مولانا محمد رفیع الدین نعمانی مہراجگنجی

امام وخطیب مسجد ملاؤں گورکھپور

اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ابھی حال ہی میں ہمارے درمیان سے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تجلّیوں ،رحمتوں و برکتوں کو لٹا کر رخصت ہوا ہے جب رمضان کا پیارا چاند آسمان کے افق پر رونما ہوا تو بڑی مسرت وشادمانی سے پورے عالم کے مسلمان جھوم اٹھےاور بیک زبان کہنے لگے کہ اب ہم انشاء اللہ کل سے روزے رکھیں گے افطاری کا لطف اٹھائیں گے تراویح ،تہجد اور تلاوت قرآن میں دلجمعی سے مشغول ہوں گے نمازپنجگانہ پابندی سے ادا کریں گے زکوۃ صدقات و فطرات سے یتیموں، غریبوں مسکینوں، بیواؤں کی اور اہل مدارس کی بھرپور اور دل کھول کر امداد کریں گے گویا کہ ہر نیک کام کریں گے جھوٹ، چغلی غیبت اور لڑائی جھگڑا سے پرہیز کریں گے دکانوں کاٹائم ٹیبل بدل دیں گے اور ان سب امور کو ماشاءاللہ جم کر انجام دیتے رہے حتیٰ کہ مکمل ایک ماہ گزر گیا مساجد میں مصلیوں کا جم غفیر لگا رہا، افطاری کی پارٹیاں چلتی رہیں،سحرى افطاری کا انتظام ہوتا رہا

 ناگاہ ایک دن غروب آفتاب کے بعد ہلال عید کا دیدار ہوا بچے بوڑھے جوان مردوعورت سبھی عید کی تیاریوں میں مشغول ہوگئے بچے گھروں میں میلا میلا چلانے لگے نئے کپڑے الٹ پلٹ کر بار بار دیکھتے اور خوش ہوتے کہ کل عید کے دن زیب تن کریں گے اور عید کی نماز ادا کرنے جائیں گے مگر جہاں عید کی مسرت بھری گھڑی میسر ہوئی وہیں پتا چلا کہ ہلال عید کے ساتھ شیاطین کے گروپ بھی خوشیاں منانے میں پیش پیش تھے کوئی شیطان کہتا اب تو رمضان ختم ہوگیا بہت مزا آئے گا مصلیوں کو بہکانے میں اب بہانے بنا بنا کر نمازیں چھڑانے کی ایڑی سے چوٹی کا زور لگاؤں گا۔ آپس میں ایک دوسرے کو لڑاؤں گا، شراب خانوں کا چکر لگواؤں گا، جوا سٹہ وغیرہ وغیرہ

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ عید کے بعد معاشرتی نظام الاوقات میں وہی سابقہ لا ابالی پن ضد ہٹ دھرمی نمازیں چھوڑ کر دیگر ضروری کاموں میں پھنس جانا آپسی رنجش چپقلس تجارت میں ٹھگی بے ایمانی درآمد ہوتی ہے جھوٹ بولنا تو دال بھات کا نوالہ بن جاتا ہے حالانکہ اہل ایمان کو متقی بن جانا چاہئے تھا کیوں کہ متقی ہونے کی ٹریننگ تو خلاق عالم نے پورے ایک ماہ تک کرایا تھا محنت تو کی گئی مگر کامیابی نہ مل سکی وجہ صاف ظاہر ہے کہ دل اور لگن سے کوشش نہیں کی تھی ورنہ تو عربی کا مقولہ ہے” مَن جد وجد” کہ جس نے کوشش کیا اس نے پا لیا۔

اور یہ سانحہ ہر سال عید کے بعد پیش آتا ہے کہ ایک چاند دیکھ کر مسجدیں کھچاکھچ نمازیوں سے بھر جاتیں ہیں اور دوسرا چاند دیکھ کر مساجد خالی کردی جاتیں ہیں یہ عجیب فلسفہ ہے اس قوم کے لیے جو رسول رحمت کی امت ہے آخر اس قوم کو کیا چاہئے کیا صرف شریعت مطہرہ ایک ماہ کے لیے ہے باقی گیارے مہینے رخصت ۔۔۔۔۔

مسلمانوں! سوچو سمجھو مزاج بدلو جاگو اور خواب خرگوش میں مست رہنے سے باز آؤ ورنہ ایک اچھی خاصی زندگی پاکر اگر اپنے خالق کو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو نہ اپنا پائے تو سوچ لو کہ تمہارا وجود تمہاری حیثیت شیطان کے لئے ایک ایک لقمہ تر کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پسند کی زندگی گزارنے کی توفیق بخشے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے