
مبصر:محمدیوسف رحیم بیدری،
کرناٹک۔ موبائل :9845628595
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ رحمت مُنال کی شاعری کے اب تک چھ مجموعہ ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں ۔ (۱) گل بلوئی 2012، صفحات 586 (۲) اور کیاچاہیے۔سال 2022، صفحات 144(۳)محبت سے پہلے 2023 ، صفحات 208(۴)محبت کے بعد مئی 2023 صفحات 208(۵)محبت فاتحِ عالم 2024 صفحات 252(۶)محبت جاودانی ہے ستمبر 2024، صفحات 254
ٰٖآج ہم ’’محبت جاودانی ہے ‘‘ کی شاعری کو پڑھنے اور اس پر بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ ثمینہ رحمت مُنال کی بابت بھی کچھ باتیں ہوسکتی ہیں۔ کیوں کہ محبت جاودانی ہے ، ان کی تازہ شعری تخلیق ہے جو اسی ماہ یعنی ماہ ستمبر 2024 میں شائع ہوئی ہے۔
ثمینہ رحمت مُنال کی زندگی اور ان کے شب وروز کی جھلکیاں خود ان کے اس بیان میں ملاحظہ کریں ۔ وہ ’’میں بس تم سے مخاطب ہوں‘‘ عنوان کے تحت لکھتی ہیں ’’ہردور میں محبت کرنے والوں کے راستے میں کانٹے ضرور بوئے گئے ہیں۔ دنیا میں جتنے پیغمبر آئے انھوں نے محبت کا ہی پیغام دِیا۔ ایک خدا سے محبت ، برائی سے روکنے اور نیکی کے کام کرنے کی محبت، حقیقی شاعربھی محبت کانام لے کے زند ہ ہیں اور محبت کے پیغام کوعام کرتے ہیں۔لیکن آج کے دور کاایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ محبت فروخت کی جاتی ہے، محبت کاکاروبار کیاجاتاہے اور اس کے سب سے بڑے گاہک وہ مالدار مرد اور خواتین ہیں جن کے ہاتھ میں پیسہ تو آگیا، طاقت اور دولت تو آگئی لیکن انھیں عزت ملی نہ شہرت توعزت اور شہرت کا نشہ پوراکرنے کے لیے انھوں نے کتاب کا سہارا لیا۔ اصلی شاعروں اور ادیبوں کو بے بس اور مجبور کرکے ان سے چند روپوں کے عوض کتاب خرید کے اپنے نام سے چھپوانی شروع کردی ۔ بڑے بڑے مشاعرے پڑھنے شروع کردئیے لیکن ان کے تکبر، گھمنڈ اور غرور نے دنیا کو باورکرادیا اور بارہا باور کرا دیا کہ ایسا ادب تخلیق کرنے والے ایسے نہیں ہوسکتے جیسے کہ یہ ہیں۔ یہ لوگ جونکیں ہیں جو خون چوستی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے برداشت نہیں ہوسکاکہ کمالیہ کے ایک سنار کی بیٹی دھڑا دھڑغزلیں کہہ رہی ہے ، دن میں دس دس کالم لکھ رہی ہے۔ خوبصورت ہے، اکیلی رہ رہی ہے لیکن اس تنہائی کافائدہ نہیں اٹھارہی ، برطانوی شہر ہے لیکن اس پاسپورٹ کو استعمال کرکے ہمارے چوروں کوبرطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے میں ان کی مدد نہیں کررہی ، نہ کسی سے شادی کی خواہشمند ہے نہ ناجائزتعلقات کے حق میں ہے ۔ شاعری ،ا فسانے، کالم بیچنے کی آفر بھی سختی سے منع کرچکی ہے‘‘ (صفحہ ۔ 12اور 13، محبت جاودانی ہے)۔

(تصویر: ثمینہ رحمت منال)
