برادران وطن کو شریک کروائیں اور قرآن ایکسپو کے ذریعہ ہوگا اسلامی احکامات و تعلیمات کا اظہار

بسوا کلیان ۔ 10؍ڈسمبر (نامہ نگار): شہر بسواکلیان ریاست کرناٹک کا تاریخی، ثقافتی، تہذیبی اور مذہبی شہر ہے،تعلقہ پلیس ہے ۔ ضلع بننے کی دوڑمیں شامل ہے۔ یہ تجارتی مرکز بھی ہے۔ یہاں 12 ویں صدی عیسوی میں مہاتما بسویشور نے لنگایت دھرم کی بنیاد رکھی تھی۔یہ شہر اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کی تعلیمات سے بھی منور رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں انوبھو منٹپ کرناٹک حکومت کروڑوں کے بجٹ سے قائم کررہی ہے۔ آئندہ عالمی سطح پر سیاح یہاں کے تاریخی مقامات کا مشاہدہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ یہاں مراٹھا سماج، دھنگر سماج، کولی سماج اور دلت سماج اور دیگر طبقات کے لوگ کثیر تعداد میں رہتے ہیں۔ چونکہ اس شہر میں آئے دن مختلف مذاہب کے لوگ مذہبی,جلسے،جلوس، میلے اور دیگر پُرامن تقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور معزز شخصیات کو اپنے جلسوں میں مدعو کرکے ان کے خیالات و افکار سے استفادہ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ہمہ مذہبی اور ہمہ لسانی شہر میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے مسلسل 9 سال سے کنڑا زبان میں قرآن پروچن کا انعقاد ہورہا ہے جس میں کنڑی زبان میں منگلورو کے جناب محمد کنہی صاحب درس قرآن پیش کرکے قرآنی تعلیمات کو پیش کررہے ہیں. اور اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے 14,13 اور 15 ڈسمبر 2024 بروز جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو شہربسواکلیان کے سبھا بھون موقوعہ تھیر میدان میں شام ساڑھے چھ سے ساڑھے آٹھ بجے تک قرآن پروچن منعقد ہوگا۔ تینوں دِنپروگرام کے فوری بعد شرکاء کے لئے طعام کا انتظام بھی رہے گا۔ پہلی دفعہ قرآن ایکسپو کا اہتمام کیاگیاہے تاکہ اسلامی احکامات اور تعلیمات کا اظہار کیاجاسکے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ یہ تین روزہ پروگرام دعوت دین و اقامت دین کے نقطئہ نظر سے منعقدہوتاہے۔یہ جان کر خوشی ہوگی کہ یہ ایونٹ برادران ملت اور برادران وطن کے درمیان باہمی ربط و تعلق کا پروگرام بنتا جارہاہے۔ لہٰذا بلا لحاظ مسلک و جماعت تمام برادران ملت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دعوتی ذمہ داری سمجھ کر اس سہ روزہ قرآن پروچن میں برادران وطن دوست و احباب کوساتھ لائیں اور ہم وطن بھائی بہنوں، بیٹیوں کی اس اجتماع میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ الحمد للہ! گزشتہ قرآن پروچنوں سے برادران وطن میں نہایت امید افزا تبدیلی آئی ہے اور اس قرآن پروچن کو برادران وطن بہت پسندیدگی اور احترام سے سماعت کررہے ہیں۔ یہی خوشگوار رجحان پورے ملک میں امن و اماں اور بھائی چارے کے ماحول کو مستحکم کرنے میں ممد و معاون ہوگا۔ ملک کے برادران وطن کے لئے ہر ریاست کے ریاستی زبانوں میں اس طرح کا درس قرآن اجتماعی طورپر منعقد کرنا موجودہ وقت میں ملت اسلامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے