از – ذاکرہ شبنم- کرناٹک
فجر کی نماز کے بعد میں جیسے ہی مسجد سے باہر نکلا عبدالرحمٰن صاحب نظرآ گئے میں نے اُن سے مصافحہ کرتے ہوئے پوچھ ہی لیا رحمٰن صاحب کل آپ ہمارے یہاں افطاری کی دعوت میں شریک نہیں ہوئے ؟….
رحمٰن صاحب نے مجھے دیکھا پر نظریں چُراتے ہوئے کہنے لگے اِس کے لئے میں معافی چاہتا ہوں کہ میں آپ کی دعوت میں شامل نہیں ہوسکا…..
رحمٰن صاحب, آپ تو ہر سال ہم سب سے پہلے ہی دس۱۰ روزے ہونے کی دیر ہوتی ہے آپ اپنےگھر بڑی ہی شاندار افطار کی دعوت فرماتے رہے ہیں-اِس بار تو بیس۲۰ بائیس۲۲ روزے بیت گئے ہیں- مگر؟… رحمٰن صاحب نظریں نیچی کئے خاموشی سے میری باتیں سن رہے تھے-مجھے کچھ تشویش ہوئی- میں نے پوچھا "کیا بات ہے سب خیریت تو ہے؟ آپ کا کاروباروغیرہ ٹھیک چل رہا ہےنہ؟”میری بات سنتے ہی وہ فوراً بول پڑے” ہاں ہاں جناب الحمداللہ سب ٹھیک چل رہا ہے”-نہیں آپ ضرور کچھ چھپا رہے ہیں ہم سے”-"نہیں میں کچھ نہیں چھپا رہا ہوں جناب اللہ کا بڑا کرم ہے”-میں کہاں چُپ رہنے والا تھا جھٹ سے بول پڑا پھر آپ نے ابھی تک افطاری کی دعوت کا انتظام کیوں نہیں فرمایا؟. میرے سوال پر وہ مجھے عجیب نگاہوں سے تکتے ہوئے کہنے لگے "بس ایسے ہی”….اُن کے اِس مختصر سے جواب نے میری تشویش میں کچھ اور اِضافہ کر دیا-"نہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے براہِ مہربانی اصل ماجرا کیا ہے آپ مجھے بتائیے”! رحمٰن صاحب میری بے چینی کو دیکھتے ہوئے مسکرائے اور کہنے لگے "جناب پچھلے سال ایک واقعہ پیش آیا تھا جس نے مجھے بہت متاثر کیا تبھی میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ آئندہ سے میں افطار کی دعوت نہیں کرونگا بس”!اُن کی یہ بات میرا تَجسُس اور بڑھاگئی…میں نے پوچھا "ارے ایسا کیا ہوا تھا بھائی صاحب ہم بھی تو سُنے”-وہ کہنے لگے "اب آپ اِتنی ضد کررہے ہیں تو سنیئے”!.”پچھلے برس جب میرے یہاں افطاری کی دعوت ہوئی تھی اُس رات دعوت وغیرہ سے فارغ ہونےکے بعد میں تراویح کے لئے مسجد چلا گیا پھر تراویح کی نماز کے بعد تقریباً ساڑھے دس بجے مسجد سے نکل کر اپنے گھرکی جانب آرہا تھا-ایک طرف جہاں پہ کچرے کا ڈھیر جمع تھا وہاں پر میں نےدیکھا دو چھوٹے بچّے جن کے سر ٹوپی سے ڈھکے ہوئے ظاہر ہے وہ بھی مسجد سے ہی نکلے تھے-اُن کی پُشت میری طرف تھی میں جب اُن کے قریب پہنچا وہ معصوم میری آمد سے بے خبر چھوٹا لڑکا کچرے کے ڈھیر میں سے پیپر پلیٹ اپنے ہاتھوں میں اُٹھائے ہوئے بڑے لڑکے سے کہہ رہا تھا "بھیا دیکھو اِن پلیٹوں میں کِتنا کھانا ہے اِسے ہم لئے چلتے ہیں سحری میں کھالیں گے امیّ کہہ رہی تھیں نہ کہ آج سحری میں کھانے کو ہمارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہے”…اُس معصوم کی یہ بات سُن کر میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے میری روح کانپ اُٹھی….میں نے اُنہیں آواز دی "بچّوں یہاں کیا کررہے ہو”!میری آواز پر وہ چونک پڑے جس کے ہاتھ میں پلیٹ تھی گھبراہٹ میں اُس کے ہاتھ سے وہ پلیٹ چھوٹ گئی”مگر اُس معصوم کی نظریں ابھی بھی اُسی جھوٹی پلیٹ پر جمعی ہوئی تھیں جس میں کچھ چاول اور کچھ جھوٹی ہڈیاں میرا منہ چڑا رہے تھے- بے شک ہم امیر بھی رزق کی کتنی بےحُرمتی کرتے ہیں- جب کہ اِنہیں نِوالوں کو غریب اور بھوکے معصوم ترستے ہیں…آہ -میں نے باہیں پھیلا کراُن دونوں بچّوں کو اپنے قریب تر کرتے ہوئے سینے سے لگا لیا اور پوچھا اب مجھے بتاؤ گھبراؤ نہیں کیا بات ہے تم اِس کچرے کے ڈھیر میں سے کھانا کیوں اُٹھا رہے تھے”؟میری ہمدردی کو دیکھتے ہوئے بڑے لڑکے نے کہنے کی جراءت کی- "انکل افطاری تو ہم نے مسجد میں کر لی- روزہ کھول لیا مگر سحری کے لئے ہمارےگھر میں کچھ بھی نہیں ہے اِسلئے”!میں نے پوچھا تمہارے گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے کیوں”؟تمہارے یہاں کون کون ہیں تمہارے ابّو کہاں ہیں؟اور تمہارا گھر کہاں پر ہے”؟وہ کہنے لگا ہمارے ابّو گھر پر ہی ہیں- بیمار ہیں کام پر جا نہیں سکتے ہماری امّی کپڑے سی کر دیتی ہیں پر آج اُنہیں بھی مزدوری نہیں ملی ہے- ہم دونوں نے تو مسجد میں افطاری کرلی پر ہماری امّی نے تو صرف پانی سے ہی پیٹ بھر لیا امّی اور ابّو دونوں بھوکے ہیں- اور ہمارے گھر میں آج سحری میں بھی کچھ نہیں ہے- انکل آج آپ کے یہاں افطاری کی دعوت تھی ہماری امّی کہتی ہیں کہ افطاری کی دعوت صرف امیروں ہی کو دی جاتی ہے ہم جیسے غریبوں کو نہیں-انکل ایسا کیوں؟ہم بھی تو روزہ رکھتے ہیں اور افطاری کی دعوت تو روزے داروں ہی کےلئے ہوتی ہے نہ”؟.. اِس سے آگے مجھ میں اور کچھ بھی سننےکی قوت نہیں رہی اُس معصوم کے تلخ سوالوں نےمجھے ایسا طمانچہ دے مارا کے احساسِ ندامت سے میری آنکھیں اشکبار ہوگئیں….پھر میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے دونوں بچّوں کو باہوں میں بھر کے پوچھا تمہارا گھر کہاں پر ہے جواب ملا "پچھلی گلی میں آپکے گھر کے بالکل پیچھے ہی ہمارا گھر ہے”….. اُس دن میرا سر ندامت سے جُھک گیا اور تبھی میں اُن بچّوں کو لے کر اپنے گھر سے کھانا پیک کرواتے ہوئے اُن کے گھر پہنچ گیا گھر میں بیمار باپ تو سورہا تھا مجھے دیکھتے ہی اُن کی ماں پریشان ہو گئی اور بچّوں کے ہاتھوں میں پیکِٹس دیکھتے ہی ایکدم سے بچّوں پر بپھرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئیں..”بھائی صاحب کیا یہ لوگ آپ کے گھر آئے تھے”نہیں نہیں بہن -میں نے جلدی سے اُن بچّوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اِن پر غصّہ ہرگز نہ کیجئے یہ آپکے بچّے میرے گھر نہیں آئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اِن معصوم روزے دارفرشتوں سے راستے میں ملاقات کروا کے میری آنکھوں پر بندھی غفلت کی پٹّی کھول دی ہے- آپ لوگ اِتنے مفلوکُ الحال اِسقدر کسمپُرسی میں ماہِ مقدس رمضان کے دن گذار رہے ہیں اور ہمیں اپنے آس پڑوس کی خبر تک نہیں ہم حشر کے میدان میں خدا کو کیا منہ دِکھائیں گے….بہن آج ہم شرمساربھی ہیں نادم بھی ہو سکے تو ہمیں معاف کردینا….کل صبح آپ کے گھر اناج وغیرہ ساری ضروریات کی چیزیں آجائیں گی اللہ کے لئے قبول فرما لینا”….اور وہ جھجک کی ماری سر جھکائے کہنے لگی بھائی صاحب…..میں اُس کے منہ سے کچھ بھی سُننا نہیں چاہتا تھا میں نے اپنے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا اور یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ آیا کہ آپ کی طرح اور کوئی بھی ضرورت مند اور مستحق ہوں تو براہ مہربانی ہمیں بتا دینا-اور آج کے بعد آپکے اِن معصوم بچّوں کی تعلیم وغیرہ کےاخراجات بھی ہمارے ہی ذِمہ ہونگے” "وہاں سے واپس آنے کے بعد اُسی وقت میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ آئندہ رمضان سے میں افطاری کی دعوت نہیں کروں گا- بلکہ جہاں تک ہو سکے غریب، مِسکین،ضرورتمند اور مستحق لوگوں کو تلاش کر حقوق العباد ادا کرنے کی کوشیش کروں گا-ان شإ اللہ- بھائی وہ معصوم اور بے بس روزہ دار بچّوں ہی کی وجہہ سے میری عقل کے در وا ہوئے ہیں اِس سے پہلے میں بھی تو نام و نمود اور شہرت کے نشہ ہی میں غافل تھا- ہم دعوتوں کا اِنتظام اُن امیر اور نامور اور ہمارے اپنے رشدارروں کے لئے کرتے ہیں جو آرام و آسائش اور عیش وعشرت کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں- ہم زکٰواۃ اور خیرات اُنہیں دیتے ہیں جو ہمارے در پر آ کے ہم سے مانگتے ہیں-ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی ہم یہ نہیں سوچتے کہ کئی نادار اور مفلوکُ الحال اِس جہاں میں ایسے بھی ہیں جو اپنی مُفلسی کا کبھی چرچا نہیں کرتے,کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے جو شرم و جھجک کی وجہہ سے لب کُشائی تک نہیں کرتے…..ہم ہر سال رمضان المبارک میں سبھی رِشتداراور دوست احباب کو جمع کرکےافطار کی دعوت اور ضیافت کا اِنتظام کرتے ہیں بڑے ہی شوق اور ذوق سے سب کی مہمان نوازی اور خاطرداری کرتے نہیں تھکتے وہ بھی اُن لوگوں کی جو خوب صاحبِ حیثیت ہیں- جن کے گھروں کے دستر خوان اللہ کے کرم سے ہر روز پھلوں اور مشروبات اور قیمتی سے قیمتی نہ جانے کِن کنِ انواع و اقسام کے طعام وغیرہ سے سجے ہوتے ہیں ایسے ہی امیروں کو ہم دعوتِ افطار کرواتے ہیں- جو ہمارے خاصُ الخاص دوست اور اپنے ہیں….ایسے میں ہمیں اُن کا ذرا بھر بھی خیال نہیں آتا جو اللہ تعالٰی کے خاصُ الخاص بندے ہیں آزمائیشوں میں مبتلا مُفلس و بےکس ضروت مند اور مستحق، درد مند مگرفاقہ کشی میں بھی مُسکرانے والے صابر و شاکر جن کے ہاتھ صرف بارگاہ الٰہی میں اُٹھتے ہیں جو صرف سجدوں میں گِڑگِڑاتے ہیں….اور ہم اپنی خوشحالی میں ایسے مست رہتے ہیں کہ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا ہماری اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے اُن بےکسوں کی سِسکیاں دم توڑ رہی ہوتی ہیں…..ہمارے نام ونمود کی وجہہ سے وہ تو ہمیں اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں مگر ہمیں اُن بے بس و بےکسوں کی خبر تک نہیں ہوتی گرچہ وہ ہمارے آس پاس ہی کیوں نہ گھُٹ گُھٹ کر جی رہے ہوں- اِس دنیا کی شہرت اور دِکھاوے کی عارضی زندگی میں کھوئے ہم دائمی زندگی اور اُسکی جنّت کو بھُلا بیٹھے ہیں”!. رحمٰن صاحب کی باتیں سنتے ہوئے میری نظریں بھی ندامت سے جُھک گئیں میں نے اُن کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لئے مظبوطی سے تھامتے ہوئے کہا "جناب میں آپ کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے آپ کے ساتھ پیش آیا پچھلے سال کا واقعہ سنانے کی زحمت گوارہ کی آپکی باتوں سے میں بھی نادِم ہوا جارہا ہوں- اللہ ہمیں معاف فرمائے-آخر یہ دولت اور یہ شہرت کس کام کی….ہمارے ساتھ ہمارے نیک اخلاق اور نیک اعمال ہی تو جائیں گے”! پھر ہم دونوں نے اپنی اپنی راہ لی….آج اور اِس سال میں نے بھی فیصلہ کر لیاہے اورمجھے لگنے لگا ہے کہ رحمٰن صاحب کی صداقت بھری باتوں سے جیسے میرے اِرادوں کو بھی نیکی کا لِبادہ مل گیا ہو…!!!