تو حضرات یہ ہیں ثمینہ رحمت مُنال۔ آگے ان پر جو بیتی وہ کہانی بھی طویل ہے۔ جس میں وہ خود کو مظلوم بتاتی ہیں۔ یہاں تک کہ بقول ان کے ادب دشمن حضرات نے ان کی اولادوں پر بھی ظلم کیا۔ اس دعا کے ساتھ ہم ان کی شاعری کی طرف بڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کی اولاد ، عزیزواقارب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔
ٍ زیب النساء زیبی نے ان کی شاعری کو حقیقتوں کی آئینہ دار بتلایاہے۔ اور لکھا ہے کہ ’’ثمینہ نہ صرف شعر کہتی ہیں بلکہ ان کوقاری تک پہنچانے کاانتظام بھی ساتھ ساتھ جاری رکھتی ہیں۔ سوشل میڈیا ہویا کتاب کی اشاعت کا کام یاتقریباتِ رونمائی ہوں، کلام کوہرپلیٹ فارم سے قاری تک پہنچارہی ہیں جس سے ان کی پہچان بن رہی ہے۔ کسی بھی فن پارے کو نکھارنے کے لیے اپنے سینئر کی رائے اوررہنمائی بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یقیناان کے استادِ سخن بھی لائق ِ تحسین ہیں ۔ا ن کی بعض غزلیں اور اشعار راست گوئی اور معاشرتی آشوب کا بہت بڑا حوالہ ہیں۔ ان کے کلام میں عشقِ مجازی کے صدمات کا بھی گہر ااثر ملتاہے اور یہی کرب ِ ذات کا سفر انھیں انفرادی جذبات واحساسات کی کیفیات سے نکال کر اجتماعی دکھوں اور مسائل سے بھی شناساکرتاہے (صفحہ 17۔ محبت جاودانی ہے )
مخدوم امجد شاہ ، چیئر مین اکادمی ادبیات برطانیہ نے محترمہ کے شعری مجموعہ ’’محبت جاودانی ہے ‘‘ کی بابت لکھاہے کہ ’’ثمینہ یوں تو ایک لمبے عرصہ سے شاعری کرتی آرہی ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے انھوں نے مسلسل شاعری کو اپنااوڑھنا بچھونا بنا رکھاہے اور متواتر شعر کہتی آرہی ہیں ۔ وقتاً فوقتاً ان کی شاعرعی میں جومعاشرے سے شکایت اور تلخی پہلے نظر آیاکرتی تھی وہ آہستہ آہستہ ان کے شعر سے نکل کر مثبت اور محبت کے پرلطف ماحول میں ڈھلتی جارہی ہے۔ حمد ،نعت ، کے علاوہ ملی جذبہ بھی ان کی شخصیت کاحصہ ہے۔ (پس ورقشائع رائے سے ماخوذ ۔’’ محبت جاودانی ہے‘‘ )۔ایک حمد اور ایک نعت اس مجموعہ میں ہمیں ملتی ہے۔ نعت ِ رسول پڑھ کر آنکھیں نم ضرورہوتی ہیں۔خاتون شاعرہ ہونے کے حوالے سے خصوصی طورپرنعت کا یہ شعر اچھا لگا ؎
ایک میں ہی تو نہیں منگتی ترے دربار کی
جھولی پھیلائے کھڑا عالم ہے سارا یانبی ﷺ
ان کی غزلیں طویل بھی ہیں اورطویل تر بھی۔ پڑھتے پڑھتے خود قاری اپنے طورپر غزل کہنے لگے، اس طرح کی زیادہ اشعار پر مشتمل غزلیں چراغ سے چراغ جلاکرادب کی خدمت انجام دیتی ہیں۔ اپنی شاعری میں ایک شاعرہ کو وہ چیخیں سنائی دے رہی ہیں ، جو بیٹی کی بھی ہوسکتی ہیں اور زمانے کی بھی ؎
تری چیخیں جنہیں میں سن رہی ہوں
کروں کیسے رقم اللہ اکبر
جو لوگ خود کو اللہ اور رسول سے وابستہ کرلیتے ہیں ، انہیں دنیااور آخرت دونوں جگہ مایوسی نہیں ہوتی ۔ محترمہ مُنال کاشعر ہے ؎
خدا میرے قلم کی لاج رکھے
مرانکلے جودم اللہ اکبر
واقعی ایک ایمانی شعر پڑھ کر میراایمان بھی تازہ ہوگیا۔حضرت حسین ؓ کی منقبت بھی اس مجموعہ میں شامل ہے ؎
یوں توستارے عرش کے سب ہی ہیں معتبر
روشن جو سب سے ہے وہ ستار حسین ؓ ہے
نظم ’’اے اہل فلسطین تمہیں عید مبارک‘‘ متاثر کرتی ہے۔ نغمگی ہے اور دلسوزی بھی۔پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر لکھی نظم بھی متاثر کرتی ہے۔ بلکہ ثمینہ رحمت مُنال نے اس نظم کے ذریعہ عبدالقدیر خان کوخراج پیش کیاہے۔ انھوں نے دوایک عجیب تجربے غزل کے ان دوشعروں میں بیان کئے ہیں ؎
کبھی تو مرد بھی غزلیں چرانے لگتے ہیں
اگر کبھی کہیں لڑکی ادیب ہوتی ہے
وہ ایک ماں جسے لکھنا نہ پڑھنا آتاہو
کبھی کبھی تو بلا کی خطیب ہوتی ہے
کوہ ِ طور پر بہت سے شعر ہم نے پڑھے ہیں لیکن یہ شعر عین ممکن ہے کہ ثمینہ رحمت کا حوالہ بن جائے ؎
جلا کر راکھ کر ڈالا ہے اُس نے
میں کوہِ طور ہوتی جارہی ہوں
موجودہ حالات برصغیر پاک وہند کے اچھے نہیں ہیں ،عشق کے نام پر ہوس کا سلسلہ جاری ہے۔ گھرٹوٹ رہے ہیں۔اور غیرت کے نام پرقتل عام بات ہے۔ اسکا حل بھی ثمینہ رحمت مُنال نے پیش کیاہے ؎
الفت ہے تو ماں باپ سے تم مانگ لو رشتہ
عزت کسی لڑکی کو بھگانے میں نہیں ہے
یہ شعر بھی اسی مجموعہ میں درج ہے ، کافی اہم ہوسکتاہے ؎
مجھے بابا کی پگڑی بھی ہے پیاری
جو جاتاہے تو میرایار جائے
اس قدر ہمت جس لڑکی میں ہووہی لڑکی ایمان والی ہوگی جس کا احسان سارا خاندان نہیں اُتار سکتا۔ورنہ آج کل ہندوستان میں لڑکیاںہندولڑکوں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں اور اپنامذہب چھوڑ کر ہندومذہب بھی اختیار کررہی ہیں۔ دوسری طرف سلمان خان ، شاہ رخ خان نامی وہ مسلمان بھی ہیں، جو گنیش کی پوجا میں شامل ہوتے ہیں بلکہ پوجاکرتے ہیں۔ پھر بھی ان کااسلام سے رشتہ قائم ودائم رہتاہے۔ اہل ِ اسلام آخر کس طرف جارہے ہیں ؟۔ ثمینہ کے ہاں حسن کی معصومیت اس درجہ نظر آتی ہے کہ اس کو مادہ پرستی سے نہیں جوڑ اجاسکتا۔ گھر ہی عورت کی کل دنیا ہوتی ہے اور اگر وہ گھر مانگ لے ، بنگلہ کی چابیاں مانگ لے تو درست ہی ہے ۔ ایک مشرقی لڑکی کا خواب شوہر اور بچوں کے بعد بنگلہ ہی ہوتاہے ۔ ثمینہ مُنال کہتی ہیں ؎
میں جو آؤں تمہارے بنگلے پر
ہاتھ میں چابیاں تھما دینا
یہ شعر کہہ کر انھوں نے اپنے ادبی مشغلہ کواس طرح آشکار کیاہے ؎
کون کہتاہے شعر کہتی ہوں
اپنے دُکھ درد بانٹتی ہوں میں
شجر پر شعر کہنا بہت ضروری ہوگیاہے ، کیوں کہ انسان گھر اور دفتر کے نام پر اصلی جنگل کو ختم کرکے کانکریٹ کا جنگل کھڑا کررہاہے ؎
گھر بنالو جتنے بھی تم کوبنانے ہیں مگر
سانس لینے کوضرورت ہے تمہیں اشجار کی
اس شعر میں ماؤں کی سماجی بے بسی کی تصویر اتاری گئی ہے ؎
جب بھی مانگے ہیں پیسے بیٹے سے
مار اس نے بہو سے کھائی ہے
اس بے بسی کوبھی ملاحظہ کریں ۔ یہ بھی اپنی نوعیت کی بے بسی ہے ؎
اب پرندے بھی میرے بس میں نہیں
یہ بگڑنے لگے سدھانے میں
اس دور میں شاعری کو پسندکرنے والوں کی بہتات ہے لیکن شاعروں کو محنت کا صلہ دینے کے بارے میں بہت کم سوچاگیاہے۔ کہنے کو تو یہ معاشرہ سیویلائزڈ معاشرہ ہے ، لیکن کسی کو خراج پیش کرنے یا سب کو ساتھ لے کر چلنے کے معاملے میں ایک طرح کی ثقافتی مفلسی دیکھنے کوملتی ہے ۔ اس کابیان اس شعرمیں ہے ؎
آج کے شاعر کومحنت کاصلہ ملتانہیں
آج کاشاعر بنا تنخواہ کامزدور ہے
نظم ’’مائیں‘‘ بڑی طویل مگر غزل نما نظم ہے۔ اچھی معلوم ہوتی ہے۔ نظم ’’عورت ‘‘ میں شوہر اور بیٹے کو انھوں نے ترجیح دی ہے۔ بہر حال طویل طویل غزلیں اس مجموعہ ’’محبت جاودانی ہے ‘‘ میں شامل ہیں جبکہ ان غزلوں کوپانسات اشعار پرمشتمل کرتے ہوئے دوغزلہ ، سہ غزلہ اور چارغزلہ بھی کیاجانا ممکن تھا۔ بہرحال محترمہ ثمینہ رحمت مُنال جس تیزرفتاری سے شعر کہتی ہیں ،وہ مبارک لیکن شعر کی کرافٹنگ کاسوال ہے۔ویسے ان کے مجموعے یکے بعد دیگر ے آرہے ہیں یہ بھی ایک مستحسن قدم ہے مگر کتابوں کودِکھالینابھی ضروری ہے۔ توقع ہے کہ وہ اس عمل سے گزرتی ہوں گی۔ اس عمل کی توسیع کی ضرورت ہے۔ ثمینہ رحمت مُنال نے اپنے حسن پر اور اس کے جمال پر اعتبار کر رکھاہے۔ اسی لئے غالباًیہ شعر مُنال کی شاعری میں چاند کی طرح چمکتاملا ؎
میں تو اس بات پر ہی خوش ہوں بہت
دسترس میں تراجمال رہا
اور اس درج ذیل شعر نے وہ کچھ کہاہے ، جو کہنے سے رہ جاتاہے ؎
فقط آنچل لپیٹا تھا بدن سے
تراسایہ کہیں لہرا گیاہے
ثمینہ نے غزہ اور فلسطین سے متعلق بھی شعر کہے ہیں جو اس مجموعہ کی غزلوں میں اِدھر اُدھر مل جاتے ہیں۔ ایک شعر دیکھیں ؎
فلسطیں کوبچانے کون نکلے
غزہ میں پھر سے کافر چھاگیاہے
چند عمدہ اشعار ملاحظہ کریں ؎
کسی کسی کو لحد میں سکون ملتاہے
کسی کسی کو شہادت نصیب ہوتی ہے
وہ میری جگہ پر مجھے رکھ کر نہیں جاتا
جو کہتاہے ہرچیز ٹھکانے میں نہیں ہے
وہ ایک تھا وہ ایک ہے وہ ایک رہے گا
اس جیسا کوئی آئینہ خانے میں نہیں ہے
میں امانت ہوں اپنے پرکھوں کی
مجھ کو عجلت میں مت گنوا دینا
ہر کوئی گم ہوگیاہے اپنے اپنے کام میں
اب نہیں کرتا عیادت کوئی بھی بیمار کی
شاید اس کو پسند آجاؤں
خود کو ماڈل بنا چکی ہوں میں
تم جہنم کی بات کرتے ہو
تم کو جنت سے بھی ڈرا دیتے
اس شعر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ؎
مسیحا پر ستم اللہ اکبر
ہے کیسی خبر ِ غم اللہ اکبر
یہ مصرع بھی دیکھ لیں ۔ ع۔
توپڑگئے لفظ کم اللہ اکبر
رُل کا قافیہ مِل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ؎
ہر ظلم نے مٹنا ہے مجھے پور ایقیں ہے
ہر سچ نے ابھرنا ہے مجھے پورایقیں ہے
مٹنا کا قافیہ ابھرنا ہم نے کہیں بندھا ہوانہیں دیکھا۔شترگربہ سے متعلق یہ شعر ؎
تمہاری نظم ہے حسیں غزل بھی بے مثال ہے
یہ شعر تیرا ہوگیا میراخیال مسترد
