علامہ اقبال اور مولانا آزاد کی ادبی اور تحقیقی اور علمی خدمات لازوال حقیقت: ڈاکٹر قدسیہ انجم

سہارنپور (احمد رضا): لازوال حقیقت یہ ہی ہے کہ علامہ محمد اقبال اور مولانا ابوا لکلام آزاد کی ادبی علمی اور فکری خدمات کو کسی بھی صورت بھلا نہی سکتے دونوں رہنماؤ کی شخصیت ہر صورت قابل احترام اور لائق تحسین ہے سماجی تنظیم پرچم کے زریعے شاعر مشرق اور ترانہ ہند کے خالق علامہ اقبال کے یوم پیدائش اور ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم  مولانا ازاد کے یوم پیدائش پر مشترکہ طور پر اسکالر ہوم سکول میں ایک شاندار ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا علامہ اقبال کے حالات زندگی اور ان کی شاعری میں پوشیدہ پیغامات اور اردو کے حوالے سے ان کی عظیم خدمات کا ذکر کیا گیا اور ان کے پیغامات کو عام کرنے کا عہد کیا گیا۔

پروگرام کی صدارت  ڈاکٹر جمیل مانوی اور نظامت کے فرائض اسکول کی پرنسپل میڈم زرین نے انجام دئیے اس موقع پر بولتے ہوئے نصرت پروین نے کہا کہ شاعر مشرق محمد اقبال اردو کے عظیم شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو کی عظیم خدمات انجام دی خلیق احمد نے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر مسلمانوں کو بیدار کرنے کا کام کیا اقبال نے انسان کو زندہ رہنے غیرت اور حمیت کے ساتھ زندگی گزارنے اور ایمانی جذبوں کو برقرار رکھنے کا جو پیغام دیا وہی پیغام اج عام کرنے کی ضرورت ہے ڈاکٹر شاہد زبیری نے کہا کہ  اِقبال ایک مفکر اور فلسفی بھی ہیں جس نے اپنے فلسفے زندگی سے سوتے لوگوں کو بیدار اور بیدار لوگوں کو اگے بڑھنے اور چلنے کی تلقین کی انہوں نے ہمارے ملک کو  ہی بلکہ پوری قوم کو…….”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا” جیسا خوبصورت ترانہ دیا۔ اسے طرح مولانا ازاد  نے بھی متحدہ قومیت کا تصور دیا۔

ڈاکٹر قدسیہ انجم نے کہا کہ اردو کی بدحالی کے ہم خود ذمہ دار ہیں اردو کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس شیری زبان سے متعلق تسلسل  کے ساتھ پروگرام منعقد كئے جائیں اور طالبات سے کہا کہ وہ لازمی طور پر اپنے گھروں میں اردو کا اخبار منگائیں تاکہ گھر کے دوسرے لوگ بھی اردو سے واقف ہو سکیں حقیقت یہ ہے کہ سر سید کی طرح علامہ اقبال کی بھی ہر دور میں مانونیت باقی رہے گی علامہ اقبال اپنے دور کے دانشور تھے اقبال نے ایک مسلمان کی کردار سازی کے لیے مرد مومن کا جو تصور پیش کیا اس پر عمل پیرا ہو کر ایک مسلمان میں وہ سارے اوصاف پیدا ہو جائیں گے کہ وہ فقیری میں بھی شاہی کا ادراک کرنے لگے گا ! پروگرام کا دوسرا حصہ مولانا ازاد کے یوم پیدائش اور ان کی خدمات کو لے کر کیا گیا۔

اس موقع پر بولتے ہوئے  مہمانِ خصوصی صفیہ صبوحی افتخار نے کہا کہ مولانا کی مذہبی سیاسی سماجی اور اجتماعی فکر ایک نہایت روشن اور ازادانہ مظہر کی شکل میں رونما ہوئی مولانا ازاد صف اول کے مجاہدہ ازادی تھے وہ اعلی درجے کے مقرر نصر نگار صحافی جمہوریت پسند انقلابی اور ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار تھے۔ 1912 میں کلکتہ سے الحلال جاری کیا۔ ان کی نظر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ ملک ہے۔ صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر جميل معنوی نے کہا کہ ازاد  نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کا قیام کیا۔ موسیقی مصوری اور ادب کی ترقی کے لیے مولانا نے تین اکیڈمیاں قائم کی۔ مختلف قسم کی ثقافتی سرگرمیوں کے آرٹسٹوں کو فروغ دینے کے لیے انڈین کونسل آف کلچرل ریشن کی بنیاد ڈالی۔ اس ادارے کو انہوں نے 18 ہزار کتابیں بطور عطیہ دیں۔ بچوں کو لازمی طور پر اِقبال اور آزاد کو پڑھنا چاہیے۔ بچوں نے اقبال کا ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا اور لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، پیش کیا۔ پروگرام میں فرزانہ شیخ  یاسمین صدیقی بشریٰ شاہین اور بڑی تعداد میں بچّے اور اسٹاف موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے