سہارنپور (احمد رضا): نظام احمد قادری مصباحی بانی تحریک پیغام انسانیت انڈیا نے حالات حاضرہ پر پریس کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ظلم کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں جٹا پانا اور ملت اسلامیہ میں پھلتی پھولتی غیر اسلامی رسمیں ہم سب کے لئے بیحد سنگین صورت حال پیدا کر سکتی ہیں لگاتار پچھلے دس سالوں سے ملک میں مسلم آبادی کے خلاف ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف ہماری خاموشی نے ہمکو پستی کے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے ہم سبھی طرح کے حملہ برداشت کر نے لگے ہیں نتیجہ کے طور پر کمزور اور بد کردار لوگ ہمارے سروں پر پاؤں رکھنے لگے ہیں! ہمارے مسلم معاشرے میں غیر ضروری رسمیں عروض پر ہیں لوگ ضروری رسم ورواج کوچھوڑ کر غیر ضروری رسم ورواج میں الجھے ہوئے ہیں بہت سے غیر ذمے دار لوگ اسی میں الجھائے ہوئے ہیں کہ حضرت فلاں تاریخ کو فلاں جگہ چادر چڑھانی ہے اور اتنا ڈیک کرنا ہے وغیرہ وغیرہ میں نے مختلف مدارس دینیہ کا دورہ کیا جو اسلام کے قلعے ہیں لوگ وہاں جاکر خرچ نہیں کرتے ہیں یا محلہ پڑوس میں کوئی عورت بیوہ ہے اس کے خورد ونوش پر دھیان نہیں دیتے بہت ساری یتیم بچیاں تعلیم وتربیت سے محروم ہیں، ان پر توجہ نہیں دیتے۔ آج ہمارے پاس اسکول وکالج نہ ہونے کی وجہ سے سیکڑوں بچیاں مرتد ہورہی ہیں ہماری توجہ اس پر نہیں ہوتی مساجد ومدارس علماء کرام وائمہ کرام جو مرنے کے بعد ہماری مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں، ہمارے جنازے کی نماز پڑھتے ہیں مرنے کے بعد وہی طلباء وطالبات ہمارے حق میں قرآن مقدس کی تلاوت کرتے ہیں ہمارے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں ہماری توجہ اس پر نہیں ہے اکثر مدارس دینیہ طلباء وطالبات کے کھانے پینے رہنے سہنے کے معقول انتظام نہیں ہے ہماری توجہ اس پر نہیں ہے بس غیر ضروری کاموں غیر ضروری رسموں کو بڑے اہتمام سے کرتے ہیں کسی کے پاس بیلنس آگیا تو حج پر حج عمرہ پر عمرہ کئے جارہے ہیں  اور سیکڑوں فون اور میسج آتے ہیں کہ حضرت اسلام کی ترقی نہیں ہورہی ہے میرے بھائی اسلام کی ترقی تب ہوگی جب ہماری طاقت وقوت صلاحیت مال ودولت کا صحیح استعمال ہوگا تب جاکر اسلام اور مسلمانوں کی ترقی ہوسکتی ہے اور خوشحالی آسکتی ہے متاثرین مسلم علاقے میں سیکڑوں جوان بچیاں ارتداد کی شکار ہورہی ہیں بیلنس کی دقت ہے شکل وصورت میں تھوڑی کمی محسوس ہوئی رشتہ کینسل ہمارے اندر نفس پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ہم کہتے ہیں  کہ مسلمان آج کل بہت پریشاں حال ہے جب آپ مسلمان ہوکر اپنے بھائی پر رحم نہیں کھارہے ہو تو غیر کیوں کھائے گا ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر لوگ غیر ضروری رسموں پراتنے  دھیان کیوں دیتے ہیں ایسے پرفتن پرآشوب دور میں نہیں سنھبلیں گے تو کب سنھبلیں گے اگر میری بات ماننے کے قابل ہے تو ضرور عمل کریں ان شاءاللہ عزوجل آپ حضرات نے توجہ دی تو یقیناً حالات بہتر سے بہتر ہوجائیں گے رب ذوالجلال اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے امت مسلمہ کے جان و مال عزت وآبرو ایمان و عقید ے کی حفاظت فرمائے اور نظر بد سے بچائے آمین ثم آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے