رمضان المبارک میں ضرورت مندوں کا خیال رکھیں! قرآن مجید اور نبی کریم کے مخا لفین غلط فہمی کا شکار ظالموں کی پستی لازمی! الحاج سعید نوری
سہارنپور(احمد رضا): عالم دین امام و خطیب ظفرالدین رضوی نے حضور شاہ شہید راہ مدینہ رحمت اللہ علیہ کے مبارک موقعے پر بتایا ہے کہ
عالمی سطح کی درگاہ شریف پر گذشتہ روز شب 11 بجے سے لیکر سحر تک چلنے والی عرس کی تقریبات کا اہتمام نہایت ہی تذک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا ہزاروں مسلمانوں کے روحانی و مذہبی پیشوا انوارالمشائخ پیر طریقت رہبر راہ شریعت عابد شب زندہ دار شہزادہ مخدوم اشرف سمنانی حضرت پیر سید انوار اشرف اشرفی الجیلانی عرف مثنیٰ میاں(حضور شہید راہ مدینہ علیہ الرحمہ)اگرچہ بیس سال پہلے اپنے ارادت مندوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوچکے ہیں مگر آج بھی ان کی جلائی ہوئی شمع رشد و ہدایت اپنی نوری کرنوں سے مسلمانوں کے نہاخانوں کو منور کئے ہوئے ہے ان کا نورانی چہرہ اور دلکش قدوقامت اگرچہ عقیدتمندوں کی نگاہوں سے روپوش ہے مگر ان کا حسین و دلکش پیکر آج بھی زندہ و تابندہ ہے اسی عظیم المرتبت شخصیت کی مناسبت سے عرس شہید راہ مدینہ "کانفرنس "جانشین مخدوم سمنان شہزادۂ شہید راہ مدینہ پیر طریقت رہبر راہ شریعت عامل طریقت آبروئے سنیت قائد اہلسنت علمبردار مسلک اعلیٰ حضرت حضور معین المشائخ حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ مقدسہ صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء کی صدارت،عطائے مفتئ اعظم محافظ ناموس رسالت اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری بانی و سربراہ رضا اکیڈمی و نائب صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء کی قیادت” میں ملک کے بیشتر علاقوں خاص کر اتر پردیش بہار،مدھیہ پردیش،کولکتہ،جھارکھنڈ،گجرات ،اڑیسہ،مہاراشٹر بھر سے آئے ہوئے علمائے اہلسنت و دانشوران قوم و ملت نے معمار قوم و ملت بانی مدارس کثیرہ شہزادۂ غوث اعظم پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضرت علامہ الحاج الشاہ سید انوار اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ مقدسہ مدفون جنت البقیع مدینہ منورہ المعروف بہ حضور شہید راہ مدینہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات و خدمات پر اپنے اپنے تاثرات و خیالات کا اظہار کیا واضح رہے کہ اس عرس مبارک میں فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے ظلم وزیادتی اور قبلہ اول کی بازیابی کے ساتھ صلاحیت سازی،معاشرے میں پنپنے والی خرافات،مسلمانوں پر آئے دن ظلم و تشدد،عبادت گاہوں کا تحفظ مدارس و مساجد کے تقدس اور شرپسند عناصر کی شرارت، تحفظ ناموس رسالت،ختم نبوت جیسے اہم موضوعات پر ذمے دار علمائے کرام نے خصوصی طور پر بیان کیا اور کہا کہ شہید راہ مدینہ کے عرس اس اہم موقع پر ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایک صالح سماج و معاشرے کے لئے اچھے افراد کو سامنے لائیں بلکہ یوں کہا جائے کہ ہر مسلمان کا یہ بنیادی حق ہے۔مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اسلاف اور اولیاء کرام کے زندہ نقوش کے ذریعے اپنے سماج کو خالص مذہبی بنائیں۔اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے نقیب اہلسنت مولانا عبدالرحیم اشرفی نے قرآن مجید کی تلاوت کے لئے قاری نظام اشرفی کو آواز دی انہوں نے اپنی مترنم آواز سے تلاوت قرآن کی اس کے بعد نعت و منقبت کا حسین دور چلا کئی ذمے دار علمائے کرام نے اپنا خصوصی بیان پیش کیا اسٹیج پر محافظ ناموس رسالت اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری کی پیشانی سے فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس پر اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کے مذمتی آثار نمودار تھے انہوں نے ناظم اجلاس سے راقم الحروف کو مائک پر مدعو کرنے کو کہا کہ وہ آئیں اور رضااکیڈمی کے بینر تلے عرس شہید راہ مدینہ سے پوری دنیا کو بتائیں کہ اسرائیلی فوجی بیت المقدس میں نماز فجر ادا کرنے والے فلسطینی مسلمان نمازیوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کی پرزور مذمت کریں بالآخر راقم الحروف نے اپنی جگہ پر بزرگ عالم دین مولانا محمد عباس رضوی مبلغ تحریک درود و سلام کو پیش کرنے کی بات کی انہوں نے فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس کے تحفظ کے لئے او آئی سی اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کے خلاف آواز بلند کی جس پر موجود علمائے کرام اور عوام نے ان کی بھرپور تائید و حمایت کی۔سینکڑوں کی تعداد میں علمائے اہلسنت کے درمیان اکابر علماء نے کہا کہ آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء ہماری بہت پرانی تنظیم ہے۔اس کے موجودہ صدر حضرت سید معین میاں صاحب ہیں جو دین و سنیت کا کام بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں ظاہر سی بات ہے کہ اس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے رکھی ہے انھیں بزرگوں کی کدو کاوش اور محنت شاقہ سے یہ تنظیم دن بدن ترقی کی راہ پر گامزن رہی ہے لیکن کچھ دنوں سے یہ حاشیہ پر آگئی تھی مگر آج حضور معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف صاحب کی صدارت میں یہ بڑی تیزی سے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر پوری آب وتاب کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ہندوستان کے اکثر صوبوں سے آئے ہوئے علماء کی کثیر تعداد اس بات کی عکاسی کررہی تھی کہ حضور معین میاں کی قیادت پر اہلسنت والجماعت کو ناز ہے اس کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے مفتی منظر حسن اشرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عرس شہید راہ مدینہ کے موقع پر اتنے کثیر تعداد میں علماء و ائمۂ مساجد کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت انوار اشرف عرف مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ عوام و خواص سب کی نظر میں یکساں مقبول تھے۔حضور مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ علمائے اہلسنت والجماعت ہماری جماعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی عزت و احترام سارے مسلمانوں پر لازم ہےمفتی صاحب نے کہا کہ علمائے کرام مسجدوں کے محراب و منبر سے قوم مسلم کی اصلاح پر زور دیں بزرگوں کے کارناموں سے انہیں آگاہ کریں اپنے منصب کا خاص خیال رکھتے ہوئے خلوص و للہیت کیساتھ نوجوان نسل کو منشیات سے دور رکھنے کی ترغیب دیں آج ہمارے سماج میں برائیاں بڑی تیزی سے بڑھتی ہی جا رہی ہیں اس کے تدارک کے لئے ہمیں میدان عمل میں آنے کی سخت ضرورت ہے۔مفتی صاحب نے علماء و دانشورانِ کی کثیر تعداد کی موجودگی میں کہا کہ ہماری مساجد کے ائمہ اور مدارس کے اساتذہ لائق تحسین و ستائش ہیں کہ جن کی خدمات حسنہ سے آج پوری دنیا مستفیض ہورہی ہے میں ممبئی کے ائمۂ مساجد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو اپنے فرائض کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
راقم الحروف نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے حضور معین میاں اور الحاج محمد سعید نوری کے ساتھ حضور شہید راہ مدینہ کے جملہ صاحبزادگان حضرت سید علی اشرف عرف بھائی صاحب،شہزادہ شہید راہ مدینہ حضرت سید حسن اشرف اشرف الصوفیاء حضرت سید حسین اشرف اشرفی الجیلانی سمیت خاندان اشرفیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جن کی موجودگی سے عرس پاک کی تقریبات نئی روشنی میسر ہوئی ہے درحقیقت سنی بلال مسجد چھوٹا سوناپور ممبئی کا وسیع وعریض صحن سادات کرام علماء و مشائخ و دانشوران اور عاشقان شہید راہ مدینہ سے کھچاکھچک بھرا ہوا تھا مدرسہ جامعہ قادریہ اشرفیہ کے جملہ اساتذہ و طلباء اور سنی بلال مسجد کا پورا عملہ زائرین کی آمد و رفت پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ان کا استقبال کرنے میں دل و جان سے آخیر وقت تک اپنی اپنی ذمے داریوں کو بخوبی انجام دینے میں لگا رہا ان کے حسن اخلاق کو دیکھ کر اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں آپ سب کی محنتوں اور محبتوں کے ذریعہ آج کی یہ عظیم الشان کانفرنس بنام عرس شہید راہ مدینہ اپنی تمام تر کامیابیوں کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔یاد رہے کہ ملک کے گوشے گوشے سے کثیر تعداد میں علماء و مشائخ کی تشریف آوری ہوئی ان کی موجودگی میں مجھے یہ بات کہنے میں خوشی ہورہی ہے کہ آج پورے ہندوستان کا دل و دماغ سنی بلال مسجد ممبئی میں موجود ہے۔
الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور یوپی سے تشریف لائے لائق و فائق استاذ حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالحق مصباحی نے کہا کہ حضور حضور مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ کی دینی مذہبی تعلیمی رفاہی فلاحی کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو اس مختصر سے وقت میں بیان کرنا سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ حضور معین المشائخ حضرت معین میاں اور الحاج محمد سعید نوری کی قیادت پر ہندوستانی مسلمانوں کو پورا اعتماد ہے۔ان کی قیادت میں اہلسنت والجماعت اپنی تمام تر رعنائیوں اور جلوہ سامانیوں کے ساتھ اپنی منزل کیطرف آگے بڑھ رہی ہے۔مشہور اسلامی اسکالر نازش بزم سخن ماہر قلم و قرطاس سیاح ایشیاء و یورپ حضرت مولانا مختارالحسن بغدادی چرہ محمد پور نے کہا کہ حضور مثنیٰ میاں کی پوری زندگی قوم و ملت کے فلاح و بہبود میں گزری انہوں نے ممبئی کے مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان بھر میں دین و سنیت کی بقاء کی خاطر مدارس کا قیام فرمایا اس کی جیتی جاگتی مثال جامعہ قادریہ ممبئی آپ کی نگاہوں کے سامنے موجود ہے اس کے علاوہ مہاراشٹر کے دیگر اضلاع میں ان کے دست مبارک سے آباد کئے ہوئے مدارس کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ بغدادی صاحب نے حضور معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت معین میاں کی قیادت ہندوستانی مسلمانوں کے لئے باعث فخر ہے انہوں نے کہا کہ فروری کے مہینے میں حضرت معین میاں اور الحاج محمد سعید نوری نے جس طریقے سے سواد اعظم اہلسنت والجماعت کی ترکی و سیریا میں زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کرکے نمائندگی کی ہے وہ سنہرے حرفوں سے لکھنے کے لائق ہے میں جملہ علمائے اہلسنت کی طرف سے ان دونوں حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی عمرخضری کے لئے دعائیں کرتا ہوں آخر میں آستانہ مخدوم اشرف کچھوچھہ مقدسہ کے صاحب سجادہ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف نے خطبۂ صدارت پیش کیا انہوں نے اپنے خطبۂ صدارت میں ملک بھر سے آئے ہوئے سبھی زائرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تشریف آوری ہمارے والد بزرگوار کے عرس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔مولاناسید معین میاں صاحب نے اپنے خطبۂ صدارت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ ترکی و سیریا میں جو زلزلہ آیا اس سے وہاں کے لوگ کافی پریشان ہیں ان کی مدد کو عوام اہلسنت کیساتھ علمائے کرام کو عملی میدان کا انتخاب کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے انہوں نے مسلم معاشرے کی پستی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ آج مسلم سماج میں جو برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں خاص کر مسلم نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحانات نہایت خطرناک ہیں ہمیں اپنی قوم کے نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے نجات دلانا ہے اس کیلئے ہمیں ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے سید معین میاں نے مزید کہا کہ دشمنان اسلام ہمارے ناناجان پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں جو گستاخیاں کر رہے ہیں ان کو قانون کے حوالے کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ میں دشمنان اسلام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر اپنے نبی کی شان میں ذرہ برابر بھی کوئی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔تحفظ ناموس رسالت ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے میاں نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسجد اقصیٰ میں نماز فجر ادا کرتے ہوئے نہتے نمازیوں پر جس طریقے سے اسرائیلی فوجیوں نے ظلم و تشدد کرتے ہوئے ان نمازیوں پر گولیاں چلائیں وہ ناقابل برداشت ہے اس کیلئے ہمیں اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے مسلم ممالک کی بے حسی کے بارے میں کہا کہ ہمیں تو یہ محسوس ہورہا ہے کہ جیسے وہ یہودونصاری کے غلام بن گئے ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو اپنے فلسطینی مسلمان بھائیوں پر ہونے والے صہیونی فوجی بربریت کے خلاف ضرور اپنی آواز بلند کرتے۔میں سبھی مسلم ممالک کے سربراہان سے پرزور مطالبہ کرتاہوں کہ وہ اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کریں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مولانا سید معین میاں نے کہا کہ آپ ہماری آواز کو ایوان بالا تک پہنچانے میں مدد کریں تاکہ ہندوستان کی موجودہ حکومت اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسے آگاہ کرے کہ اگر اسرائیل مظلوم فلسطینیوں اور بیت المقدس پر ناجائز حملہ کرے گا تو ہم اس کا جواب اپنے انداز میں دینے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے معاشرے سےبھوک،افلاس،غربت،سماجی پستی کو ختم کرنے پر متحد و متحرک ہونے کی ضرورت ہے اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ائمۂ مساجد اور ادارے کے علمائے کرام سے میں گزارش کروں گا کہ وہ اپنے مساجد و مدارس سے ترکی و سیریا زلزلہ متاثرین کی بازیابی کے لئے دعاؤں کے ساتھ ان کو امداد فراہم کرنے میں ہماری مدد کریں تاکہ ہم وہاں جاکر آپ کے عطیات کو بحفاظت تمام پہونچا سکیں۔
محافظ ناموس رسالت اسیر مفتی اعظم الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ ہم نے ترکی و سیریا زلزلہ متاثرین کے درمیان جاکر دیکھا ہے کہ وہ کس حال میں ہیں ان کی پریشانیوں کو بیان کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے آپ بھی اگر ان کی بے بسی کو دیکھ لیں گے تو ایک لمحہ بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے ان کو امداد فراہم کرنے میں دل و جان سے لگ جائیں گے ہم اور حضور معین المشائخ دوبارہ اسی مہینے میں ترکیہ و سیریا کا دورہ کرنے جارہے ہیں وہاں جانے کا ہمارا مقصد صرف ان زلزلہ زدگان کو امداد فراہم کرناہےہم علمائے اہلسنت اور ائمۂ مساجد سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ سب ترکی و سیریا زلزلہ متاثرین کی امداد پر زور دیں تاکہ وہ رمضان المبارک کے مہینے میں سحری و افطار آسانی سے کرسکیں۔نوری صاحب نے دنیا بھر میں شرپسندوں کے ذریعہ ناموس رسالتﷺ پر ہونے والے حملے کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمنان اسلام ہوش میں آئیں ورنہ جس دن خدا کا قہر نازل ہوگا اس سے تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گانوری صاحب نے تحفظ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے تعلق سے کہا کہ ہم جس طریقے سے اقدامات اٹھارہے ہیں تمام علماء سے درخواست ہے کہ وہ اپنے خطبات میں اس موضوع پر خوب روشنی ڈالتے رہیں اخباری نمائندوں کو نوری صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد اپنے معاشرے کو خالص دینی معاشرہ بنانا ہے اس کیلئے ہم دن رات محنت کرنے کی طرف اپنے قدموں کو بڑھا رہے ہیں اگر مسلمان بھائیوں نے دل سے ہمارا ساتھ دیا تو آپ یقین جانیں کہ ہم اپنے معاشرے سے برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ضرور ہوں گے ایک بات اور بتاتا چلوں کہ دشمنان اسلام کے مکرو فریب سے ہمیں اپنی قوم کی بیٹیوں کو محفوظ رکھنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ وہ ارتداد کی راہ پر نہ جاسکیں۔
مبلغ تحریک درود و سلام مولانا محمد عباس رضوی نے کانفرنس کی کارروائی بڑھاتے ہوئے دوردراز سے آئے ہوئے علماء و دانشورانِ قوم و ملت کا شکریہ ادا کیا اور آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء، رضااکیڈمی کی کارکردگی پر مختصر روشنی ڈالی،کانفرنس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج ممبئی شہر میں آپ تمام اہل دانش کی موجودگی اس بات پر غمازی کررہی ہے کہ جماعت اہلسنت والجماعت کا باشعور طبقہ ہر معاملے میں کافی حساس ہے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مولانا عبدالرحیم اشرفی نے کانفرنس کی موجودہ و مستقبل کے حوالے سے تقریباً ہر پہلو پر روشنی ڈالی خصوصیت کے ساتھ دھلی سے عام آدمی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ جناب سنجئے سنگھ،مہاراشٹر کانگریس پارٹی کے صدر جناب نانا پٹولے، ممبئ کانگریس پارٹی کے صدر جناب بھائی جگتاب،جناب یوسف ابراھانی اور جناب سچن بھاؤ اہیرے،جناب امین پٹیل،لااینڈ آرڈر جناب ستیہ نارائن چودھری،جناب ملن دیورا،یشونت جادھو،راہل کنال،سراج قریشی،کرپا شنکر سنگھ،جناب اسلم شیخ،جناب شانو پٹھان،جناب حاجی عرفات،جناب سنجئے دینا پاٹل کے علاوہ اور بھی سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت ہوئی۔عرس میں آنے والے سبھی مہمانوں کے لئے سحری کا معقول انتظام رہا اس موقعے پر ملک کے نامور علماء کی شرکت نمایاں رہی!
