شیخ عبدالسمیع المدنی خطاب کرتے ہوئے
مہنداول، سنت کبیرنگر: مدرسہ شاکرہ للبنات دھوبہا سانتھا میں تعلیمی بیداری کے تحت پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پانچ درجن سے زائد کتابوں کے مصنف شیخ عبدالسمیع المدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مخلوط تعلیم کی تباہ کاریاں جگ ظاہر ہیں جس کے چلتے ہوئے مسلم بچیاں اعلی تعلیم سے دور ہیں۔اسی لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ بچیوں کے لئے مستقل ادارہ ہو اور بچیاں عالمیت اور فضیلت کے بعد اعلی ڈگریاں حاصل کریں، کیونکہ عالمیت اور فضیلت کا درجہ انٹر اور بی اے تک ہے،اور انٹر اور بی اے پاس لوگوں کو سرکاری نوکریاں نہیں ملتی ہیں۔انٹر اور بی اے یہ تعلیمی بنیاد ہے، اس پر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی ہمارے بچے تعلیمی میدان میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔انھوں نے بہت سی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی بنیاد پر ایک غریب اور چھوٹی ذات کا فرد بھی رئیسوں اور سربراہوں پر فوقیت حاصل کرلیتاہے، اور اگر رئیس اور سربراہ صاحبزادہ تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ ممتاز افراد میں معزز اور مکرم ہوتا ہے۔ اسی لیے تعلیم سے اپنے بچوں اور بچیوں کو سنواریں۔ انھوں نے بچوں کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری طالبات کا سوال ہوتا ہے،سبق کیسے جلدی یاد ہو جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم فطرت کی برائیوں سے دور رہیں اور اگر گھر کشادہ ہو تو الگ کمرہ میں پڑھیں جس میں گھر کا شور و غل متاثر نہ کرے،اور سناٹے کے وقت عشا کے بعد یا فجر سے قبل دو گھنٹہ پڑھیں، اور چھٹیوں کے موقع پر جو اسباق میں کمی و کوتاہی رہ گئی ہو اس کو پورا کریں۔
سماجی لیڈر مولانا ولی اللہ ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کی تعلیم گھر ،سماج و معاشرہ کے لئے ناگزیر ہے، کیونکہ بچے اور بچیاں ماؤں کی اچھی تربیت سے ہی نیک و صالح بنتے ہیں اور ماؤں کی غلط تربیت سے نیک باپ کے باوجود بھی اولاد ناکارہ اور ناخلف ہو جاتی ہیں۔
نیشنل انٹر کالج مونڈا ڈیہا بیگ کے انگلش استاذ ماسٹر شمس الدین نے کہا کہ جو بچے اور بچیاں صرف والدین اور اساتذہ کی بات مانتی ہیں وہی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔
اس موقع پر ایم آئی ایم ضلع صدر معراج خان، مولانا عطاء اللہ قاسمی، حافظ نسیم، ڈاکٹر فیروز احمد، ڈاکٹر عبدالعزیر، مولانا عبدالعزیز بانی دارالعلوم سلفیہ سکھوئی لوہرسن، مولانا جمال الدین، للن چودھری، عبید خان، اشتیاق احمد حافظ بلال احمد، سمیع اللہ انصاری سمیت سبھی استانیاں اور طالبات موجود رہیں۔
