ڈاکٹر ثناء اللہ شریف اور مولانا وحید الدین خان کا جامع الطیبات بنگلور کی طالبات سے خطاب
بنگلور۔ 9؍نومبر (راست): اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ یہ مجاہد آزادی بھی ہے۔ حصولِ آزادی میں اردوزبان کے شعراء وادباء نے جو رول اداکیاہے ، وہ ہرلحاظ سے قابل قدر اور قابل تحسین ہے۔ یہ ایک بھلی ، میٹھی ،پیاری ، شیریں اور دلآوزیر زبان ہے جس میں ملک عزیز کی گنگاجمنی تہذیب اور ثقافت پنہاں ہے۔ یہ زبان مختلف تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی ، الفت ومحبت عام کرنے کاایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ ان خیالات کااظہار ڈاکٹر محمد ثنااللہ شریف بنگلورنے 9؍نومبر کو جامع الطیبات بنگلور میں منعقدہ ’’یومِ اردو ‘‘ کے موقع پر کیا۔ آپ نے آگے کہاکہ آج اردو کے دانشور اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے یومِ پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتاہوں کیوں کہ اقبال ایک فلسفی اور پیامی شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنے پیغام کے ذریعہ ملت ِ اسلامیہ کے درد کی دوا کی۔ وہ ملت کونکبت سے نکال کر بلندی پر پہنچانا چاہتے تھے۔ ترانہ ء ہندی کے اشعار آج بھی ہمارے خون کی گردش میں اضافہ کرتے ہیں۔ وطن کے لئے اقبال کے دل کی تڑ پ اور درد دیکھناہوتو ’’تصویر درد‘‘کامطالعہ کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر ثناء اللہ شریف نے طالبات میں تخلیقی صلاحیتوں کوابھارنے اور لکھنے لکھانے کی ترغیب دی تاکہ وہ مستقبل میں قلمکار بنیں ۔ ارد ولکھیں، لکھائیں، پڑھیں ،پڑھائیں ، سیکھیں اور سکھائیں ، اخبار خرید کر پڑھیں۔جامع الطیبات کے مہتمم مولانا وحیدالدین خاں نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو کے دلآوزیر اشعار سناکر طالبات کو مادری زبان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے پر زور دیا۔ محترم نے ڈاکٹر ثنااللہ شریف سے کہاکہ چوں کہ آپ ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کرناٹک سے وابستہ ہیں ، ان اقدار پرمبنی مشاعرہ یاادبی محفل جامعہ میں منعقد کریں تاکہ طالبات میں بیداری پیدا ہو۔ کلمات تشکر کے ساتھ جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
