‘مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی قابل احترام شخصیت’
سہارنپور (احمد رضا): یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک لمبے عرصے کے دوران ہمارے درمیان سے لاکھوں علمائے کرام رخصت ہو گئے ہیں مگر ان پاک علمائے کرام کی گراں قدر علمی تصانیف، تحریروں، تالیفات اور خطبات سے علمی استفادہ کرتے ہوئے آج بھی لاکھوں عالم دین ہمارے درمیان موجود ہیں اور دین اسلام کی دعوت اور تشہیر میں سر فہرست ہیں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے یہ علمی فیض ہم سبھی کو بہ آسانی دستیاب ہے اس کے لئے ہم سب اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور خالق حقیقی کے سامنے سر بہ سجود ہیں لازم ہے کہ ہم سبھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے علمائے کرام اور سیرت النبی سے علمی استفادہ حاصل کریں، ایک عرصہ تک تصنیف، تعلیم اور خطیب کی حیثیت سے ملت اسلامیہ کی لاثانی خدمات انجام دینے والے دورِ حاضر کے ممتاز عالمِ دین، بے مثال خطیب، معروف ادیب و صحافی اور سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کے انتقال پر ملال پر ملک و بیرونی ممالک میں تین روز سے مسلسل رنج و غم کا ماحول ہے ملت اسلامیہ اپنے قابل احترام بزرگ کو کھو نے کے صدمہ میں اشکبار ہے ” إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ” جگہ جگہ آپ کی مغفرت کے لئے ایصال ثواب کیا جا رہا ہے۔
مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی، مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ و خادم جامعہ رحمت گھگھرولی نے بھی آپ کی رخصتی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے تعزیتی بیان نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی علمِ دین، عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف، دعوت و تبلیغ، صحافت اور خطابت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ عربی زبان و ادب پر ان کی گہری نظر، تنقیدی بصیرت، علمی وقار اور اسلوبِ بیان انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہلِ علم میں نمایاں مقام عطا کرتا تھا مولانا مرحوم کو مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی خصوصی سرپرستی و تربیت حاصل رہی، جس نے ان کی علمی و فکری شخصیت کو مزید نکھارا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے ان کی طویل وابستگی اور بطور مہتمم ان کی خدمات علمی و تعلیمی حلقوں میں ہمیشہ قدر و احترام سے یاد کی جائیں گی۔ ان کی تحریری و صحافتی کاوشیں، علمی مضامین، عربی زبان و ادب سے متعلق خدمات اور مؤثر خطابات ان کے علمی ورثے کا قیمتی حصہ ہیں۔
مولانا نے مرحوم سے اپنے خانوادے کے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کے والدِ ماجد، عاشقِ ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قدس سرہٗ، سابق مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ، سے بھی مولانا مرحوم کا گہرا، دیرینہ اور محبت و عقیدت پر مبنی تعلق تھا۔ یہ تعلق محض شخصی مراسم تک محدود نہ تھا بلکہ علمی، دینی اور دعوتی میدانوں میں باہمی تعلق و اخلاص کی ایک خوب صورت روایت کا مظہر تھا انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور تمام متعلقین، اہلِ خانہ، تلامذہ اور محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے! آمین ثم آمین
