بیدر۔ 15؍نومبر (پریس نوٹ): اِسلام کی بنیاد اور پہچان امن وسلامتی ہے۔ اس کے اظہار کے لئے اپنے ماننے والوں سے اس کامطالبہ ہے کہ سلام پھیلاؤ۔ نبی کریم ﷺ کواللہ نے معلم اور آسانی پیدا کرنے والا بناکربھیجاہے۔ انسان کے پاس زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جس سے انسان اچھابھی بن سکتاہے اور برا بھی۔ میٹھی زبان کامیابی کی ضمانت ہے ۔ حکمت ودانائی سے بھرپو رحکیم لقمان نے کہا ہے کہ جس کادِل اور زبان اچھی ہووہ سب سے اعلیٰ انسان ہے۔ ضرورت اِس امرکی ہے کہ ہمیں میٹھی گفتگو کرنی آئے۔ ہمدردی کے دوبول بول کر دوسروں کادِل جیت سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا "لوگ جہنم میں نہیں جائیں گے سوائے اپنی زبان کی فصلوں کے کاٹنے کے نتیجے میں‘‘ اسی لئے زبان سے خوشی دینا اگر ممکن نہیں تو کسی کودُکھی بھی نہ کریں ۔

ان خیالات کااظہار اقبال الدین انجینئر نے ہفتہ واری اجتماع منعقدہ مسجد قباء بیدر سے اپنے خطاب کے دور ان کیا۔ آگے بتایاکہ دوسروں کی عزت کواُچھالا نہ جائے۔ اگر آپ دوسروں کابھرم رکھنا سیکھ لیں اور اچھے طریقہ سے پیش آئیں تو دوسرے لوگ بھی آپ کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ معروف قول ہے کہ ’’بارش کاقطرہ سانپ اور سیپ دونوں کے منہ میں گرتاہے مگر سانپ اسے زہر بنا دیتاہے اور سیپ اس قطرے کو موتی بنادیتی ہے۔ اسی لئے کوئی زبان سے زہر اگل کر پست ہوجاتاہے اور کوئی موتی بناکے بلند ہوجاتاہے۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایاہیکہ بندہ ایک بات اپنی زبان سے نکالتاہے جو خداکو خوش کرنے والی ہوتی ہے، بندہ اس کو نہیں جانتا لیکن اللہ اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند کرتاہے۔ اس طرح آدمی خدا کو ناراض کرنے والی بات بول جاتاہے اور اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتاحالانکہ وہی بات اسے جہنم میں لے جاکر گرادیتی ہے۔

اقبال الدین انجینئر نے اپنے خطاب کے آخر میں کہاکہ ’’عالمی یومِ اردو‘‘ منانے کاہمارامقصد یہ ہونا چاہیے کہ اردو بولنا ، پڑھنا اور لکھنا ہوکیوں کہ اردو ایک رابطہ کی زبان کے طورپر وجود میں آئی ہے۔ ہمارے ملک میں دین مکمل طورپر اردو زبان میںمحفوظ ہے۔ اسی لئے دینی معلومات عام کرنے کے لئے اردو زبان کو بھی عام کرنے کی ضرورت ہے۔

علامہ اقبال کی یومِ پیدائش پر’’ عالمی یوم اردو‘‘ منانے کا مقصد بھی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ دین کو سمجھانے کی کوشش کی۔ دنیا میں بلند مقام حاصل کرنے کے لئے خودی میں ڈوبنے کی نصیحت کی ہے۔ تمام لوگوں کو بیداری اور حکمت کے ساتھ رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اور ہمارے ملک ہندوستان کو سارے جہاں سے اچھا کہاہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ایک ذمہ دار شہری کی طرح زندگی گزار کر ملک کانام روشن کریں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ خدایا ، ہمیں زندگی گزارنے میں آسانیاں عطافرما۔ہمیں فہم وشعور عطافرما،
نفع دینے والا علم عطافرما، دنیا میں بھی بھلائی عطافرما اور آخرت میں بھی۔ آمین ثم آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے