ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔ بجنور
یوں تو انسان کی شخصیت کو نکھارنے اور اس کو رفعت و بلندی بخشنے کے لیے بہت سے اوصاف حمیدہ ہیں جن سے انسان کا کردار اور سیرت نکھرتی، بنتی اور سنور تی ہے لیکن ان میں دو اصاف کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ایک علم اور دوسرے حلم۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ علم سے انسان کو سماج میں بہت اونچا مقام حاصل ہوتا ہے جس شخص کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ ممتاز اور قابل قدر ہوتا ہے۔علم سے مراد صرف معلومات حاصل کرلینا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ان حقائق تک پہنچنا ہے جو اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائے ہیں اور پوری کائنات میں پیدا کیے ہیں۔جو فطری صلاحتیں انسان کو دی ہیں ان کی نشو نما کرنا ہے۔جو اوصاف حمیدہ انسان کو عطا کیے گئے ہیں ان کی شناخت کرکے اپنی زندگی میں اتارنا ہے نیز علم یہ ہے کہ رذائل اخلاق کا ادراک کرکے اپنے آپ کو ان سے دور رکھنا ہے۔کائنات میں جو اسرار و رموز ہیں ان کا انکشاف اور فطری تقاضوں تک رسائی اور ان کی تکمیل کی کوشش کرنا علم ہے۔ زندگی گزارنے کے صحیح راستہ کا علم حاصل کرنا اور اس پر چل کر اپنی منزل تک پہنچنا ہی اصل علم ہے۔اسی علم کو اسلام نے فرض کیا ہے۔اسی کے بارے میں اللہ کے رسولؐ دعا کیا کرتے تھے۔رب زدنی علما (اے اللہ تو میرے علم میں اضافہ فرما۔)وہ علم جو انسان کو اس کے خالق تک پہنچا سکے۔جو اسے اپنے نفس اور فطرت کی معرفت عطا کرسکے، وہ علم جو انسان کو زندگی میں صحیح راستے پر چل کر منزل مقصود تک پہنچاسکے جو اس کے مطلوبہ اہداف کے حصول میں اس کی رہنمائی کرسکے۔یہی وہ علم ہے جس کو اللہ کے رسول ؐ نے فرض قرار دیتے ہوئے فرمایا:” طلب العلم فریضۃ علی کل مسلمٍ ” کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
انسان کو زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ معلوم ہو۔اسے یہ معلوم ہو کہ اللہ کی رضا کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اور انسان اس دنیا کی زندگی کو مرضی الٰہی کے مطابق کس طرح گزار سکتا ہے؟اس کے جاننے کا نام علم ہے۔لیکن اگر علم کے ساتھ حلم و بردباری اور صبر و تحمل نہ ہو تو صرف علم انسان کی زندگی کو مزین نہیں کرسکتا۔جس فلسفہ کو ہم گاندھی جی کا فلسفہ کہتے ہیں یعنی اہنساء کا فلسفہ۔یہ حلم و بردباری اور تحمل کا وہ فلسفہ ہے جو اسلام نے انسان کو پندرہ سو سال پہلے سکھایا ہے اور قرآن پاک میں جگہ جگہ صبر و تحمل اختیار کرنیکی تلقین کی گئی ہے۔
ہمارے اسلاف کو خاص طور پر صحابہ کرام ؓ اور تابعین عظام ؒ کو کردار کی جو بلندی عطا ہوئی تھی اس میں حلم و تحمل ایک بڑا وصف تھا۔جس کی وجہ سے وہ دنیا پر چھاتے چلے گئے اور اسلام اپنے علم اور حلم کے ذریعہ سے دنیا کے ایک بڑے حصہ پر غالب ہوگیا۔اللہ کے رسولؐ دعا کیا کرتے تھے ” اللہم اعنی بالعلم و زینی بالحلم ” (اے اللہ علم کے ذریعہ میری مدد فرما اور حلم کے زیور سے مجھے آراستہ فرما۔ حلم،تحمل اوربردباری کے ذریعہ میرے کردار کو سنوار دے۔)بعض روایات میں یہ الفاظ آتے ہیں۔:” اللہم اغنینی بالعلم وزینی بالحلم ” (اے اللہ علم کے ذریعہ مجھے بے نیاز کردے اور مالا مال کردے اور مجھے حلم و بردباری کا جمال عطا فرما،میری زندگی کو حلم و بردباری کی زینت عطا فرما۔)یہ صرف آنحضور ؐ کا قول ہی نہیں تھا بلکہ آپؐ کی پوری زندگی علم اور حلم کے زیور سے آراستہ تھی۔نہ صرف اپنے دوستوں اور رفقاء کے ساتھ آپؐ حلم و بردباری اختیار فرماتے بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی آپؐ نہایت بردباری سے پیش آتے۔
ایک بار ایک شخص جو آپؐ کا مہمان تھا وہ مسجد میں ہی پیشاب کرنے لگا،چونکہ نیانیا مسلمان ہوا تھا اسے بول و براز کے آداب معلوم نہیں تھے اور نہ مسجد کے آداب سے وہ واقف تھا۔ظاہر ہے یہ ایسی حالت تھی جس پر غصہ آنا چاہیے تھا۔صحابہ کرام ؓ نے جب یہ دیکھا تو انھیں غصہ آیا اور اس سخص کو ڈانٹنے ڈپنے لگے اور اس کو بھگانے لگے لیکن اللہ کے رسولؐ کی بردباری دیکھیے۔آپؐ نے صحابہؓ سے کہا: ” ٹھہرو، اسے پیشاب کرلینے دو ” جب وہ پیشاب کرچکا تو آپؐ نے خود ہی اس جگہ پر پانی بہادیااور اس طرح مسجد کو پاک کردیا پھر صحابہؓ سے فرمایا کہ اگر تم اسے بھگاتے تو مسجدمیں جگہ جگہ نجاست پھیل جاتی۔کیونکہ وہ تمہاری ڈانٹ ڈپٹ سے ڈر کرادھر ادھر بھاگتا اور مسجد جگہ جگہ سے گندی ہوجاتی،وہ شخص اسلام سے بھی بد ظن ہوجاتا۔آپ ؐ نے بعد میں اس شخص کو مسجد اور طہارت و نظافت کے آداب سکھائے۔
سیرت کی کتابوں میں ہمیں ایک بہت اہم واقعہ ملتا ہے۔حضرت زید بن صنعہ ایک بہت بڑے یہودی عالم تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے انھوں نے غزوات میں بھی شرکت کی یہاں تک کہ غزوہ تبوک میں جام شہادت نوش کیا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب رسول اللہ ﷺکی بعثت کے بارے میں سنا تو میں نے ان علامات نبوت کو دیکھنے کی کوشش کی جو توریت و انجیل میں بیان کی گئی تھیں جیسا کہ خود قرآن پاک میں اس کی شہادت دی گئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ کے اندر تمام علامات دیکھ لیں سوائے دو علامتوں کے۔ایک یہ کہ غصہ پر قابو پانا اور دوسرے یہ کہ جو جتنی زیادہ جہالت اور اجڈ پن کا مظاہرہ کرے اس کے ساتھ اس سے زیادہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرنا۔میں ہر پل اس تلاش و جستجو میں رہا کہ یہ دو علامتیں بھی کسی طرح دیکھ لوں۔اسی وجہ سے میں نے آپؐ کی خدمت اپنی آمد و رفت میں اضافہ کرلیا۔ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ حضرت علیؓ کے ساتھ آپؐ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسولؐ میری قوم مسلمان ہوگئی ہے۔میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤگے تو اللہ تعالیٰ تمہارے رزق میں کشادگی عطا فرمائے گا۔مگر ہوا یہ کہ جب میری قوم مسلمان ہوگئی تو ہمارے گاؤں میں قحط پڑگیا اور میری قوم مصیبت میں گھر گئی۔اے اللہ کے رسولؐ میری مدد کر دیجیے تاکہ میں اپنی قوم کو جاکر کچھ دے سکوں۔انھیں بھوکا مرنے سے بچا سکوں۔آپؐ نے حضرت علیؓ کی طرف دیکھا۔اس لیے کہ آپؐ کے پاس جو صدقات آتے تھے انھیں حضرت علیؓ ہی تقسیم کرتے تھے۔حضرت علیؓ نے بتایا:۔”کچھ نہیں ہے،جوتھا سب تقسیم کردیا گیا ہے ”
حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں بھی وہاں موجود تھا اور سب کچھ سن رہا تھا۔میں نے عرض کیا:۔” اے اللہ کے رسولؐ اگر آپ فصل آنے پر فلاں باغ کی اتنی کھجوریں دینے کا وعدہ کریں تو میں آپؐ کو اسی مثقال سونا دے سکتا ہوں ”
آپؐ نے فرمایا”۔ باغ تو متعین نہ کرو البتہ کھجوریں طے کرلو۔اس لیے کہ ہمیں نہیں معلوم اس باغ کی فصل کیسی ہو گی؟ ” حضرت زید کہتے ہیں کہ میں اس بات پر راضی ہوگیا اور کھجوروں کی ایک مقدار متعین کردی گئی۔میں نے اسی مثقال سونا آپؐ کو دے دیا۔پھر ہوا یوں کہ میں وقت متعینہ سے چند دن پہلے ہی آنحضورؐ کی خدمت میں پہنچ گیاکیوں کہ مجھے تو آپؐ کو آزمانا تھا۔اس وقت آپؐ کے پاس حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان غنیؓ موجود تھے۔میں نے زور سے اور نہایت بد تمیزی اور گستاخی کے ساتھ آپ کی چادر کھینچی اور کہا ”محمدؐ میرا قرض واپس کرو” اور میں نے یہ بھی کہا کہ تمہارا خاندان نادہندہ ہے۔تم عبد المطلب کی اولاد ہو اور تم سب کے سب قرض لے کر واپس نہ کرنے والے ہو۔میری بدتمیزی دیکھ کر حضرت عمر ؓ نے کہا ” اے بدتمیز شخص اور دشمن خدا میرا جی چاہتا ہے کہ تلوار سے تیری گردن اڑادوں،اگر مجھے آپ ؐ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑادیتا۔حضرت زید بیان کرتے ہیں کہ آنحضورؐ نہایت صبر و تحمل سے مجھے دیکھتے رہے اور زیر لب مسکرا تے رہے ۔اس کے بعد آپؐ نے فرمایا:۔’’اے عمرؓ اس کے بجائے تمہارے لیے یہ زیادہ بہتر تھا کہ تم مجھ سے کہتے کہ آپ اس کا قرض ادا کردیجیے اوراس سے کہتے کہ مزید چند روز کی مہلت اور دے دیجیے اوراپنا مطالبہ نرمی سے کیجیے۔‘‘اس کے بعد آپؐ نے حضرت عمر ؓ کو حکم دیا کہ جاؤ معاہدے کے مطابق اس شخص کی جتنی کھجوریں بنتی ہیں وہ اسے دے دو اور بیس صاع زیادہ دے دینا۔اس لیے کہ تم نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ حضرت زید ؓ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بیس صاع زیادہ کھجوروں کے ساتھ ان کا مطالبہ پورا کردیا۔حضرت زید نے کہا کہ بیس صاع زیادہ کیوں دے رہے ہو؟ حضرت عمرؓ نے کہا میں نے جو تمہیں برا بھلا کہہ دیا ہے اس کے عوض ایسا کرنے کا حکم مجھے آنحضورؐ نے دیا ہے۔حضرت زید بن صنعہ نے کہا کہ اے عمر ؓ تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔حضرت عمرؓ بولے:۔’’ نہیں‘‘حضرت زید نے کہا کہ میں یہودیوں کا عالم زید بن صنعہ ہوں۔یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا کہ اتنے بڑے عالم ہوکر تم نے کس لہجہ میں حضورؐ سے بات کی۔تمہارے علم کا تقاضہ تو یہ تھا کہ نہایت ادب سے بات کرتے۔حضرت زید بن صنعہ نے کہا کہ اے عمر ؓ میں نے نبوت کی تمام علامتیں آپؐ میں دیکھ لی تھیں مگر دو علامتیں باقی تھیں۔ایک آپؐ کا حلم اور بردباری اور دوسرے یہ کہ کوئی شخص اگر آپؐ کے ساتھ اجڈ پن کا رویہ اختیار کرے تو آپؐ کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔تو میں نے ان دونوں علامتوں کو صحیح پایا۔اب دونوں علامات نبوت کی تصدیق ہوگئی ہے۔اب میں ایمان لاتا ہوں۔یہ کہہ کر حضرت زید نے کلمہ شہادت ادا پڑھا۔
یہ ہے وہ حلم و بردباری جو اللہ کے رسولؐ نے عملاً پوری ملت کو سکھائی ہے۔مگر آج ہم اس صفت سے دور ہوگئے ہیں۔ہماری زبانیں نہ صرف دشمنوں کے لیے بلکہ دوستوں کے لیے بھی قینچی کی طرح چلتی ہیں۔ہم مسجدوں میں بھی لڑ پڑتے ہیں اور وہاں بھی قتل و خون کی نوبت آجاتی ہے۔آئے دن اس طرح کی خبریں آتی رہتی ہیں کہ ایک شخص تشہد میں انگلی اٹھا رہا تھا تو دوسرے شخص نے اس کی انگلی توڑ دی،دو لوگوں نے آپس میں لین دین کیا تو ان میں مارپیٹ ہوگئی۔ایک شخص نے زور سے آمین کہہ دیا تو امام صاحب نے اسے آئندہ مسجد میں قدم نہ رکھنے کی دھمکی دے دی۔غیر تو غیررہے ہم تو اپنوں پر بھی غصہ کو کنٹرول نہیں کرپاتے ہیں۔شادی بیاہ میں ذرا سی بات پر لاٹھیاں نکل آتی ہیں،ذرا سی بات پر طلاقیں ہوجاتی ہیں،خاندانوں اور برادریوں کے درمیان اس قسم کے واقعات آئے دن دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔جب کہ یہ مسائل حلم و بردباری سے حل ہوسکتے ہیں۔جس حلم و بردباری سے متاثر ہوکر ماضی میں لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے۔آج ہمارے اشتعال اور غصہ کو دیکھ کر لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہوئے جاتے ہیں۔ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے۔آج پوری دنیا میں گاندھی جی کے اہنسا کا چرچا ہوتا ہے۔ہندوستان میں بھی اہنسا کو گاندھی جی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہے کہ گاندھی جی نے اہنسا کی تعلیم دی ہے۔لیکن اسلام نے ان سے زیادہ اہنسا،حلم اور بردباری کی تعلیم دی ہے۔کاش ہمارا عمل ان تعلیمات کے مطابق ہوتا اور لوگ اس باب میں سیرت کا حوالہ دیا کرتے۔اگرچہ تاریخ اسلامی میں حلم و بردباری پر مبنی ہزاروں واقعات موجود ہیں۔مگر وہ ہمارا ماضی تھا۔ہمارا حال ہمارے ماضی سے متضاد ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا بھولا ہوا سبق یاد کریں اور دنیا کے لیے بہترین مثال بنیں۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
