(پارٹی وفد لوگوں سے ملاقات کرتے ہوئے)
پیس پارٹی نے گستاخ یتی نرسنگھا نند کے خلاف این ایس اے لگانے کا کیا مطالبہ
مہنداول ،سنت کبیرنگر: پیس پارٹی نے مہنداول اسمبلی حلقہ کے تحت حلقہ کے درجنوں مواضعات اور مقامات کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت پیس پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری افروز بادل کے کر رہے تھے۔ انھوں نے مہنداول خاتون اسمبلی اسپیکر، نگر صدر بکھرا، مہنداول نگر پنجایت صدر ،تنہواں چوراہا پر بلاک صدر مہنداول کے ذریعہ عام لوگوں سے ملاقات کی اور بوتھ سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانے کا حلف لیا۔
اس موقع پر پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری افروز بادل نے کہا کہ ایمان اور اسلام کے معنی امن و سلامتی کے ہیں، اسی لیے دینِ اسلام کی تمام تر تعلیمات انسانیت کے احترام کا درس دیتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں تمام مذاہب و ادیان کے ساتھ رواداری اور اُن کے مقدسات کے احترام کا درس موجود ہے۔
پارٹی کے قد آور لیڈر یاسر نظام نے کہا کہ آسمانی مذاہب ہوں یا انسانوں کے افکار و اوہام پر مشتمل ادیان، سب ہی سے متعلق اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ ان کے معبودوں اور پیشوائوں کو گالی مت دو۔ پیغمبرِ اسلام رحمۃٌ للعالمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غیر مسلم بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط لکھوائے تو ان کے مقام و مرتبے کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں مخاطب کیا۔ اس لئے کسی بھی مذہب ، پیغمبر یا دیوی دیوتا کی توہین کرنے والوں کے خلاف این ایس اے لگائا جائے، تبھی گستاخی کا سلسلہ بند ہوسکتا ہے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ نوجوان صبر سے کام لیتے ہوئے اپنی قیادت کو مضبوط کریں، جس سے مسلمانوں کے خلاف کوئی زہر افشانی کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔
مہنداول نگر پنچایت صدر مہدی حسن نے کہا کہ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کے احترام کا درس دیا ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی مذموم کوشش ناقابلِ برداشت ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر کیچڑ اُچھالنا دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس دوران سابق خاتون ضلع صدر مینو سنگھ، مہنداول خواتین صدر شکنتلا نشاد، سابق ضلع نائب صدر انجینئر عامر، سعید الرحمن، محمد عظیم وغیرہ خاص طور پر موجود رہے۔
