مدرسہ عربیہ کاشف العلوم مریاسی ٹولہ نان پارہ، بہرائچ یوپی میں ۳۹؍ طلبہ کی دستار بندی
نان پارہ، بہرائچ(محمد رضوان ندوی): گزشتہ کل مدرسہ عربیہ کاشف العلوم میں جلسہ دستار بندی کا جلسہ مفتی نعمت اللہ قاسمی صدر المدرسین مدرسہ فرقانیہ گونڈہ کی صدارت میں منعقد ہواجس میںجلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مفتی عبد الرحمن قاسمی استاذ حدیث مدرسہ شاہی مرادآباد نے کہا کہ دنیا کی ساری ڈگریاں سانس ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں گی لیکن قرآن کی سند اور ڈگری قبر اور جنت میں بھی کام آئے گی، جنت میں حضرت داؤد علیہ السلام زبور پڑھیں گے تو کیف طاری ہو جائے گا، پھر سرور کائنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت فرمائیں تو لوگ لحن داؤدی بھول جائیں گے، آخر میں خود خالق کائنات اپنے قرآن کو خود پڑھ کر سنائیں گے، کیسا منظر ہوگا، قرآن سے وفا کریں، یہ کبھی دھوکہ نہیں دے گا،اہل دنیا پیسے کماتے ہیں، پیسے کی زیادتی مدار کامیابی نہیں ہے، ایک ڈاکٹر بہت پیسے کماتا ہے لیکن صبح اٹھ کر پیشاب پاخانہ چیک کرتا ہے، پھوڑا پھنسی اور زخم صاف کرتا ہے، ڈاکٹر وہ جسم کا علاج کر سکتا ہے لیکن حافظ قرآن اور عالم قرآن روح کا علاج کرتا ہے، قرآن سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور قرآن سیکھنے سکھانے والے سب سے بڑے سرمایہ دار ہیں۔
آج مائیں گود میں بٹھا کر بچے کو گانا سناتی ہیں، کاش قرآن سناتیں،قرآن کو اپنی پوری زندگی میں جاری کرنے کی ضرورت ہے۔
مفتی محمد عفان منصور پوری شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امروہہ نے حفاظ کرام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ حفاظ کا رتبہ جس قدر بلند ہے، ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے، اس کے علاوہ مدرسہ نور العلوم بہرائچ کے مہتمم قاری زبیر احمد قاسمی، مفتی حارث عبد الرحیم قاسمی نے بھی طلبہ و عوام کو خطاب کیا۔
اس جلسہ میں نظامت کے فرائض مولانا محمد اقبال ثاقبی نے انجام دیا اور حمد، نعت اور نظم عمر بارہ بنکوی اور طارق جمیل قنوجی نے پیش کی، اس موقع پر علماء کرام کے ہاتھوں۳۹؍ طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔
اس موقع پر مولانا محمد افضل ندوی، قاری غیاث الدین، محمد رضوان گوہر ندوی، قاری محمد اسامہ نوری، مولانا شفیق الرحمان ندوی، مولانا عقیل اختر قاسمی، مولانا شعیب جامعی، قاری عباد الرحمن لکھیم پوری، مولانا محمد احمد انصار قاسمی، ماسٹر کلیم الدین انصاری وغیرہ خاص طور پر موجود تھے، بانی ادارہ مولانا عبد القیوم قاسمی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، جلسہ کا اختتام دعائیہ کلمات پر ہوا۔