مذکورہ شعرمیں ’تمہاری‘ کی جگہ ’یہ تیری ‘آجائے تو شتر گربہ کاعیب دور ہوجائے۔ کیوں کہ مصرع ِ ثانی میں تیرا باندھا گیاہے۔
اپنے غم میں شمار کرتی ہوں
جب کوئی کاروبار کرتی ہوں
شمار کا قافیہ ’’کاروبار‘‘ نہیں ہوسکتا۔
مصرع ہے ۔ ع۔ وہ تیرے عشق میں کملا گیاہے (صفحہ 94) کملا کی جگہ ’’کمہلا ‘‘ ہونا چاہیے۔ کئی اشعار کے مصرع اولی میں تو اور مصرع ثانی میں میں کی جگہ ہم آیاہے اس طرح شترگربہ کی بیشتر مثالیں ملتی ہیں مثلاً یہ شعر دیکھیں ؎
تو نے رستے میں ہم کوچھوڑ دیا
ورنہ تم کوکوئی صلہ دیتے
مصرع اولیٰ میں ’ تو نے ‘جب کہاتو مصرع ثانی یوں ہوتا ۔ ع۔
ورنہ تجھ کو کوئی صلہ دیتے
سینئر کو سینیر لکھاگیاہے۔ جذبہ کو ذال کے بجائے زسے لکھنے کی تُک سمجھ میں نہیں آئی۔ ان چند تسامحات پر دوسرے ایڈیشن کی اشاعت سے قبل نظرڈال لینی چاہیے۔ محترمہ مُنال نے حمد میں کرتی کاقافیہ نکلتی اور سکتی کا قافیہ بھرتی استعمال کیاہے۔ پر کی جگہ پہ باندھا ہے ، اس سے احتراز ضروری ہے۔ چٹھی کو چھٹی (تعطیل) لکھاگیاہے۔ یعنی پروف ریڈنگ میں جلدی کی گئی ہے یاپروف ریڈنگ کا کوئی نظم نہیں تھا۔ جب پورا مجموعہ چند لوگوں سے چھپا کرخفیہ طریقے سے شائع کرنا ہوتو ایسا تسامح ہوجاتا ہے۔ لفظ ’’دھمال‘‘ کومذکر باندھنا اچھارہے گا۔ ’نہ‘ کو ’نا‘ کے وزن پرباندھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ آخر میں یہی کہناہے کہ مُنال ایک سیدھی سادی خاتون کی طرح فیض اور فرازؔ کی شاعری کی دلدادہ ہیں۔ اس تعلق سے بھی انھوں نے شعر کہاہے ؎
تو فرازؔ وفیض ؔ کی ہے چاہنے والی مُنال
شاعری ہوتی نہیں پر تجھ سے اس معیار کی
میرے خیال میں ثمینہ رحمت مُنال کے لئے ابھی وقت ہے اور بے حدوقت ہے۔ اللہ اگر نواز دے تو عین ممکن ہے کہ وہ پروین شاکر اور فرازؔسے آگے جاسکتی ہیں۔ مگر اس کے لئے شعروں کے انتخاب میں احتیاط کرنی پڑے گی ۔ہر کہے گئے شعر کو اگر مجموعہ میں جگہ مل جائے توپھر طرز بیدل بن نہیں پاتا۔ شعری مجموعہ ’’محبت جاودانی ہے‘‘ اوراس کی شاعرہ ثمینہ رحمت مُنال کی زندگی میں دخیل مخدوم امجد شاہ ، افتخار حیدر، ثبین سیف اور زیب النساء زیبی صاحبان کاانھوں نے شکریہ اداکیاہے۔ ہم بھی محترمہ مُنال کے شکرگزار ہیں کہ وہ ادب سے وابستہ ہیں ، زمانے کے سردوگرم کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے قلم کو زندہ رکھاہے۔ اپنے جذبوں کوغلط راہوں پرجانے نہیں دیا۔ زندگی جذبے ہی کانام ہے ۔ جذبوں کی تہذیب ہوجائے تو زندگی سنور جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو۔ آمین۔ ان شاء اللہ پھرایک بار ادب کے اسٹیج پر کہیں نہ کہیں ملیں گے ۔تمثیل پبلی کیشنز فیصل آباد اور کراچی سے اس مجموعہ کو حاصل کیاجاسکتاہے۔254صفحات والی اس کتاب کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپیہ رکھی گئی ہے۔ ٭٭٭
