سہارنپور (احمد رضا): پوری دنیا میں آج ڈھائی ارب سے زائد مسلم افراد اپنی کمزور اور مفاد پرست قیادت کی وجہ سے رسوا ہو رہے ہیں۔ دہشت گردوں کو نیست ونابود کرنے والے حکمراں اسرائیل کی اعلانیہ دہشت گرد ی پر تماشائی بنے ہوئے ہیں آج پوری دنیا میں اسرائیل حکمت عملی کے تحت ہی مسلم آبادی پر ظلم ، ناانصافی ، دہشت اور قتل عام کی طرز پر مسلسل حملے جاری ہیں سبھی کھلی آنکھوں سے یہ جبر اور فرعونیت دیکھ رہے ہیں مگر سب کے ہونٹ خشک ہیں اصل میں یہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ہم جو ذلیل وخوار ہو رہے ہیں آج ہم نہ دین کے رہے اور نہ ہی دنیا کے صرفِ اور صرف مفاد پرستی و خد پرستی کا شکار ہو کر چوہوں جیسی زندگی گزارنے کو مجبور ہیں حق کہنے کی ہمت گنواں چکے ہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم کی اطاعت کے خلاف دنیا کے حکمرانوں کے سامنے خاموش کھڑے ہیں علاقہ در علاقہ ایک معمولی سے معمولی ملک بھی ہم 57 ملکوں والی مسلم اقوام کو نیست ونابود کر نے پر آمادہ ہے اور ہم سب تماشائی بنے ہوئے ہیں آج جو کچھ بھی زمین اسرائیل جیسے دہشت گرد ملک کے قبضہ میں ہے وہ کل زمین فلسطینی قوم کی ہے اس حقیقت سے پوری دنیا خوب واقف ہے مگر اسرائیل کی دہشت کے خلاف سبھی مسلم مّمال زبان کھولنے کا تیار نہیں ہیں؟ آج حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے اب * لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ* پر ایمان رکھنے والوں کو متحد ہو نا ہی پڑیگا مسلکی منافرت پھیلانے والے بیان اور تحریریں ملت اسلامیہ کو خسارہ پہنچانے کے سوائے کچھ بھی نہیں دے سکتی ہیں خدارا صرف صرفِ اہل ایمان کی حیثیت سے زبان کا استعمال کریں یہی بہتر ہوگا یہ موقع ایک دوسرے کی تنقید یا مخالفت کا نہی خدارا اپنا وزن اور اپنی حیثیت کو پہچانوں متحد ہو جاؤ اگر اب بھی ظلم و ناانصافی اور فرقہ پرستی کے خلاف کھڑے نہ ہوں گے تو روز بہ روز بہ پر فتن حالات مزید تشویشناک صورت حال اختیار کر سکتے ہیں اس لئے لازم ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہو جاؤ اور لازمی شکل صورت میں آج ہی سے قرآن مجید کی جانب لوٹ آ ؤ کیونکہ قرآن مجید ہی راہ نجات اور سر بلندی کا واحد سر چشمہ ہے غور سے سنو قرآن مجید مکمل نظام حیات ہے ہر سنگین سے سنگین اور بد سے بد ترین حالات میں قرآن کریم جو راستہ دکھا رہا ہے وہی اصل راہ نجات ہے! مومن کے لئے بزدلی اور نا امیدی کفر ہے مومن حق کے لئے ہر وقت ہر صورت مظلوم کی حمایت میں کھڑا نظر آتا ہے اگر ظلم اور حق تلفی پر مومن خاموشی اختیار کر ے تو پھر آج از خد نتیجہ اخذ کریں کہ کیا ایمان کا کمزور شخص مومن کھلانے کے لائق ہے کہ نہی آج پوری دنیا سے جو خبریں چھن چھن کر ہم سبھی کے سامنے آ رہی ہیں وہ تشویشناک حالات کو بیان کر رہی ہیں نتیجہ کے طور پر ان دنوں اہل ایمان پوری دنیا میں خد کو پست اور لاچار محسوس کر رہے ہیں دنیا بھر میں ہماری ذات برادری اور مسلکی منافرت کے سبب ہمارا تماشا بنا ہوا ہے جبکہ ایران ، ہوتی اور حماس تن تنہا ظالم جابر اسرائیل کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں مگر مسلم مجاہدین کی ایمانی قوت نے سپر پاور امریکہ اور اسکی ناجائز گینگ اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جو کام 57 مسلم مّمالک 75 سال میں نہی کر سکے وہ کام ایران کے مجاہدین نے 30 دنوں میں کر دکھایا یہ تو محض ایک ادنیٰ سی نظیر ہے!
واضع رہے کہ گزشتہ 75 سالوں میں اسرائیل کی دہشت پسند سرکاری مشینری نے قریب قریب ڈھائی لاکھ سے زیادہ فلسطینی مرد و خواتین اور بچوں کو اعلانیہ قتل کر کے اہل ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے مگر افسوس صد افسوس کہ آج تک کوئی مسلم ملک کھل کر حزب اللہ، ایران ، حماس اور ہوتیوں کی طرح اسرائیلی فوج اور حکومت کی دہشت گرد ی کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں جٹآ سکا یہ صرف اور صرف ضمیر اور ایمان کے کمزور ہونے کی پختہ دلیل ہے آج اہل ایمان کو ایران ترکی اور ہوتیوں کی بہادری پر فخر ہے!
