قربانی، اخوت اور روحِ ایثار کا حسین منظر، عالمِ اسلام کے لیے خصوصی دعائیں
اسکابازار/سدھارتھ نگر (پریس ریلیز): سدھارتھ نگر کے گرام سبھا سمرہنا میں واقع امام پور، بھٹھیا بازار کی مرکزی عیدگاہ میں عیدالاضحیٰ کی نماز نہایت عقیدت، جوش و خروش اور پُرامن ماحول میں صبح سات بجے ادا کی گئی۔ عیدگاہ میں فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد موجود رہی، جہاں تکبیراتِ تشریق کی روح پرور صدائیں، جذبۂ ایمان اور باہمی اخوت کی حسین فضا نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔ اس موقع پر عالمِ اسلام، بالخصوص ہندوستان کے مسلمانوں کی سلامتی، خوشحالی، ترقی، اتحاد و اتفاق اور امن و سکون کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
نمازِ عید سے قبل علاقے کی معروف علمی و دینی شخصیت، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، جید عالمِ دین حضرت علامہ مفتی عبدالحکیم صاحب قبلہ نوری مصباحی نے نہایت ایمان افروز اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے عیدالاضحیٰ کی عظمت، حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی، جذبۂ اطاعت اور تسلیم و رضا پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے نفس، خواہشات اور گناہوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا عظیم پیغام دیتی ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ قربانی ایک عظیم عبادت اور سنتِ ابراہیمی ہے، جس کے ذریعے بندۂ مومن اپنے رب کے حضور اپنی محبت، وفاداری اور اطاعت کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ قربانی کے ایام میں صفائی، نظم و ضبط، اخوت، ہمدردی اور غریب و نادار افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے تاکہ عید کی حقیقی خوشیاں معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔ ساتھ ہی آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قربانی کے مبارک ایام میں شریعتِ اسلامی کی مکمل پاسداری اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
بعد ازاں عیدالاضحیٰ کی امامت سے قبل معروف عالمِ دین حضرت مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی نے بعض حضرات کے استفسار پر قربانی کے ایک اہم مسئلہ کی مختصر وضاحت فرمائی اور عوام کو مسئلۂ قربانی سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ قربانی ہر اُس مسلمان عاقل، بالغ اور مقیم شخص پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو، اور اس حکم میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔ اگر مرد صاحبِ نصاب ہے تو اس پر اپنی طرف سے قربانی واجب ہوگی اور اگر عورت صاحبِ نصاب ہے تو اسے بھی اپنی طرف سے قربانی ادا کرنی ہوگی۔
آپ نے موجودہ دور میں صاحبِ نصاب کی تعیین کے تعلق سے اکابر علماءِ کرام ومفتیان ذوی الاحترام کی آراء کی روشنی میں وضاحت فرمائی کہ جس شخص کے پاس ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال موجود ہو جو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر پہنچ جائے، وہ شرعاً صاحبِ نصاب شمار ہوگا اور اس پر قربانی واجب ہوگی۔
مولانا موصوف نے عوام میں پائی جانے والی ایک عام غلط فہمی کی بھی اصلاح فرمائی کہ بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صرف ایک ہی قربانی کو کافی سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ ایسا ہرگز نہیں۔ جس جس شخص پر قربانی واجب ہو، اسے اپنی الگ قربانی کرنی چاہیے۔ اسی طرح بعض لوگ ایک سال اپنی طرف سے، دوسرے سال اپنی اہلیہ کی طرف سے اور تیسرے سال گھر کے کسی دوسرے فرد کی طرف سے قربانی کرتے ہیں، جب کہ اگر متعدد افراد صاحبِ نصاب ہوں تو ہر ایک پر مستقل قربانی واجب ہوگی۔ لہٰذا جس کے اوپر قربانی واجب ہو، اسے اپنی طرف سے قربانی ادا کرنی چاہیے۔
اسی کے ساتھ مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی نے عوام کو نمازِ عیدالاضحیٰ ادا کرنے کا آسان طریقہ بھی مختصر انداز میں بتایا، تاکہ ہر شخص صحیح طریقے سے نماز ادا کرسکے۔ بعدہٗ انہی کی امامت میں نمازِ عیدالاضحیٰ ادا کی گئی۔
نماز میں عوامِ اہلسنت کے ساتھ بڑی تعداد میں علماء، حفاظ، ائمہ کرام، دینی مدارس کے طلبہ اور معززینِ علاقہ نے شرکت کی، جس سے روحانی ماحول مزید پرنور ہوگیا۔
نماز سے فراغت کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ و معانقہ کرکے عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی اور پھر سنتِ رسول ﷺ اور جذبۂ ایثار کے ساتھ اپنی اپنی قربانیاں ادا کرنے میں مشغول ہوگئے۔ علاقے میں ہر طرف قربانی کی دینی و روحانی فضا قائم رہی اور لوگوں نے خوش دلی کے ساتھ قربانی کا گوشت عزیز و اقارب، پڑوسیوں، غرباء اور مستحقین میں تقسیم کیا۔
ضلع سدھارتھ نگر کی اکثر مساجد اور تمام عیدگاہوں میں بھی عیدالاضحیٰ کی نماز نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ادا کی گئی۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں قربانی کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے، صفائی ستھرائی، امن و امان اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔
عیدالاضحیٰ کے اس مبارک موقع پر مسلمانوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے، معاشرے میں محبت و خیرسگالی کو فروغ دینے اور ملک میں امن، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
