تربیتی اجتماع منعقدہ تعلیم نورخان بیدر سے اقبال الدین انجینئرکا خطاب

بیدر۔ 7؍نومبر (پریس نوٹ): اچھاشہری وہ ہے جو انسانوں کے ساتھ انسانیت کاسلوک کرتاہے ۔ حسدیہ ہے کہ اگر کسی کو کوئی نعمت حاصل ہوتو وہ آدمی کو بری لگے ،صرف بری نہ لگے بلکہ وہ یہ چاہے کہ یہ اس سے چھن جائے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ تعلقات بگڑنے کی وجہہ دوسروں کواپنے سے کمتر سمجھنا ہے، حسداور دشمنی کی وجہ سے تعلقات بگڑتے ہیں۔ غیبت جیسابڑا جرم بھی حسد کی وجہ سے پیدا ہوتاہے۔ حسد کاایک سبب دنیا کی محبت بھی ہے۔ حسد دراصل اللہ سے ناراضی کا اظہار بھی ہے۔ کیوں کہ کسی کے دل میں حسداور ایمان دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ دشمنی اورکینہ حسدکانتیجہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’’حسد سے بچو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتاہے، جس طرح آگ خشک لکڑیوں کوچٹ کرجاتی ہے ‘‘ ان خیالات کا اظہار اقبال الدین انجینئر نے تربیتی اجتماع منعقدہ مسجد تعلیم نورخاں بیدر سے کیا۔ اور آگے بتایاکہ آنحضرت ﷺ کی پوری زندگی ایثار وقربانی سے عبارت تھی۔ رحمت ِ عالم ﷺ پوری انسانیت کے لئے ہمہ وقت بے قرار رہتے تھے۔ جس کااظہا رقرآن میں سورہ ء کہف آیت چار میں اللہ نے اس طرح کیاہے ’’اچھا، تو اے نبی ﷺ ! شاید آپ ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہیں، اگر یہ میری بھیجی ہوئی تعلیمات پر ایمان نہ لائیں‘‘ ہمیں معلوم ہوناچاہیے کہ عبادت اللہ کی ہوا اطاعت کے معاملے میں اللہ اور اس کے رسول دونوں شامل ہیں۔ تب ہی ہم دنیاوآخرت میں سرخروہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ آپ ﷺ کی عملی زندگی ہوبہو قرآن تھی۔ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ تربیت سے صالح انسان تیار ہوتے ہیں۔ آنحضرت نے صحابہ ؓ کو صرف اتنا کہہ دینے پر بس نہیں کیاکہ ’’لوگو! اللہ تمہیں یہ حکم دیتاہے ‘‘ بلکہ آپ نے تمام صحابہ ؓ کی تربیت پرلمبی مدت تک بھرپور کوشش کی۔ اور آپ ﷺ کی تربیت کانتیجہ تھاکہ صحابہ ؓ لوگوں کے سامنے عملی ترجمان بن گئے اور اللہ نے قرآن میں صحابہ ؓ کے بارے میں کہاکہ ان سے اللہ راضی ہوگیا۔

اقبال الدین انجینئر نے اپنے اختتامی خطاب میں تربیت کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایاکہ سرسید احمد خان کسی تعارف کے محتاج نہیں جو علی گڈھ یونیورسٹی کے بانی ہیں۔ سرسید کے کارناموں کا اظہار سورج کو چراغ دِکھانے کے مترادف ہے۔ سرسید نے اپنے جو بھی کارنامے کئے کہتے تھے کہ’’ یہ میری ماں کی تربیت کانتیجہ ہے‘‘ ان کی ماں محترمہ عزیزالنساء کی ایک نصیحت انہیں ہمیشہ یاد رہتی کہ ’’کسی نے اگر ایک دفعہ تمہارے ساتھ نیکی کی ہو اور پھر وہ برائی کرے توتم کوناراض نہیں ہوناچاہیے۔ کیوں کہ سب سے پہلے ایک( یاکئی بار) نیکی کرنے والا بعد میں کیسی ہی برائی کرے ، اس کی نیکی کے احسان کوبھلایا نہیں جاسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے