جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں ان دنوں طلبہ یونین کی بحالی کے تعلق سے طلبہ کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق تعلیمی اور سماجی کارکنانِ نے بھی اپنی رائے پیش کی جو ذیل میں درج کی جارہی ہے۔ (ادارہ)
کہا جاتا ہے کہ نوجوان بطور خاص اعلی تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک عزیز ہندوستان میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ قیادت نے ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور ملک وملت کی تعمیر کی روشن تاریخ ان کے تذکروں سے کبھی خالی نہیں رہی ہے۔
مگر افسوس آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری احتجاج اور طلبہ کے خلاف پولیس اور جامعہ انتظامیہ کا رویہ نہایت قابل افسوس ہے۔ جامعہ کے طلبہ کئی ہفتوں سے مسلسل طلبہ یونین کی بحالی کیلئے پر امن احتجاج کررہے ہیں لیکن انتظامیہ کی ضد اور جارحانہ رویہ جمہوری اقدار اور ایک مہذب معاشرے کے اصول کے برخلاف ہے۔ بچوں کی بھوک ہڑتال سمیت ان کے مطالبات پر کوئی گفتگو نہیں ہورہی ہے بلکہ اسے نظر انداز کرکے صرف طاقت کے بل پر اور فقط روک لگاکر دروازوں کو بند کرکے طلبہ کو یہ بتانے کی کوشش جاری ہے کہ آپ ایک تعلیم یافتہ اور مہذب لیڈرشپ سے دور رہیں اور آپ کو اپنے حقوق سے دور رکھا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین جناب نوراللہ خان نے کیا۔
طلبہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جناب ایڈوکیٹ عبیداللہ خان نے کہا کہ جامعہ کی بنیاد جمہوری اقدار ، حب الوطنی اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ اپنے سماجی تحفظ اور اپنے حقوق کے ساتھ باوقار زندگی گزارنے کے مقصد اور اعلیٰ تعلیم کے مرکز کے طور پر ہوئی تھی اور یہ مقاصد ایک بہتر لیڈر شپ اور سیاسی سوجھ بوجھ کے بغیر ناممکن ہیں۔
گزشتہ روز جامعہ کی تاریخ اور طلبہ یونین کی افادیت پر گفتگو میں معروف سماجی کارکن اور باوقار شخصیت کے حامل جناب خالد سہیل صاحب نے کہا کہ تعلیم کے بغیر مستقبل کی تعمیر اور اچھی لیڈرشپ کا تصور ہی معدوم ہوگا۔ لہذا جامعہ میں یونین کی بحالی ضروری ہے اور طلبہ کا مطالبہ حق بجانب ہے۔
اس حوالے سے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے جناب سیف الرحمن خان نے کہا کہ یہ کالجز تو سیاسی نرسری ہوتے ہیں۔ اچھے اور دور رس نتائج کیلئے دور اندیش سیاسی لیڈر شپ یہیں سے ممکن ہے۔
اس بابت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محبان اردو ایجوکیشنل ٹرسٹ کے قومی صدر جناب ڈاکٹر ایم اے عزیز نے کہاکہ یونیورسٹیز میں طلبہ یونین کی فعالیت وقت کا شدید تقاضا ہے اور یہیں سے جمہوری آواز اٹھ سکتی ہے اور یہیں سے ایک بہتر سیاسی مستقبل کی تیاری کی امید کی جاسکتی ہے۔ نوجوان ہماری آمید بھی ہیں اور ہماری ضرورت بھی ہیں۔ اور آپ نے کہا کہ ہمارے پرانے لیڈر چاہے وہ لالو پرساد ہوں یا نتیش جی، شیلا دیکشت جی رہی ہوں یا دہلی کی موجودہ وزیرا علیٰ یہ سارے لیڈر ان بڑی یونیورسٹیوں کے ہی پروردہ لوگ ہیں۔ اس لئے ہمہ جہت تعلیم وتربیت اور ان کی شخصیت سازی کیلئے طلبہ یونین کی بحالی کا یہ دیرینہ مطالبہ نہ صرف طلبہ کا جمہوری حق ہے بلکہ یہ مطالبہ بالکل حق بجانب ہے۔
