ظہیرآباد مسجد راشدہ اسد میں خطبہ جمعہ میں میراث کی تقسیم کیوں اور کیسے؟ کے موضوع پر امیر مقامی ظہیر آباد نارتھ جناب محمد قیصر غوری کا خطاب

ظہیرآباد -17 اکتوبر (نمائندہ۔جی۔یم): آج مسجد راشدہ اسد مرکز اشاعت اسلام ظہیرآباد میں نماز جمعہ سے قبل امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ظہیرآباد نارتھ جناب محمد قیصر غوری نے "میراث کی تقسیم کیوں اور کیسے؟”کے عنوان پر خطبہ جمعہ پیش کیا۔انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک سورہ نساء میں میراث کے حصے خود متعین فرمائے ہیں۔ نماز، روزہ کی تفصیل قرآن میں نہیں لیکن میراث کی تفصیل خود اللہ نے بیان فرمائی، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں بھائی بھائی میں دشمنی، خاندانوں میں ٹوٹ پھوٹ کی سب سے بڑی وجہ میراث کا صحیح تقسیم نہ ہونا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ میت کے مال میں سے سب سے پہلے کفن دفن، پھر قرض کی ادائیگی، پھر ایک تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی، اس کے بعد باقی مال وارثوں میں تقسیم ہوگا۔ اسلام نے بیوی، ماں، بیٹی، بہن سب کے حصے مقرر کئے ہیں۔ بیٹی کو جہیز دے کر میراث سے محروم کر دینا سراسر ظلم اور حرام ہے۔ اسی طرح زندگی میں ہی ساری جائیداد بیٹوں کے نام کر دینا اللہ کے قانون سے فرار ہے۔انہوں نے کہا کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ناحق لی، قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ لہذا ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے مرحوم والدین کی جائیداد کو فوراً شریعت کے مطابق تقسیم کرے اور بہنوں بیٹیوں کا حق ادا کرے۔اس موقع پرناظم ضلع سنگاریڈی مغرب محمد ناظم الدین غوری معاون ناظم ضلع محمد معین الدین ضلعی صدر ایم پی جے انجنئیر شہباز الدین اور  مصلیان کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے