مجموعۂ کلام انس انیس اور عکس طلب کی پر وقار اجراء تقریب میں اردو دوستوں اور شعراء کرام کو اعزاز!
سہارنپور(احمد رضا): نیلم یو نیورسٹی ہریانہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد شمیم نے اردو زبان کو دلوں پر راج کرنے والی شیریں زبان قرار دیتے ہوئے مجموعہ کلام کے خالق رونق شیر کوٹی ، عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی ، سردار دلجیت سنگھ کو چر ایڈوکیٹ عمران عظیم کی ادبی خدمات قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں شاعری کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے والے سبھی افراد میرے لئے باعث فخر شخصیات ہیں میں دل سے سبھی کی اعلیٰ ترین خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سبھی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس تقریب میں شریک ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔
اس تقریب کی رونق کو دوبالا کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ اگر آپ کو لگن ہے اور آپ کسی بھی میدان میں کچھہ کرنا گزرنا چاہتے ہیں تو پھر سو چنا کیسا اٹھائیں قلم لکھتے اور پڑھتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں قائم کر دیں ایک سنہری تاریخ اپنی سخت ترین وکالت پیشہ کی مصروف ترین زندگی میں لکھنے اور پڑھنے کا جو جنون میں نے سید رونق علی شیر کوٹی میں دیکھا اسکی مثال بہت کم ہی ملتی ہے اردو زبان کے جان بازوں کی تعریف کرتے ہوئے ماجد دیوبندی نے کہا کہ آج اردو زبان کے لئے خد مات انجام دینا بڑے حوصلہ کا عمل ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے دو روز قبل مقامی پنجاب ہوٹل کے خوبصورت دربار ہال میں پر کشش ادبی محفل اردو دوستوں کے نام منصوب ‘دارالا دب لٹريرى سوسائٹی” کی جانب سے منعقد کی گئں پر وقار تقریب میں بولتے ہوئے زور دیکر فرمایا کہ اس قدر مصروفیت کے باوجود اتنا اونچا کلام مرتب دینا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے میں تہہ دل سے بار بار سید رونق علی کی خد مات کا اعتراف کرنے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔ عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی عالمی شہرت یافتہ علمی شخصیت وائس چانسلر ڈاکٹر محمد شمیم اور نامی گرامی شخصیت دہلی کے سینئر ایڈوکیٹ عمران عظیم نے مشترکہ طور پر معروف اسکالر اور ایڈوکیٹ و سنجیدہ شاعر سید رونق علی شیر کوٹی کے دو معروف مجموعہ کلام انس انیس اور عکس طلب کی اجراء تقریب میں اپنے اپنے تاثرات پیشِ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر صورت سید رونق علی شیر کوٹی کے مجموعہ کلام قابل احترام اور لائق تحسین ہیں بڑی مصروفیت کے باوجود اتنا اونچا کلام مرتب دینا بڑے حوصلہ کی بات ہے د ہلی، لکھنؤ، اتراکھنڈ اور ہر یانہ سے یہاں تشریف لائے کافی تعداد میں ادب دوستوں کی شرکت بھی اس اردو ادب کی پر وقار تقریب میں ہم سبھی کے لئے باعث فخر رہی ضلع کے تمام شعراء حضراتِ کی یہاں موجودگی تقریب کے معیار کو تسلیم کرانے کے لئے بہت کافی ہے۔
دار الادب کے سپرستوں انیس قریشی ایڈوکیٹ سید رونق على ايدوكيٹ اور احمد رضا چئیر مین یونائیٹیڈ پریس کلب اتر پردیش نے اجراء تقریب میں نامور شخصیات میڈم قدسیہ انجم، ریاض احمد، ہارون صابر فریدی، فیّاض ندیم، خرم سلطان، سکندر حیات کیلاش پوری، عابد حسین وفا، ڈاکٹر نوشاد، افضال امیر، ایڈوکیٹ چودھری رندھیر سنگھ، ایڈوکیٹ منور خان، ایڈوکیٹ سریش چند سہگل، ایڈوکیٹ راؤ منفیت علی راؤ نوید احمد ، راؤ نعیم خان اور سینئر ایڈوکیٹ یونس کوثر کو ان کی علمی، ادبی اور تحقیقی خد مات کے لئے اعزاز اور انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب میں ڈاکٹر ارم، ڈاکٹر نوازش، ایڈوکیٹ عظیم رضا، ایڈوکیٹ راحل رضا، ایڈوکیٹ طارق مرزا، ایڈوکیٹ سردار دلجیت سنگھ کوچر، فراز انیس، میڈم ریحانہ انیس اور سوسائٹی کی صدر محترمہ تسنیم تبسّم کی کاوشوں کو خوب سراہا گیا اور سبھی کو میڈل پیش کئے گئے۔
