بیدر۔ 8؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): بیدر شہر کے قدیم فصیل بند علاقے میں جگہ جگہ خالی دوکان اور خالی مکان نظر آرہے ہیں۔ جدھر جائیں TO LET والی تختیاں مع موبائل نمبر آویزاں نظر آرہی ہیں ۔ خصوصاً نئی کمان تاچو بارہ کے درمیان کئی ایک نئی دوکانیں تعمیر ہورہی ہیں، اسی طرح وہاں کی دوکانوں پر TOLET بھی تحریر نظر آرہاہے۔ لال دروازے کے سامنے، درزی گلی کے ختم پرکلثوم گلی سے پہلے ، اسی طرح گولہ خانہ کے موڑ پر تین مختلف دوکانوں پر ٹولٹ کابورڈ آویزاں ہے۔ درگاہ پورہ ، قدوائی روڈ اور دیگر سڑکوں پر بھی دوکانات خالی ہیں۔ کچھ دن پہلے ہمارے ایک کرم فرما راج شیکھرپاٹل اشٹور نے ہم سے کہاتھاکہ نئے شہر میں بہت سے مکانات اس لئے خالی ہوچکے ہیں، کہ کرایہ داروں نے شہر کے مضافات میں اپنے اپنے ذاتی مکانات تعمیر کئے ہیں، وہ وہاں شفٹ ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے 30%سے زائد مکانات نئے شہر میں خالی ہوچکے ہیں۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بیدر میں تعلیمی اداروں کاایک جال بچھاہواہے ۔ اس کے باوجود مکانوں اور دوکانوں کاخالی رہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ دوکانوں کے کرایہ بڑھائے جارہے ہیں ، اس لئے کرایہ دار دوکان چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ مکانوں کابھی یہی حال ہے ۔ ایسے میں ضروری ہوجاتاہے کہ دوکانوں اور مکانات کے کرایوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں کم کیاجائے تاکہ کرایہ دار کوکرایہ دیتے ہوئے تکلیف نہ ہو۔ مگریہ بھی مکان داراور دوکاندار کی اپنی صوابدیدپر ہے۔ بہرحال بڑھتے کرائے کاشکویٰ ہرکوئی کررہاہے۔
