیں۔ اس مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ترقی کے مواقع اور فوائد سے کوئی طبقہ محروم نہ رہے۔ اس تصور کو کسی ایک برادری کی بالادستی یا دوسروں کے حقوق پر فوقیت کے طور پر نہیں، بلکہ مساوی مواقع اور منصفانہ شمولیت کے اصول کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی طبقے کو تعلیم، روزگار یا ترقی کے مواقع میں رکاوٹوں کا سامنا ہو تو ان کی نشاندہی اور اصلاح پورے ملک کے مفاد میں ہے۔اس بیان کو دائیں بازو کے عناصر نے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔
یہاں مسلمانوں کی شہری شرکت اور ریاست کی ذمہ داری، دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے قانونی اور جمہوری طریقوں سے آواز اٹھانی چاہیے، دوسری طرف حکومتوں اور اداروں پر لازم ہے کہ وہ امتیاز سے پاک پالیسیوں اور منصفانہ مواقع کو یقینی بنائیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ مسلمان قومی دھارے میں شامل ہوں؛ یہ بھی ضروری ہے کہ قومی دھارا ان کے لیے کھلا، منصفانہ اور قابلِ اعتماد ہو۔ شرکت اور اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب شہری محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے اور ان کے حقوق محفوظ ہیں تو جمہوری عمل میں ان کی دلچسپی اور شرکت بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کی قومی دھارے میں شرکت صرف انتخابی سیاست یا احتجاج تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں، شہری تنظیموں، صحافت، قانونی جدوجہد، مقامی مسائل اور عوامی مباحث میں ان کی موجودگی بھی اہم ہے۔ نوجوان اپنے محلوں میں تعلیمی سہولتوں، صفائی، پانی، صحت، روزگار اور شہری خدمات جیسے معاملات پر کام کرکے بھی شہری شعور کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ طلبہ امتحانی نظام میں شفافیت اور تعلیمی مواقع کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں، جبکہ پیشہ ور افراد اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو سماجی بہتری کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسی شرکت بتدریج اعتماد پیدا کرتی ہے اور جمہوریت کو روزمرہ زندگی سے جوڑتی ہے۔
قومی یکجہتی کا مطلب اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو ترک کرنا نہیں، بلکہ اس شناخت کے ساتھ مشترکہ شہری ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ ہندوستانی مسلمان اس ملک کی تاریخ، تہذیب اور آئینی نظام کا حصہ ہیں۔ انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ملک کے اجتماعی مسائل کے حل میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح دوسرے شہریوں اور اداروں کو بھی مسلمانوں کی جائز آواز، ان کے خدشات اور ان کی شراکت کو قبول کرنے کا رویہ اپنانا ہوگا۔ یکجہتی یک طرفہ مطالبہ نہیں؛ یہ باہمی احترام، انصاف اور برابر کی شہریت سے مضبوط ہوتی ہے۔
آخرکار، سوال یہ نہیں کہ مسلمان ہر احتجاج میں شریک ہوں یا ہر تحریک سے دور رہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنے شہری حقوق، اجتماعی مفاد اور آئینی ذمہ داریوں کے بارے میں کتنا شعور رکھتے ہیں اور ان کی بنیاد پر کتنے مؤثر فیصلے کرتے ہیں۔ خوف اور احساسِ کمتری سے نکلنے کا مطلب خطرات کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ علم، تیاری، اتحاد اور قانونی راستوں کے ذریعے ان کا سامنا کرنا ہے۔ گرم ہوا کا سکندر اسی لیے یاد رہ جاتا ہے کہ وہ مایوسی اور کنارہ کشی کے بجائے اجتماعی جدوجہد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنے مسائل کو قومی مسائل سے الگ سمجھنے کے بجائے انصاف، روزگار، تعلیم، انتخابی شفافیت اور مساوی مواقع کی مشترکہ جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہر احتجاج میں شامل ہونا ضروری نہیں، لیکن درست مطالبات کی حمایت، ناانصافی کے خلاف پُرامن آواز اور ملک کے مستقبل کی تشکیل میں شرکت جمہوری شہری ہونے کا تقاضا ہے۔ وطن سے وابستگی صرف نعروں یا جذبات کے اظہار سے ثابت نہیں ہوتی؛ یہ ملک کی بہتری، انصاف کے قیام اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر میں عملی حصہ لینے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے