نماز جمعہ کے بعد مسجد میں منعقد ہوئی تقریب نکاح، ماسٹر سراج آحمد صاحب کے صاحب زادے محمد رضوان ندوی نے پیش کی علاقہ کے لوگوں کے لئے ایک بہترین مثال
سمریاواں ،سنت کبیر نگر (محمد رضوان ندوی): سنت کبیر نگر کے مردم خیز گاؤں مونڈا ڈیہا خرد میں ماسٹر سراج احمد کے لڑکے مولانا محمد رضوان ندوی کا نکاح بڑی سادگی کے ساتھ ہوا جس کا پورے علاقے میں اچھا اور مثبت پیغام گیا، شادی کی تقریب مسجد میں منعقد ہوئی، نماز کے بعد مسجد کے مصلیان کے درمیان اعلان ہوا کہ نماز کے بعد ایک عالم دین کا نکاح ہوگا اور بس بغیر کسی رسم و رواج اور خرافات و روایات کے سادگی کے ساتھ ایجاب و قبول ہوا اور دو اجنبی دل ایک دوسرے سے جڑ گئے بلکہ دو خاندان آپس میں ایک دوسرے کے قریب آگئے. سادگی سے انجام پائے اس نکاح کا پورے علاقے میں تذکرہ رہا اور لوگوں نے اسے ایک بہترین پہل قرار دیا.
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فعال اور ممتاز استاذ فقہ و ادب مفتی رحمت اللہ ندوی نے اس موقع پر لوگوں کو اہم خطاب کیا اور زور دے کر کہا کہ اسراف اور لغو اسلام کو پسند نہیں ہے، فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے،

نکاح کے بعد دولہا اور اس کے والد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مفتی رحمت اللہ ندوی (درمیان میں)
نکاح کو جاں کاہ نہ بنائیں، سادگی اور اعتدال سے اصلی مقصد حاصل کریں، نکاح میں کتنی برکت ہوگی؟ اسلام نے اس کا پیمانہ بھی مقرر کر دیا، جتنا کم خرچ اتنی ہی برکت، بڑی عجیب بات ہے کہ کم محنت میں زیادہ فائدہ کی گارنٹی ہے، وہ شخص کتنا کم عقل ہے جو زیادہ محنت اس امید میں صرف کرے کہ فائدہ کم لینا ہے، اپنی جان جوکھم میں ڈالے کہ چند گھنٹوں کی چمک دمک کے بعد سلسلہ وار تاریکی ملنے والی ہے، نکاح ایک اہم ذمہ داری کا نام ہے، نکاح کا اصلی مقصد یہی ہے کہ انسان کی نسل فروغ پائے، معاشرتی برائیوں پر لگام لگے، بے حیائی اور حیاء سوزی سے بچنا آسان ہو جائے، نسب اور نسبت خلط ملط نہ ہو، پاس و لحاظ پیدا ہو جائے اور انسان جن چیزوں سے احتیاط کی ضرورت ہے اس میں احتیاط کرنے لگے، جو چیزیں نقصان دہ ہیں ان سے پرہیز کرنے لگے، راہ اعتدال اختیار کرے اور خواہشات کے پیچھے بے لگام نہ ہو جائے، اس کی بات میں راستی اور درستگی آجائے اور وہ یکسو ہو کر اپنے خالق و مالک کے سامنے جبین نیاز خم کردے، مولانا نے صاف صاف کہا کہ نکاح کو شہرت اور بالا دستی ثابت کرنے کا اکھاڑہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس اہم نظام سے محبت اور اتحاد کا پیغام عام کیا جائے. اخلاق اور اعتدال انسان کا قیمتی سرمایہ ہے، اس کی حتی المقدور حفاظت کی جائے.
اس موقع پر گاؤں اور علاقہ کے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے.
