لکھنؤ، 02 جولائی(پریس رلیز): راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے جاری ایک بیان میں کہا کہ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شخص کو اپنے بارے میں مکمل یقین ہو کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی۔ حالانکہ ہمارے بزرگوں اور علمائے کرام نے ہمیشہ یہی تعلیم دی ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی رکھنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کی برائیوں کو نہ دہرایا جائے بلکہ اس کی اچھائیوں کا ذکر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد افسوس کے ساتھ یہ منظر دیکھنے میں آیا کہ ان کے بعض اختلافی بیانات، جن سے پہلے صرف محدود حلقے ہی واقف تھے، انہیں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ نتیجتاً جو بات چند افراد تک محدود تھی، وہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ گئی۔ محمد آفاق نے کہا کہ اسلام ہمیں خیر کی اشاعت اور شر کی روک تھام کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہمارا کوئی عمل، خواہ اس کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، باطل یا قابلِ اعتراض باتوں کو مزید عام کرنے کا سبب بن جائے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اختلافی باتوں کو عام لوگوں کے سامنے وہی عناصر زیادہ پھیلا رہے ہیں جو خود صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نام پر مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرکے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں اور امت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت، رسول اللہ ؐکی سنت پر عمل اور اپنے ایمان کی فکر کریں۔ دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے کے بجائے ہر شخص کو اپنے اعمال اور اپنے ایمان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے، جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ آخر میں انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا:”اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت و ادب نصیب فرمائے، حق بات کو حکمت کے ساتھ بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری زبان، قلم اور سوشل میڈیا کو ہر ایسے عمل سے محفوظ رکھے جو امت میں فتنہ، انتشار یا باطل خیالات کی مزید اشاعت کا سبب بنے۔ آمین۔
