ابو احمد مہراج گنج
اوپر دی گئی تصویر ایک تمثیلی تصویر ہے۔جس میں چند افراد ایک گاڑی کو دھکیل کر اس کے منزل پر لے جانے یا اسے سائیڈ لائن کرنے میں مصروف ہیں۔بالفرض اگر یہ تصویر بھارت کے سب سے بڑے صوبے یعنی بلڈوزر آئکان والے اترپردیش کے محکمہ پولیس کے افراد کی ہو تو آپکا ردعمل کیا ہوگا مجھے نہیں معلوم۔لیکن میرا تاثر یہ تھا کہ
میرا یقین تو بہت تھا مگر غلط نکلا
کہ آبلہ کبھی پاپوش میں نہیں آتا
بات دراصل سہ شنبہ کے رات دس بجے کی ہے کچھ احباب سے ملنے مہراج گنج صدر چوک پہ پہنچا تو وہاں موجود احباب نے توجہ دلائی کہ "اتم پردیش کے حساس اور فعال محکمہ پولیس کے افراد محکمہ کی ایک گاڑی کو دھکیل کر لے جاررہے تھے” اس منظر کو دیکھ کرہر راہرو کچھ کمنٹ پاس کررہا تھا۔میرے پاس سے گزرتے ہوئے کسی نے کہا یہ لوگ "ایسی ہی گاڑیوں میں جاکر انکاونٹر کرتے ہوں گے”
تب تک دوسرے راہگیر نے کہا "ایمانداری کی مثال اس محکمہ کے لوگ تیل نہیں بیچتے۔بلکہ ڈنڈے پر مالش کردیے ہوں گے”
ویسے بھی پاپوش اور محکمہ پولیس میں بڑی یکسانیت ہے۔پاپوش پیروں کو پہچنے والی گزند سے حفاظت کرتا ہے۔اور پولس حکومت کو گزند پہنچانے والے افراد کی۔پاپوش کی جگہ سب کو معلوم ہے اگرچہ پاپوش میں سورج کی کرنیں جڑدی جائیں۔اوراس محکمہ کی کوئی مخصوص جگہ نہیں پوتی یہ ہر جگہ فٹ ہوجاتی ہے۔ میں وہاں سے گزرنے والوں کے تاثر اور ماضی قریب میں رونما ہونے والے واقعات میں محکمہ پولیس کے افراد کے حالت پر افسوس ظاہر کرتا کہ میرے حافظے میں موجود وسیم بریلوی صاحب کا یہ شعر باہر آنے کے لئے بیتاب تھا
سب نے ملاۓ ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
کتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ
دنیا کو بے وفائی کا الزام کون دے
اپنی ہی نبھ سکی نہ بہت دن کسی کے ساتھ
اس شعر میں روشنی کا مفہوم تلاش کرتے ہوئے اکبر الہ آںادی کے شہر میں نہ پہنچ جائیے گا ۔ ویسے بھی اگر شعر سمجھ گئے ہوں تو بھی، ٹھیک نہیں سمجھے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں بس آپ کی سمجھ اور دیش کے صورتحال پر اتنا ہی کافی ہے کہ عدالت، سنودھان اور قانون سب کی انا للّٰہ وانا الیہ راجعون 🫢🫢🫢🫢

