ہردوئی۔سانڈی(محمد جنید قاسمی) گزشتہ کل مدرسہ اسلامیہ کاشف العلوم کے زیر اہتمام مولانا محمد طلحہ مظاہری مہتمم مدرسہ کاشف العلوم سانڈی کے صدارت میں ایک روزہ جلسہ تحفظ ختم نبوتﷺ ومحفل نعت النبی ﷺ منعقد ہوا، جس میں مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک اہم فتنہ رونما ہواہے، وہ یہ ہے کہ علماء کو ہرشخص یہ مشورہ دیتاہے کہ تفریق نہ کریں، تفسیق نہ کریں، تکفیر نہ کریں، اور روشن خیال لوگ نبوت کا دعویٰ کریں، صحابہ کو برابھلاکہیں، علماء کو گالیاں دیں، ان سب کے باوجود علماء سکوت اختیا کریں۔ نہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرے اور علماء خاموش رہیں، صحابہ کو بر اکہاجائے اور علماء خاموش رہیں، علماء کو گالیاں دی جائیں اور دیندار طبقہ خاموش رہے۔
مفتی جنید قاسمی نے کہا کہ صحابہ کو براکہنے والوں کو نبی ؐنے لعنت کی بددعاء دی ہے۔
قبل ازیں جلسے کے داعی مفتی محمد اسعد مظاہری ندوی ناظم مدرسہ کاشف العلوم سانڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس کا مقصد امت کو غلط عقائد سے بچاناہے اورجمہورِ امت کے عقید ے پر لاناہے، انہوں نے کہا عقیدۂ ختم نبوت ایک بنیادی عقیدہ ہے، اس کے بغیر آدمی مؤمن نہیں۔
بعد ازاں مولانا شمش الدین مہتمم مدرسہ معارف الاسلام شاہ پوربنتھل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پرفتن دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنا اور اپنے شعائر کی حفاظت کرنا اہم عبادت ہے۔
مولانا عبداللطیف مظاہری قنوج نے خطاب کرتے ہوئے کہ ہر مسلمان سنت کو زندہ رکھنے کا جذبہ رکھے اور پیارے رسولﷺکی پیاری زندگی سے محبت کرےیہ ایسا نسخہ ہے جو باعث عافیت اور باعث سکون ہے۔
مولانا طارق جامعی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع ہردوئی نے حالات حاضرہ پر شاندار گفتگو کی۔
جلسے کا آغاز قاری محمد عمران ثاقبی استاذ مدرسہ کی تلاوت سے ہوا، نعت کا نذرانہ مولانا فہیم قاسمی، حافظ فخرالدین نے مشترکہ طور پر پیش کیا،نظامت کے فرائض قاری عبدالرحیم جامعی نے انجام دی۔
اس موقع پر حافظ احمد،مولانا اسامہ،مولانا عبیدقاسمی ہیراپور، حافظ محمد اکرم جامعی، حافظ محمد ضامن، حافظ فیضان، ڈاکٹر زبیرانصاری، الطاف انصاری، عالم انصاری،اشتیاق منصوری، مستقیم منصوری، منشی وسیم، حاجی الطاف، حاجی عبدالقیوم، حافظ سیدالکلام، حافظ مجاہد، حافظ یامین، حافظ ابوہریرہ،حاجی ضیاء الدین بلگرام، ضیاء الدین انصاری،حافظ ہاشم،کریم بیگ وغیرہ کثیر تعدادمیں لوگ موجود رہے، اس موقع پر پس پردہ خواتین اسلام نے بھی شرکت کی، مولانا طلحہ مظاہری کی دعاء پر جلسہ ختم ہوا۔
