1996ء کی بات ہے۔ میں حرم شریف میں پہلی صف پہ بیٹھا جماعت کا منتظر تھا۔ میرے برابر میں پولیس والے کھڑے تھے جو لوگوں کو امام کے پیچھے پہلی صف پہ بیٹھنے سے منع کررہے تھے تاکہ امام کے ساتھ آنے والے علماء ومشاٸخ کیلٸے کوٸی تنگی نہ ہو۔ اس دوران طواف کرتا ایک کمزور بوڑھا شخص آگیا اور پہلی صف میں بیٹھنے لگا تو پولیس والے نے اسے سختی سے منع کردیا۔ وہ بےچارہ شرمندہ ہوکر اٹھ گیا۔ جگہ خالی تھی اور جماعت کھڑی ہونے میں کچھ وقت بھی باقی۔ تو وہ بوڑھا دوبارہ طواف میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر میں ایک چکر پورا کرکے آیا اور دیکھا کہ پولیس والا پیچھے کسی شخص کے ساتھ الجھا ہوا ہے تو اسے مصروف پاکر اس بوڑھے شخص نے پہلی صف کی خالی جگہ پہ قبضہ کرکے نفل کی نیت باندھ لی۔

پولیس والے نے دیکھا تو آگ بگولہ ہوگیا۔ بوڑھا نماز پڑھتا رہا اور پولیس والا اس کے سر پہ کھڑا رہا۔ جیسے ہی بزرگ نے سلام پھیرا تو اہلکار نے اسے سختی سے پکڑ کر اٹھالیا۔ بزرگ نے نرم لہجے میں کہا کیا ہوا بھٸی خیر تو ہے؟ اہلکار نے جواب دیا یہ جگہ علماء ومشاٸخ کیلٸے مختص ہے۔ تم یہاں کیوں بیٹھے؟ بزرگ نے کہا کہ جب وہ وقت پہ نہیں آٸیں گے تو ہم عوام کا ہی پہلی صف پہ زیادہ حق ہوگا ناں۔ یہ سن کر اہلکار بزرگ کو اٹھا کر پیچھے پھینکنے والا تھا کہ امام شیخ شریم آگٸے اور اس بوڑھے کو دیکھ کر مصلے سے پیچھے پلٹے اور اس سے درخواست کرنے لگے کہ حضرت آپ نماز پڑھا دیں۔ مگر اس بزرگ نے انکار کر دیا۔ کسی نے اہلکار کے کان میں سرگوشی کی۔ یکایک وہی اہلکار بزرگ کے ہاتھوں کا بوسہ لیکر معذرت کرنے لگا۔ معلوم ہوا دراصل یہ بزرگ سعودی عرب کے نامور عالم دین اور محدث شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ تھے۔ مگر تواضع وعاجزی اور انکساری ایسی کہ دکھنے میں ایک عام دیہاتی معلوم ہوتے۔ اس لیے اہلکار سمیت کسی نے نہیں پہچانا تھا۔

شیخ ابن عثیمین علماے ربانیین میں سے تھے۔ آخری عمر میں کینسر لاحق ہوا۔ حکومت علاج کیلٸے بیرون بھیجنا چاہتی تھی۔ مگر پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سفر نہ کرسکے۔ پاسپورٹ کیلٸے بھی تصویر بنانے پہ شیخ آمادہ نہیں تھے۔ مٹی کے بنے کچے گھر میں زندگی گزار دی۔ شاہ فہد نے عالیشان محل بنا کر دیا۔ لیکن شیخ نے دینی طلبہ کیلٸے وقف کر دیا اور خود کچے مکان میں زیست مستعار کے معدود ایام بِتا دیئے۔

ہمارے شیخ مفتی عبد الروف غزنوی صاحب بھی ان کے شاگرد ہیں۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ شیخ میں عجز و انکسار کی صفت ایسی ٹوٹ ٹوٹ کر بھری ہوئی تھی کہ کبھی گھر سے بغیر چپل پہنے برہنہ پیر بھی پڑھانے تشریف لے آتے۔ ایک بار وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ابوداؤد شریف کی حدیث میں ہے کہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی کبھار ایسا کیا کرتے تھے۔

مفتی عبد الشکور صاحب کے کچے مکان کی تصویر دیکھ کر یہ پرانی پوسٹ یاد آئی۔

(نوٹ۔۔۔ یہ ایک عرب راٸٹر کی تحریر ہے، جس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے