تحریر: محمد آصف متعلم جامعہ ملیہ اسلامیہ
قرون اولیٰ کے پادری سینٹ کلیمینٹ (150 تا 215ءSt. Clement of Alexendria) جنہیں "چرچ کا باپ” (Father of Church) کہا جاتا ہے، عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق لکھتے ہیں :
"عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے سال کا اندازہ تو ہم لگا سکتے ہیں جو کہ سال 5 (ق. م) کا آخر یا سال 4 (ق. م) کا شروع بنتا ہے – لیکن عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے ماہ اور دن کے متعلق ہم نہیں جانتے!”
(Clem.Alex.Strom,i.21,§145)
ایک اور جگہ پادری کلیمنٹ نے مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا سال 3 (ق. م) بتایا ہے –
(Christianity and the Roman Empire: Background Texts, Ralph Novak, page 282)
بائبل کے مختلف مؤرخین نے مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے دن جو شمار کیے ہیں وہ 19 یا 20 اپریل، 30 مئی اور 6 جنوری وغیرہ ہیں.
پادری کلیمنٹ نے جو دن مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق اپنے اندازے سے بتایا ہے وہ 17 نومبر ہے –
انگلینڈ کے سب سے بڑے چرچ ویسٹ منسٹر ایبے کے پادری فریڈرک ولیم فیررنے اپنی کتاب "حیات المسیح” (Life of Christ) میں یہ تسلیم کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا کہیں پتہ نہیں چلتا !!
انجیلوں سے صرف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ گڈریے اس رات کھلے آسمان تلے اپنی بھیڑوں کے ریوڑ لیے ہوئے بیت اللحم کے کھیتوں میں موجود تھے.
لوقا نے اسے اپنی انجیل میں یوں بیان کیا ہے:
"جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس(مریم) کے وضعِ حمل کو وقت آ پہُنچا۔ اور اُس کا پہلوٹا بَیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھ دیا کِیُونکہ اُس کے لیے سرائے میں جگہ نہ تھی۔ اُسی علاقہ میں چرواہے بھی موجود تھے جو رات کے وقت کھلے مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نگہبانی کر رہے تھے۔”
(عہد نامہ جدید ، انجیل لوقا ، باب: 2 ، فقرات: 6 تا 8)
انسائیکلوپیڈیا برٹینکا میں کرسمس سے متعلق لکھا ہے کہ دسمبر کا مہینہ تو ملک یہودیہ میں سخت بارشوں کا مہینہ ہوتا ہے ان دنوں میں کس طرح بھیڑیں یا گڈریے کھلے آسمان تلے رہ سکتے ہیں؟ – پہلی چار صدیوں (400 سال) تک 25 دسمبر مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا دن نہیں سمجھا جاتا تھا – 530 ء میں سیتھیا کا ایک راہب "ڈایونیس اکسیگز” جو منجم بھی تھا ولادت مسیح کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا تھا – اس نے مسیح علیہ السلام کی تاریخ ولادت 25 دسمبر مقرر کردی کیونکہ مسیح سے پانچ چھ صدی قبل 25 دسمبر رومی یونانی بت پرست تہذیبوں میں ایک مقدس تاریخ تھی –
رومیوں کے ہاں یہ سورج دیوتا کی پیدائش کا دن تھا، چونکہ 25 دسمبر کے بعد دن طویل ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور راتیں چھوٹی ہونے لگتی ہیں جسے میٹرولوجی میں ونٹر سولسٹائس (winter solstice) کہتے ہیں ،25 دسمبر کو سورج دیوتا کی پیدائش سے منسوب یہ دن رومی بت پرست تہذیب میں قومی تہوار، قومی جشن کا دن ہوتا تھا اور اس دن ملک بھر میں قومی چھٹی ہوتی تھی –
روم میں اس تہوار کا نام سیٹرن ایلیا (Saturnalia) تھا ، اس دن لوگ جشن مناتے، دعوت طعام ہوتی اور آپس میں تحائف کا تبادلہ کرتے تھے –
سو مذکورہ راہب نے سورج پرست اقوام رومی و یونانی اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ 25 دسمبر مقرر کردی تھی !!
قرآن مجید کی سورہ مریم میں ، مریم علیہ السلام کی زچگی کا ذکر ہوا ہے جس نے انھیں کھجور کے درخت کے پاس پہنچا دیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت فرمائی:
"اور کھجور کے درخت کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ، چیدہ اور تازہ کھجوریں تمہارے لیے گریں گی۔ پس کھاؤ پیو اور اپنی آنکھ ٹھنڈی کرو-” (سورہ مریم ، آیات : 25 تا 26)
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کھجور سخت گرمی کا پھل ہے اور فلسطین میں کھجوریں پکنے کا موسم سال کا وسط یعنی جولائی اور اگست کے ماہ ہیں جن میں کھجوریں ہوتی ہیں –
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کی پیدائش ماہ جولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی اور 25 دسمبر کی تاریخ غلط ہے –
