بیدر۔ 9؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): سابق مرکزی وزیر اورسابق رکن پارلیمان بیدر جناب بھگونت کھوبا نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ سدرامیا یہ کہہ کر انتخابی چال چل رہے ہیں کہ کسانوں کو نوٹس نہ دیا جائے، نوٹس واپس لے لیا جائے گا، کسانوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا جائے گا، اگر اس حکومت کو واقعی کسانوں کا خیال ہے، اگلے ہفتے، وقف بورڈ کے کالم نمبر 11 میں دکھائے جانے والے کسانوں کے نام تبدیل کیے جائیں۔ سابق مرکزی وزیر بھگونت کھوبا نے وزیر اعلی سدرامیا کو چیلنج کیا ہے۔ اور بتایاہیکہ ضمنی انتخابات میںہار کے خوف سے یہ سب کھیل کھیلاجارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ سدرامیا کی بدانتظامی اور فرقہ پرست گروہ کی حمایت کو دیکھ کر ریاست کے لوگ اس ضمنی انتخاب میں بی جے پی پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں اور 4؍ نومبر کو ہماری پارٹی کی طرف سے ہونے والے احتجاج کے خوف سے وہ گھبرا گئے اورنوٹس واپس لینے کے فیصلے کا ڈرامہ شروع کر دیا۔ریاست کی تمام ذاتوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ کانگریس صرف ایک فرقہ پرست پارٹی ہے جب تک وہ اقتدار میں ہے وہ صرف ایک فرقہ کا بھلا کرے گی اور باقی لوگوں کو اس فیصلے سے نقصان پہنچا ہے۔ اس کا خمیازہ انہیں ان ضمنی انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔
