ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی بجنور
کبھی کبھی تاریخ میں کسی ایک شخص کی موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان پوری قوموں کا مستقبل چھپا ہوتا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ اگر وہ شخص پیدا ہی نہ ہوتا، اگر اس نے اپنے عہد کے خلاف بہنے والی ہوا میں چراغ جلانے کی جسارت نہ کی ہوتی، اگر اس نے اپنی قوم کی زبوں حالی کو دیکھ کر صرف آہ و فغاں پر اکتفا کیا ہوتا تو آج تاریخ کا نقشہ کیا ہوتا؟سرسید احمد خاں کو یاد کرتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہی سوال آتا ہے: یہ سوال محض عقیدت کا سوال نہیں، تاریخ کے ایک بڑے تجربے کا سوال ہے۔
سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو اس وقت تعلیم کی طرف بلایا جب 1857ء کے بعد ہندوستانی مسلمانوں پر شکست، مایوسی اور بے یقینی کے سائے گہرے تھے۔ سیاسی اقتدار ہاتھ سے جاچکا تھا، معاشی حالات خراب تھے، سرکاری ملازمتوں کے دروازے تیزی سے بند ہورہے تھے اور جدید علوم سے مسلمانوں کی دوری انہیں نئے ہندوستان میں مسلسل پیچھے دھکیل رہی تھی۔ ایسے وقت میں بہت سے لوگ ماضی کے زخم گن رہے تھے، لیکن سرسید مستقبل کی تعمیر کا راستہ تلاش کررہے تھے۔انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ قومیں صرف تلوار سے شکست نہیں کھاتیں، علم سے محرومی بھی انہیں شکست خوردہ بنا دیتی ہے۔انہوں نے یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں صرف ماضی کے علمی کارناموں پر فخر کرکے زندہ نہیں رہا جاسکتا۔ اگر مسلمان جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، انگریزی زبان اور عصری نظامِ تعلیم سے رشتہ قائم نہیں کریں گے تو ان کی آنے والی نسلیں دوسروں کی محتاج ہوجائیں گی۔یہیں سے سرسید کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔
سرسید نے محض تقریریں نہیں کیں۔ انہوں نے ادارے بنائے، لوگوں کو جمع کیا، چندہ مانگا، سفر کیے، مخالفتیں برداشت کیں، کتابیں لکھیں، علمی تحریک چلائی اور بالآخر علی گڑھ میں ایک ایسے تعلیمی مرکز کی بنیاد رکھ دی جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں ایک عظیم ادارہ بن گیا۔یہ کہنا سرسید کے کارنامے کو چھوٹا کرنا ہوگا کہ انہوں نے صرف ایک کالج قائم کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایک ذہنی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مسلمان کو یہ احساس دلایا کہ تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، قوموں کی تعمیر کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔
1875ء میں علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کا آغاز ہوا، جو آگے چل کر محمدن اینگلو اورینٹل کالج بنا اور 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی وجود میں آئی۔ سرسید 1898ء میں دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کا خواب ان کی زندگی کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ یہی کسی بڑے انسان کی پہچان ہے کہ وہ خود چلا جاتا ہے مگر اس کا کام چلتا رہتا ہے۔
علی گڑھ اسی خواب کی تعبیر تھا۔لیکن علی گڑھ صرف ایک عمارت، ایک کیمپس یا ایک یونیورسٹی کا نام نہیں۔ علی گڑھ ایک فکر ہے، ایک مزاج ہے، ایک تحریک ہے۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو بتایا کہ مذہبی شناخت اور جدید تعلیم ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ قرآن سے وابستگی رکھتے ہوئے سائنس پڑھی جاسکتی ہے، اپنی تہذیبی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے جدید دنیا میں آگے بڑھا جاسکتا ہے اور دینی شعور کے ساتھ عصری علوم میں کمال پیدا کیا جاسکتا ہے۔
علی گڑھ سے نکلنے والی نسلوں نے ہندوستان کی زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ قانون، طب، تدریس، انتظامیہ، صحافت، سیاست، سائنس، تحقیق، ادب اور سماجی خدمت—ہر شعبے میں علیگ افراد نے اپنا حصہ ادا کیا۔ یہ سرسید کی تعلیمی تحریک کا وہ ثمر ہے جسے محض اعداد و شمار میں نہیں سمیٹا جاسکتا۔
سرسید کی وفات کے بعد بھی اس تحریک کو آگے بڑھانے والے لوگ پیدا ہوتے رہے۔ علیگ برادری میں سے بہت سوںنے اس ادارے سے تعلق کو محض اپنی ڈگری تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف ادوار میں یونیورسٹی اور تعلیمی تحریک کی خدمت کی۔ یہی کسی ادارے کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس سے وابستہ افراد اپنی کامیابی کو صرف ذاتی کامیابی نہ سمجھیں بلکہ اسے اجتماعی ترقی کا وسیلہ بنائیں۔لیکن یہاں ایک سوال پھر سر اٹھاتا ہے: اگر سرسید نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟اس کا کوئی قطعی جواب تاریخ نہیں دے سکتی۔ مگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی بیداری شاید بہت دیر سے شروع ہوتی۔ ممکن ہے کہ ہم جدید تعلیم کے میدان میں مزید کئی دہائیاں پیچھے رہ جاتے۔ ممکن ہے کہ سرکاری ملازمتوں، اعلیٰ تعلیم اور نئے علمی شعبوں میں ہماری نمائندگی اس سے بھی کم ہوتی جو بعد میں رہی۔سرسید نے مسلمانوں کو کم از کم یہ راستہ تو دکھادیا تھا کہ مستقبل کی طرف جانے والی شاہراہ تعلیم سے ہوکر گزرتی ہے۔اسی لیے میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ آج ہم جس تعلیمی پسماندگی کا رونا روتے ہیں، اگر سرسید نہ ہوتے تو شاید ہم اس پستی میں سو سال پہلے ہی پہنچ چکے ہوتے۔
گزشتہ تین دہائیوں میں مسلمانوں میں تعلیم کا رجحان یقیناً بڑھا ہے۔ نئی نسل اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کررہی ہے۔ میڈیکل، انجینئرنگ، مینجمنٹ، قانون اور دوسرے پروفیشنل شعبوں میں مسلمان نوجوان آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ہماری آبادی بھی بڑھی ہے اور اس تناسب سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی اب بھی تشویش کا موضوع ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ نے بھی مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم میں کم نمائندگی کی نشان دہی کی تھی۔
یہ صورتِ حال ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے: صرف یہ خوشی منانا کافی نہیں کہ ہمارے بچے پہلے سے زیادہ پڑھ رہے ہیں؛ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں، کہاں پڑھ رہے ہیں، کس معیار کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان میں سے کتنے لوگ تحقیق، علم اور تخلیق کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔سرسید کے زمانے میں مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان جدید تعلیم سے دور تھے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں معیاری اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اپنی جگہ بنانی ہے۔یہ فرق معمولی نہیں۔
آج سرسید ہوتے تو شاید وہ صرف یہ نہ کہتے کہ بچوں کو اسکول بھیجو۔ وہ پوچھتے کہ اسکول کیسا ہے؟ استاد کون ہے؟ نصاب کیا ہے؟ بچے میں سوال کرنے کی صلاحیت پیدا ہورہی ہے یا نہیں؟ وہ تحقیق کررہا ہے یا صرف امتحان پاس کررہا ہے؟ ہماری یونیورسٹیاں علم پیدا کررہی ہیں یا صرف ڈگریاں بانٹ رہی ہیں؟
سرسید کو سچا خراج عقیدت یہی ہے کہ ان کے مشن کو آگے بڑھائیں مگر سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر شہر میں ایک نیا علی گڑھ بنا دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم علی گڑھ کی روح کو ہر شہر تک پہنچائیں۔ہر مسلم بستی میں معیاری اسکول قائم ہوں۔غریب بچوں کے لیے تعلیمی وظائف ہوں۔ذہین طلبہ کے لیے خصوصی کوچنگ کا نظام ہو۔مسابقتی امتحانات کے لیے رہنمائی مراکز ہوں۔لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے محفوظ اور معیاری ادارے ہوں۔مدارس کے طلبہ کے لیے جدید علوم کے دروازے کھولے جائیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تعلیم کو اجتماعی فریضہ سمجھا جائے۔اگر ایک صاحبِ استطاعت شخص کسی ایک بچے کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری لے لے، اگر ایک ڈاکٹر ایک طالب علم کی رہنمائی کرے، اگر ایک انجینئر چند غریب بچوں کو سائنس پڑھائے، اگر ایک علیگ اپنی کامیابی کا کچھ حصہ اپنے معاشرے کی تعلیمی ترقی کے لیے وقف کردے تو سرسید کی تحریک دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔
علیگ برادری کی طرف سے سرسید کے نام پر عظیم عشایہ کا اہتمام ہی کافی نہیں بلکہ موجودہ صورت حال علیگ برادری کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔علیگ ہونا صرف یہ نہیں کہ آپ نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی۔ علیگ ہونا ایک ذمہ داری بھی ہے۔ جس ادارے نے آپ کو شناخت، تعلیم اور مواقع دیے، اس کے پیغام کو آگے پہنچانا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ آج ملک کے مختلف حصوں میں علیگ افراد موجود ہیں۔ اگر یہ برادری اپنی اجتماعی قوت کو تعلیم کے لیے منظم کرے تو سینکڑوں نہیں، ہزاروں بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔سرسید نے ایک ادارہ قائم کیا تھا؛ آج ہمیں اداروں کی ایک پوری زنجیر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ایک تعلیمی تحریک شروع کی تھی؛ آج ہمیں اسے علمی، تحقیقی اور تکنیکی تحریک بنانا ہوگا۔انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کے دروازے تک پہنچایا تھا،آج ہمیں انہیں عالمی علمی میدان کے اندر لے جانا ہے۔آج دنیا مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، روبوٹکس، ڈیجیٹل معیشت اور جدید طب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم نے صرف روایتی ڈگریوں پر اکتفا کیا تو ہم سرسید کے مشن کے ساتھ انصاف نہیں کرسکیں گے۔ سرسید کا اصل سبق زمانے کی ضرورت کو پہچاننا تھا۔ ان کے زمانے میں انگریزی اور جدید علوم کی ضرورت تھی، آج جدید سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراعی فکر کی ضرورت ہے۔
سرسید کا تصور تعلیم صرف روزگار کا تصور نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے مسلمان کی تعمیر چاہتے تھے جو اپنے مذہب، تہذیب اور تاریخ سے واقف ہو اور ساتھ ہی اپنے زمانے کے علمی تقاضوں کو بھی سمجھتا ہو۔ ہمیں آج بھی ایسی ہی متوازن تعلیم کی ضرورت ہے۔ ایسی تعلیم جو ذہن کو وسیع کرے مگر کردار کو کمزور نہ کرے، جو روزگار دے مگر مقصدِ زندگی نہ چھینے، جو دنیا سے جوڑے مگر اپنی شناخت سے کاٹے نہیں۔
سرسید نے ہمیں ایک راستہ دکھایا تھا۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ان کے نام پر کتنی تقریریں کرتے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہم ان کے راستے پر کتنا چلتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں کچھ لوگ چراغ جلاتے ہیں اور کچھ لوگ اس چراغ کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ سرسید نے چراغ جلایا تھا۔ علی گڑھ اس چراغ کی ایک بڑی شمع بنا۔ علیگ برادری نے اس روشنی کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا۔ اب ہماری باری ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اس چراغ کو صرف سرسید کی یادگار بنا کر رکھنا ہے یا اس سے ہزاروں نئے چراغ روشن کرنے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ اگر سرسید ہوتے تو کیا کرتے،نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر سرسید آج ہمارے درمیان ہوتے تو ہم سے کیا توقع کرتے؟شاید وہ ہم سے یہی کہتے:ماضی پر فخر ضرور کرو، مگر مستقبل تعمیر کرو۔اپنی محرومیوں کا ماتم نہ کرو، انہیں دور کرنے کی تدبیر کرو۔اپنے بچوں کو صرف تعلیم نہ دو، انہیں علم کی طلب دو۔وہ کہتے: قوموں کا مستقبل جلسوں سے نہیں، کلاس رومز میں بنتا ہے۔سرسید کا اصل مشن یہی تھا۔اور شاید آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کے روشن مستقبل کی سب سے بڑی کنجی یہی ہے۔
